اسلام آباد: وفاقی حکومت نے نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں موبائل فون صارفین کے لیے اہم ریلیف اقدامات شامل کر دیے ہیں، جن کے تحت درآمدی موبائل فونز پر عائد بعض ٹیکسوں میں کمی اور پی ٹی اے ٹیکس کی ادائیگی کو آسان بنانے کی منظوری دی گئی ہے۔
قومی اسمبلی سے منظور ہونے والے فنانس بل کے مطابق امپورٹڈ موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں نمایاں کمی کی جا رہی ہے جبکہ صارفین کو پہلی مرتبہ یہ سہولت بھی ملے گی کہ وہ موبائل رجسٹریشن کے لیے درکار پی ٹی اے ٹیکس ایک ہی بار ادا کرنے کے بجائے قسطوں میں جمع کرا سکیں گے۔
حکومتی فیصلے کے بعد یکم جولائی 2026 سے ملک میں درآمد شدہ موبائل فونز کی قیمتوں میں کمی کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں، جس سے صارفین اور موبائل مارکیٹ دونوں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
قومی اسمبلی میں معاملہ
یہ معاملہ اس وقت نمایاں ہوا جب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں موبائل فونز پر عائد بھاری ٹیکسوں کا مسئلہ اٹھایا گیا۔ کمیٹی کے ارکان نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ دور میں موبائل فون تعیشات نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کی بنیادی ضرورت بن چکے ہیں، اس لیے ان پر عائد ٹیکسوں میں کمی کی جانی چاہیے۔
مذید خبریں
پاکستان میں 5G سروس کا آغاز : کیا آپ کا فون سپورٹ کرتا ہے؟ – urdureport.com
درامدی موبائل فون ٹیکسز یا کسٹم ویلیو میں کمی،جانئیے قیمت میں کتنی کمی ہوئی – urdureport.com
ابتدائی طور پر یہ تجاویز بجٹ کا حصہ نہیں بن سکیں، تاہم بعد ازاں قائمہ کمیٹی کی سفارشات پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے نظرثانی کرتے ہوئے متعدد تبدیلیوں پر اتفاق کیا، جنہیں اب فنانس بل میں شامل کر لیا گیا ہے۔
منظور شدہ اقدامات کے تحت 200 سے 300 امریکی ڈالر مالیت کے درمیانی درجے کے اسمارٹ فونز پر بھی ٹیکسوں میں کمی کی جا رہی ہے، جس سے اس قیمت کے زمرے میں آنے والے فونز نسبتاً سستے ہونے کی توقع ہے۔
فنانس بل میں شامل نئی شق کے مطابق صارفین پی ٹی اے ٹیکس کو قسطوں میں ادا کر سکیں گے۔ اس مقصد کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) اور ایف بی آر مشترکہ طور پر ایک طریقہ کار مرتب کریں گے تاکہ رجسٹریشن کے عمل کو مزید آسان بنایا جا سکے۔
درامدی فونز کی قیمتیں
اس وقت پاکستان میں درآمدی موبائل فونز پر مختلف قیمتوں کے حساب سے 25 فیصد سے 41 فیصد تک ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ زیادہ قیمت والے پریمیم اسمارٹ فونز پر ٹیکس کی شرح سب سے زیادہ ہے، جس کی وجہ سے کئی فونز کی رجسٹریشن لاگت ایک لاکھ روپے سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔
موبائل فون کاروبار سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اگر نئی پالیسی پر مکمل عملدرآمد ہوا تو متعدد ماڈلز کی قیمتوں میں 10 سے 15 ہزار روپے تک کمی آ سکتی ہے۔ ان کے مطابق پی ٹی اے ٹیکس کی قسطوں میں ادائیگی کی سہولت بھی صارفین کے لیے بڑی آسانی ثابت ہوگی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اقدامات مارکیٹ کے لیے مثبت پیش رفت ہیں، تاہم موبائل فون سیکٹر کی مکمل بحالی اور صارفین کو مزید ریلیف دینے کے لیے مستقبل میں ٹیکسوں کی شرح مزید کم کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے تاکہ قانونی درآمدات اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔


