تحریر:طارق اقبال چوہدری

اگست 1945 امریکی صدر ٹرومین نے جاپان کو الٹی میٹم دیا تھا کہ وہ غیر مشروط ہتھیار ڈال دے ورنہ “تباہ کن انجام” کے لیے تیار رہے بالکل اسی طرح جیسے سال 2026 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی کی ان کی شرائط مان لی جایں ورنہ ایران کی تہذیب کو صفہ ہستی سے مٹا دیا جائے،یہی تصور کیا جانے لگا شاید امریکہ ایک بار پھر جاپان کی طرز پر ایران پر بھی جوہری بم گرانے جا رہا ہے ۔
ماہرین کی رائے ہے کہ دور جدید میں کسی ملک کے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے جوہری صلاحیت ناگزیر ہو چکی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد مزاکرات میں یران نے امریکہ کی جوہری ہتھیار ترک کرنے کے مطالبے کو منظور نہیں کیا۔
کسی بھی ملک کی بقا اور خود مختاری کا انحصار اس کے جوہری ہتھیاروں پر منحصر ہوتا ہے یہ تاریخ نے ثابت کیا اور اگر کسی ملک نے جوہری ہتھیاروں کی دوڑ سے پسپائی اختیار کی تو اس کی بقا کو بھی خطرے میں پڑ گیا اب ایران یہ غلطی کرنے کے لیے تیار نہیں۔
دنیا کی آیٹمی طاقتیں
اس وقت دنیا میں نو ممالک ایسے ہیں جن کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں۔ ان میں امریکہ، روس، چین، فرانس اور برطانیہ شامل ہیں، جنہیں بڑی جوہری طاقتیں سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھارت اور پاکستان جنوبی ایشیا میں جوہری صلاحیت رکھتے ہیں۔
اسرائی*ل کے بارے میں عالمی سطح پر یہ مانا جاتا ہے کہ اس کے پاس بھی جوہری ہتھیار ہیں، اگرچہ وہ اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کرتا۔ اسی طرح شمالی کوریا بھی ان ممالک میں شامل ہے جو جوہری ہتھیار بنا چکا ہے، اور یوں دنیا میں کل نو ریاستیں ایسی ہیں جو ایٹمی طاقت رکھتی ہیں باقی اپنی بقا کے لیے ان کے حصول کی تگ و دو میں لگی ہیں۔
، اس کے برعکس یوکرین، قازقستان، بیلاروس، لیبیا، برازیل اور ارجنٹینا وہ ممالک ہیں جنہوں نے مختلف ادوار میں جوہری ہتھیار بنانے یا رکھنے کی پالیسی ترک کر دی اور عالمی معاہدوں کے تحت خود کو غیر جوہری ریاستوں کے طور پر پیش کیا لیکن ان میں لیبیا اور یوکرین کا وجود خطرے میں پڑ گیا۔
جاپان پر جوہری بموں سے ہلاکتیں
4 اگست 1945 امریکی صدر ٹرومین نے جاپان کو الٹی میٹم دیا تھا کہ وہ غیر مشروط ہتھیار ڈال دے ورنہ “تباہ کن انجام” کے لیے تیار رہے۔

دوسری جنگِ عظیم کے دوران جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر امریکہ نے اگست 1945 میں ایٹمی بم گرائے۔ یہ تاریخ کا پہلا اور اب تک کا واحد موقع ہے جب جنگ میں جوہری ہتھیار استعمال ہوئے۔یہ حملے دوسری جنگ عظیم کے اختتام کا باعث بنے اور جاپان نے چند دن بعد ہتھیار ڈال دیے۔
ہیروشیما پر ایٹم بم (لٹل بوائے)

“لٹل بوائے” آیٹم بم، ٹینیئن جزیرے پر اینولا گے میں لوڈ کیے جانے سے پہلے
6 اگست 1945 کو جاپان کے شہر ہیروشیما Hiroshima پر پہلا ایٹمی بم Atomic bomb گرایا گیا جس کا نام “Little Boy” تھا۔ یہ بم امریکی B-29 بمبار طیارے Enola Gay سے گرایا گیا۔
اس مشن کے پائلٹ Paul Tibbets تھے۔ یہ بم صبح کے وقت شہر پر گرایا گیا اور چند لمحوں میں پورا شہر شدید دھماکے اور آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔
اس حملے میں لاکھوں لوگ فوری طور پر ہلاک اور زخمی ہوئے جبکہ شہر تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جاپان کے پاس اس وقت جوہری طاقت ہوتی تو امریکہ اس کے دونوں شہروں پر آئیٹم بم گرانے کی جرات نہ کرتا
ناگاساکی پر ایٹم بم (فیٹ مین)

ہیروشیما کے صرف تین دن بعد یعنی 9 اگست 1945 کو دوسرا ایٹمی بم atomic bomb “Fat Man” جاپان کے شہر ناگاساکی Nagasaki پر گرایا گیا۔ یہ آیٹم بم B-29 بمبار طیارے Bockscar سے گرایا گیا۔ اس مشن کے پائلٹ Charles W. Sweeney تھے۔ یہ بم بھی انتہائی تباہ کن تھا اور چند ہی لمحوں میں شہر کا بڑا حصہ ملبے اور آگ میں تبدیل ہو گیا۔ اس حملے کے نتیجے میں بھی بڑی تعداد میں انسانی جانوں کا نقصان ہوا اور جاپان پر جنگ ختم کرنے کا دباؤ مزید بڑھ گیا۔
9 اگست 1945 کو ناگاساکی پر دوسرا بم گرایا گیا، جس میں 40 ہزار کے قریب افراد فوری ہلاک ہوئے اور بعد میں اموات بڑھ کر تقریباً 70 ہزار تک ہو گئیں۔
جنگ کا مقصد اور الٹا خطرہ
امریکہ اور اسرائی*ل کی جانب سے ایران پر حملوں کا بنیادی مقصد یہ بتایا گیا تھا کہ تہران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکا جائے اور اس سے افزودہ یو رینیم کو واپس حاصل کیا جائے یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان مزاکرات میں بھی یہی مرکزئی نکتہ تھا جس پر اتفاق رائے پیدا نہیں کیا جا سکا۔
ایران امریکہ جنگ شروع ہونے کے ایک ماہ سے زائد عرصے بعد صورتحال نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں عالمی سطح پر ایک نئی جوہری دوڑ کے امکانات بھی پیدا ہو گئے ہیں جس سے ممالک اپنی اپنی ریاست کے وجود کو استحکام دینا چاہتے ہیں جو مستقبل میں مزید خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
ایٹم بم ایک دفاعی ضمانت
جوہری عدم پھیلاؤ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات دیگر ممالک بھی اپنی بقا اور سلامتی کے لیے ایٹم بم کا حصول زیادہ مؤثر ذریعہ سمجھتے ہے۔ ان کے مطابق ایران کی قیادت اب اس بات پر سنجیدگی سے غور کر سکتی ہے کہ مستقبل میں بیرونی حملوں سے بچنے کے لیے جوہری صلاحیت حاصل کرنا ضروری ہے، اور اسی طرح دیگر ریاستیں بھی عمل پیرا ہو سکتی ہیں ۔
امریکی سکیورٹی پر سوالات
ایران تنازع نے امریکہ کی اپنے اتحادیوں کو تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک، خاص طور پر خلیجی ریاستیں، ایرانی ردعمل کے خدشات یا اثرات کا سامنا کر چکی ہیں جس کے بعد دیگر ممالک یہ سوچ رہے ہیں کہ صرف امریکہ کی سیکورٹی پر ہی انحصار نہ کیا جائے بلکہ جوہری ہتھیاروں کے حصول سے اپنی دفاعی صلاحیت کو خود پروان چڑھایا جائے۔
سعودی عرب کا ممکنہ ردعمل
سعودی عرب پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کرتا ہے تو وہ بھی اسی راستے پر چلنے پر مجبور ہو گا یعنی ایران اگر یہ صلاحیت حاصل کر گیا تو پھر سعودی عرب بھی جوہری ہتھیار بنائے گ ،یہ سلسلہ پورے مشرق وسطیٰ کو عدم استحکام کا شکار بنا سکتا ہے۔
ایران کی جوہری صلاحیت برقرار
اگرچہ حالیہ حملوں میں ایران کی کچھ جوہری تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق ملک کے پاس جوہری ٹیکنالوجی اور سائنسی علم اب بھی موجود ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران چاہے تو وقت کے ساتھ اپنی تنصیبات کو دوبارہ بحال کر سکتا ہے۔
مزید یہ کہ افزودہ یورینیم کے ذخائر سے متعلق خدشات بھی موجود ہیں، جو کسی بھی غیر یقینی صورتحال میں ان اک استعمال بھی عمل میں لایا جا سکتا ہے۔
سفارت کاری کو دھچکا
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ ایران پر امریکی حملوں نے سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے اور ان سائٹس پر بین الاقوامی معائنہ کاروں کی رسائی محدود ہو گئی ہے، جس سے ایران کے جوہری پروگرام کی نگرانی مشکل ہو گئی ہے۔
اس کے علاوہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان اعتماد کی فضا بھی متاثر ہوئی ہے، جس کے باعث مذاکرات کا عمل مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔
عالمی سطح جوہری دوڑ
دنیا میں اس وقت نو ممالک جوہری ہتھیار رکھتے ہیں، اور اب خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مزید ممالک بھی اس دوڑ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ چین اپنے جوہری ذخائر کو بڑھا رہا ہے، جبکہ روس اور یوکرین کی جنگ نے بھی جوہری خطرات کو نمایاں کیا ہے۔ اامریکہ کی پالیسیوں کو غیر متوقع سمجھا جا رہا ہے جو کہ عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔
یوکرین، لیبیا اور شمالی کوریا کی مثالیں
ماضی کی مثالیں، جیسے یوکرین اور لیبیا، اکثر اس بحث میں پیش کی جاتی ہیں کہ جن ممالک نے جوہری ہتھیار ترک کیے، وہ بعد میں بیرونی دباؤ یا حملوں کا شکار بنے۔
اس کے برعکس شمالی کوریا کو ایک ایسی مثال کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس نے جوہری ہتھیار حاصل کر کے خود کو محفوظ بنایا۔ یہی مثالیں بعض ممالک کو جوہری پروگرام کی طرف راغب کر سکتی ہیں۔
جوہری ہتھیار ایک خطرناک راستہ
تاہم ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ جوہری ہتھیار حاصل کرنا نہ صرف انتہائی مہنگا بلکہ تکنیکی طور پر پیچیدہ اور خطرناک عمل ہے۔ اس کے ساتھ بین الاقوامی پابندیاں، معاشی دباؤ اور عالمی تنہائی جیسے مسائل بھی جڑے ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر ملک کے لیے یہ راستہ آسان یا فائدہ مند نہیں ہوتا۔
عالمی برادری کے لیے چیلنج
آخر میں ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔ عالمی برادری کے لیے ضروری ہے کہ وہ عدم پھیلاؤ کے نظام کو مضبوط کرے اور ایسے اقدامات کرے جو ممالک کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک سکیں۔ بصورت دیگر دنیا ایک ایسے خطرناک دور میں داخل ہو سکتی ہے جہاں سکیورٹی کے نام پر تباہی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔
یہ بھی پڑھئِے


