ترکی نے اسرائی*لی وزیر اعظم بنییامین نتن یا*ہو کو عہدِ حاضر کا ہٹلر قرار دے دیا جس سے حالیہ ایران جنگ میں شدت پیدا ہونے کے امکانات بڑھ چکے ہیں ۔ترکیہ نے الزام عاید کیا کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کے عمل کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔
ترکی کی وزراتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اسرائی*لی وزیر اعظم جنھیں ان کے مرتکب جرائم کی بنا پر ہمارے عہد کا ہٹلر قرار دیا گیا ہے اور اس بارئے ان کا ماضی واضح ریکارڈ رکھتا ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے انسانیت کے خلاف جرائم میں مرتب ہو نے کی وجہ سے ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر رکھے ہیں اور ان کی حکومت کو بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کے الزامات کا سامنا بھی ہے۔‘
ترکی کی وزراتِ خارجہ کے مطابق ’یہ حقیقت کہ ہمارے صدر کو اسرائی*لی حکام کی جانب سے بے بنیاد، ڈھٹائی پر مبنی اور جھوٹے الزامات کا نشانہ بنایا گیا ہے۔‘
اسرا*ئیلی وزیر اعظم کا بیان
اس سے قبل اسرائی*لی وزیر اعظم نے بیان دیا تھا ۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے اسرائی*لی وزیر اعظم نے گذشتہ روز ایکس پر کہا تھا کہ ’میری قیادت میں ان کا ملک ایران کے دہشت گرد نظام اور اس کے نمائندوں کے خلاف لڑتا رہے گا، برخلاف اردوغان کے جو انھیں قبول کرتے ہیں اور اپنے کرد شہریوں کا قتل عام کرتے ہیں۔‘
ترک صدر نے اس سے قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ ’جنگ بندی کے دن، اسرائی*ل نے سینکڑوں بے گناہ لبنانیوں کو قتل کیا۔ان کے وزیر اعظم خون اور نفرت سے اندھے ہو چکے ہیں۔ اگر پاکستان کی ثالثی نہ ہوتی تو ہم جنگ میں شامل ہو جاتے۔‘
ماہرین کا خیال ہے کہ ترکی کی سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ کہیں تہران میں حکومت کا انہدام نہ ہو جائے اور ایران خانہ جنگی اور علاقائی انتشار کا شکار نہ ہو جائے۔
یہ بھی پڑھئِے


