• Home  
  • افغان کارڈ ختم کرانے کے لیے 26 ہزار درخواست گزار کون، نادرا نے تفصیلات دے دیں
- پاکستان

افغان کارڈ ختم کرانے کے لیے 26 ہزار درخواست گزار کون، نادرا نے تفصیلات دے دیں

پشاور: نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے انکشاف کیا ہے کہ افغان شہریت یا پناہ گزین کارڈ منسوخ کرانے کے لیے 26 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، جن میں بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جو خود کو پاکستانی شہری قرار دیتے ہیں۔ یہ تفصیلات نادرا کی جانب سے پشاور […]

پشاور: نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے انکشاف کیا ہے کہ افغان شہریت یا پناہ گزین کارڈ منسوخ کرانے کے لیے 26 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، جن میں بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جو خود کو پاکستانی شہری قرار دیتے ہیں۔

یہ تفصیلات نادرا کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں سامنے آئیں، جہاں متعدد درخواست گزاروں نے افغان سٹیزن کارڈ (ACC) اور پروف آف رجسٹریشن (POR) کارڈ کی منسوخی کے لیے رجوع کر رکھا تھا۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق کئی افراد کا مؤقف ہے کہ انہوں نے ماضی میں مختلف وجوہات کی بنا پر افغان کارڈ حاصل کیے تھے، تاہم اب وہ انہیں ختم کروا کر اپنی پاکستانی شہریت کی تصدیق چاہتے ہیں۔

نادرا کا موقف

نادرا نے عدالت کو بتایا کہ موصولہ درخواستوں میں سے 17 ہزار 884 کیسز مسترد کیے جا چکے ہیں کیونکہ درخواست گزار اپنی پاکستانی شہریت ثابت کرنے میں ناکام رہے۔ دوسری جانب دو ہزار 200 افراد کو جانچ پڑتال کے بعد پاکستانی شہری تسلیم کرتے ہوئے کلیئرنس سرٹیفکیٹ جاری کیے جا چکے ہیں۔

ادارے کے مطابق 6 ہزار 637 درخواست گزار تصدیقی عمل مکمل کرنے کے لیے پیش نہیں ہوئے، جس کے باعث ان کے کیسز تاحال زیر التوا ہیں۔

قانونی ماہرین کا خیال

قانونی ماہرین کے مطابق ان درخواستوں میں مختلف نوعیت کے معاملات شامل ہیں۔ بعض افراد نے مالی فوائد حاصل کرنے کے لیے افغان کارڈ بنوائے تھے جبکہ کچھ لوگوں نے بیرون ملک پناہ کے حصول یا دیگر مقاصد کے لیے ایسی دستاویزات حاصل کی تھیں۔

پشاور ہائی کورٹ نے حال ہی میں 127 درخواست گزاروں کی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے انہیں براہ راست نادرا سے رجوع کرنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایسے معاملات کے حل کے لیے قانونی طریقہ کار پہلے سے موجود ہے، اس لیے درخواست گزار متعلقہ فورم سے رجوع کیے بغیر عدالت نہیں آ سکتے۔

نادرا کو ہدایت

21 صفحات پر مشتمل فیصلے میں عدالت نے نادرا کو ہدایت کی کہ درخواست موصول ہونے کے بعد چار ماہ کے اندر اندر ہر کیس کا فیصلہ کیا جائے۔ مزید برآں رجسٹریشن مراکز پر آنے والے درخواست گزاروں کو باقاعدہ ٹوکن جاری کیے جائیں اور جمع کرائی گئی دستاویزات کی تحریری رسید بھی فراہم کی جائے۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کسی درخواست گزار کی دستاویزات مکمل ہوں تو اس کا معاملہ خصوصی تصدیقی بورڈ کو بھجوایا جائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ مقررہ مدت میں فیصلہ نہ ہونے کی صورت میں متاثرہ افراد دوبارہ عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔

نادرا کے مطابق شہریت کے تعین اور کلیئرنس سرٹیفکیٹ کے اجرا کے لیے باقاعدہ پالیسی اور ادارہ جاتی نظام موجود ہے، جس کے تحت ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیا جاتا ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اردو رپورٹ جملہ حقوق محفوظ ہیں

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!