اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اگر کوئی خریدار جائیداد کی خریداری کے معاہدے کے تحت طے شدہ مدت میں بقایا رقم ادا نہ کرے تو وہ فروخت کنندہ کو زبردستی لین دین مکمل کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔
عدالت نے کہا کہ معاہدے پر عمل درآمد (Specific Performance) کا مطالبہ کرنے والے فریق کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی آمادگی، سنجیدگی اور مالی استطاعت ثابت کرے۔
یہ فیصلہ جسٹس شکیل احمد اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بینچ نے جاری کیا، جسے قانونی رپورٹنگ کے لیے بھی منظور کیا گیا ہے۔
مقدمے کی تفصیل
مقدمہ سیالکوٹ میں واقع 5 کنال 4 مرلہ جائیداد کی فروخت سے متعلق تھا۔ معاہدے کے مطابق خریدار امجد جاوید نے 11 مارچ 2014 کو 8 لاکھ روپے بطور بیعانہ ادا کیے تھے جبکہ باقی 64 لاکھ 80 ہزار روپے 27 جولائی 2014 تک ادا کرنا تھے۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نشاندہی کی کہ معاہدے میں واضح طور پر درج تھا کہ مقررہ وقت میں بقایا رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں بیعانہ ضبط کر لیا جائے گا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ادائیگی کی مقررہ مدت معاہدے کا بنیادی اور لازمی حصہ تھی۔
عدالت کے مطابق خریدار مقررہ وقت میں رقم ادا کرنے میں ناکام رہا اور بعد ازاں اس نے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے عدالت سے رجوع کیا۔ تاہم ٹرائل کورٹ کی جانب سے دو مواقع دیے جانے کے باوجود اس نے بقایا رقم جمع نہیں کروائی اور مسلسل مزید مہلت طلب کرتا رہا، جس پر عدالت نے اس کا دعویٰ مسترد کر دیا۔
عدالت کا حکم
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر خریدار واقعی معاہدہ مکمل کرنے میں سنجیدہ ہوتا تو عدالت کی ہدایت کے مطابق بقایا رقم جمع کروا دیتا۔ محض عدالتی دستاویزات میں آمادگی اور رضامندی کا دعویٰ کافی نہیں بلکہ مالی استطاعت اور عملی اقدامات بھی ثابت کرنا ضروری ہیں۔
عدالت نے مزید کہا کہ جائیداد کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے باعث اب یہ تصور خودکار طور پر لاگو نہیں کیا جا سکتا کہ جائیداد کے معاہدوں میں وقت کی پابندی غیر اہم ہوتی ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ کوئی خریدار اپنی ذمہ داریاں پوری کیے بغیر فروخت کنندہ کو غیر معینہ مدت تک معاہدے کا پابند نہیں رکھ سکتا۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ خریدار نے بقایا رقم تقریباً ساڑھے تین سال بعد جمع کروائی، جو معاہدے اور عدالتی مقررہ مدت دونوں کے ختم ہونے کے کافی عرصے بعد تھی۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ خریدار مطلوبہ مستعدی، آمادگی اور سنجیدگی ثابت کرنے میں ناکام رہا، اس لیے وہ معاہدے پر عمل درآمد کا حق دار نہیں۔ عدالت عظمیٰ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے خریدار کی اپیل مسترد کر دی۔


