امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ایک اہم اسٹریٹجک معاہدے کا اعلان متوقع ہے جس کے تحت سعودی عرب کو اپنا سویلین جوہری توانائی پروگرام (Civilian Nuclear Energy Program) شروع کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس معاہدے کی مالیت اربوں ڈالر تک پہنچ سکتی ہے اور اس میں امریکی کمپنیاں سعودی عرب میں جوہری ایندھن کی تیاری سے متعلق تنصیبات کے قیام میں کردار ادا کریں گی۔
اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) کی انتظامیہ اس معاہدے کا باضابطہ اعلان جلد کر سکتی ہے، جبکہ منصوبے پر عمل درآمد سے قبل امریکی کانگریس (US Congress) کی منظوری بھی درکار ہوگی۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق مجوزہ معاہدہ تقریباً 30 برس کے لیے مؤثر ہوگا۔ اگر ابتدائی مشترکہ جائزے کے بعد امریکہ یہ سمجھے کہ سعودی عرب میں یورینیئم افزودگی مناسب نہیں تو ایسی صورت میں مملکت کو دس سال تک نہ خود اور نہ ہی کسی دوسرے غیر ملکی شراکت دار کے ذریعے افزودگی کی اجازت دی جائے گی۔
سعودی عرب کو کیا اجازت دی جائے گی؟
رپورٹس کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت سعودی عرب (Saudi Arabia) کو اپنی سرزمین پر یورینیئم کی افزودگی (Uranium Enrichment) کی محدود اجازت دی جا سکتی ہے، تاہم اس سے پہلے امریکہ (United States) اور سعودی عرب (Saudi Arabia) مشترکہ تکنیکی و سائنسی مطالعہ مکمل کریں گے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ تمام سرگرمیاں صرف پرامن اور توانائی کے مقاصد کے لیے ہوں۔
اس منصوبے کے تحت تیار ہونے والا افزودہ یورینیئم (Enriched Uranium) جوہری بجلی گھروں (Nuclear Power Plants) میں ایندھن کے طور پر استعمال ہوگا۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یورینیئم کو مزید اعلیٰ سطح تک افزودہ کیا جائے تو اسے جوہری ہتھیار (Nuclear Weapons) بنانے میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جس کے باعث اس معاہدے پر عالمی سطح پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
2009 کے متحدہ عرب امارات کے معاہدے سے مختلف
یہ معاہدہ 2009 میں امریکہ (United States) اور متحدہ عرب امارات (United Arab Emirates – UAE) کے درمیان ہونے والے جوہری تعاون کے معاہدے سے مختلف تصور کیا جا رہا ہے۔ اس وقت متحدہ عرب امارات نے اپنی سرزمین پر یورینیئم افزودہ نہ کرنے اور بیرون ملک سے جوہری ایندھن درآمد کرنے کی شرط قبول کی تھی، جبکہ سعودی عرب (Saudi Arabia) کے لیے نسبتاً مختلف شرائط زیر غور ہیں۔
عالمی تشویش میں اضافہ
جوہری عدم پھیلاؤ (Nuclear Non-Proliferation) کے ماہرین اور اسرا*ئیل کے سابق عہدیداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر مستقبل میں سعودی عرب (Saudi Arabia) کو افزودگی کی مکمل صلاحیت حاصل ہو گئی تو یہ مشرق وسطیٰ (Middle East) میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ کا سبب بن سکتی ہے۔
ایران کا عنصر بھی اہم
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان (Crown Prince Mohammed bin Salman) اس سے قبل واضح کر چکے ہیں کہ اگر ایران (Iran) مستقبل میں جوہری ہتھیار حاصل کرتا ہے تو سعودی عرب (Saudi Arabia) بھی اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے اسی راستے پر چلنے پر مجبور ہوگا۔
مذید خبریں
یورینیم ایک دھات کیسے خطرناک جوہری بم میں تبدیل ہو جاتی ہے – urdureport.com
دور جدید میں جوہری ہتھیار کسی ملک کے وجود کی ضمانت کیسے بن گئے؟ – urdureport.com
اسرائیل سے تعلقات شرط نہیں
نیویارک ٹائمز (The New York Times) کے مطابق اس مرتبہ امریکہ نے سعودی عرب کے ساتھ اس جوہری معاہدے کو اسرا*ئیل کے ساتھ سفارتی تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے مشروط نہیں کیا۔
معاہدے کو حتمی منظوری کے لیے امریکی کانگریس (US Congress) میں پیش کیا جائے گا، جہاں اگرچہ دونوں جماعتوں کے بعض قانون سازوں کی جانب سے اعتراضات سامنے آنے کا امکان ہے، تاہم ریپبلکن پارٹی (Republican Party) کی اکثریت کے باعث اس کی منظوری کے امکانات بھی روشن سمجھے جا رہے ہیں۔


