امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دی گئی ڈیڈ لائن سے پہلے سخت بیان دیتے ہوئے کہا کہ “آج رات ایک پوری تہذیب ختم ہو سکتی ہے”، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر لکھا ہے کہ
“ایک پوری تہذیب آج رات ختم ہو جائے گی، اور پھر کبھی واپس نہیں لائی جا سکے گی۔ میں ایسا نہیں چاہتا، لیکن شاید ایسا ہی ہو۔ تاہم اب جبکہ مکمل اور فیصلہ کن نظامِ تبدیلی (Regime Change) ہو چکی ہے، جہاں مختلف، زیادہ سمجھدار اور کم شدت پسند ذہن غالب آئیں گے، تو شاید کوئی حیران کن اور انقلابی طور پر شاندار چیز بھی ہو سکتی ہے—کون جانتا ہے؟
ہم آج رات جان لیں گے، یہ دنیا کی طویل اور پیچیدہ تاریخ کے اہم ترین لمحات میں سے ایک ہے۔ 47 سال کی بلیک میلنگ، بدعنوانی اور موت کا سلسلہ آخرکار ختم ہو جائے گا۔
ایران کے عظیم عوام کے لیے خدا برکت دے!”
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/116363336033995961/embed
امریکا نے ایران کے اسٹریٹجک جزیرے خارگ آئی لینڈ پر رات کے وقت فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق حملوں میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا گیا، حالانکہ یہی جزیرہ ایران کی زیادہ تر تیل برآمدات کا مرکز ہے۔
پاکستان کی سفارتی کو ششیں
ادھر پاکستان کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ سفارتی حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم سعودی عرب میں انفراسٹرکچر پر حملے نے ان کوششوں کو متاثر کیا ہے۔ قطر نے بھی اپیل کی ہے کہ جنگ کو مزید پھیلنے سے پہلے حل نکالا جائے۔
اس کے علاوہ اسرائیلی فوج کی وارننگ کے بعد ایران کے ایک شہر میں ریلوے سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں اور شہریوں کو ٹرین استعمال نہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
مجموعی طور پر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، اور اگر بروقت حل نہ نکلا تو صورتحال بڑے تنازع میں بدل سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئِے


