سمندر میں تیرتے ہوئے مستقبل کے شہر کا خواب اب ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جہاں “فریڈم شپ” نامی منصوبے کو دنیا کا سب سے بڑا تیرتا ہوا شہر بنانے کی تجویز کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق یہ تصوراتی منصوبہ ایک دیوہیکل کروز شپ پر مشتمل ہوگا جسے مکمل طور پر ایک خود کفیل شہر کی شکل دی جائے گی۔ کمپنی “فریڈم کروز لائن انٹرنیشنل” کے مطابق اس جہاز میں رہائش، کاروبار، تعلیم، صحت اور تفریح سمیت تمام شہری سہولیات فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔
یہ خیال پہلی بار 1990 کی دہائی میں امریکی انجینیئر نارمن نکسن نے پیش کیا تھا، تاہم اب ایک بار پھر اس پر عملی پیش رفت کی کوششیں شروع ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ منصوبے کے مطابق فریڈم شپ کی لمبائی تقریباً ایک میل تک ہوگی، جو اسے دنیا کے موجودہ سب سے بڑے کروز شپ سے کئی گنا بڑا بنا دے گی۔
شپ کا ڈیزائن
مجوزہ ڈیزائن کے مطابق یہ تیرتا ہوا شہر تقریباً 50 ہزار مستقل رہائشیوں، ہزاروں مہمانوں اور ہزاروں عملے کو جگہ فراہم کرے گا۔ اس میں اپارٹمنٹس، اسکول، اسپتال، شاپنگ مالز، دفاتر اور تفریحی مراکز شامل ہوں گے، جس سے یہ ایک مکمل خود مختار شہر کی شکل اختیار کرے گا۔
رپورٹس کے مطابق اس منصوبے کی سب سے بڑی رکاوٹ بھاری سرمایہ کاری ہے، جس کے لیے 16 ارب ڈالر سے زائد رقم درکار ہوگی۔ اس کے علاوہ اس سائز کے جہاز کی تعمیر اور بندرگاہی مسائل بھی بڑے چیلنجز ہیں، کیونکہ یہ کسی عام بندرگاہ میں داخل نہیں ہو سکے گا۔
مذید خبریں
سعودی عرب میں ابتدائی اسلامی دور سے متعلق آثارِ قدیمہ کی دریافت – urdureport.com
ممتاز محل:چودھویں زچگی میں وفات پانے والی ملکہ کی محبت اور قربانی کی لازوال داستان – urdureport.com
منصوبہ ساز کمپنی کا کہنا ہے کہ فریڈم شپ کو جوہری توانائی سے چلانے کا امکان بھی زیر غور ہے تاکہ اس کی توانائی کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ جہاز مستقل طور پر دنیا کے مختلف سمندری راستوں پر سفر کرتا رہے گا۔
یہ جہاز امریکی کروز کمپنی رائل کیریبین انٹرنیشنل کی ملکیت ہے اور جدید کروز انڈسٹری کا ایک نمایاں شاہکار سمجھا جاتا ہے۔
اگرچہ یہ منصوبہ ابھی عملی شکل اختیار نہیں کر سکا، لیکن ماہرین کے مطابق اگر یہ حقیقت بن گیا تو سمندری رہائش اور سیاحتی صنعت میں ایک انقلابی تبدیلی لا سکتا ہے۔


