اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں ویزا قوانین کی مبینہ خلاف ورزی اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں 258 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار افراد کا تعلق چین، ملائیشیا، انڈونیشیا اور ویت نام سمیت مختلف ممالک سے ہے۔ یہ افراد پاکستان میں وزٹ، سیاحتی اور کاروباری ویزوں پر داخل ہوئے تھے۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) نے کارروائی گلبرگ گرینز کے ایک پلازے میں کی۔اس پلازے میںبڑی تعداد میں غیر ملکی شہری موجود تھے۔
ایف آئی اے کے مطابق مذکورہ مقام پر کال سینٹر جیسی سرگرمیاں جاری تھیں ۔اس پلازے میں مبینہ طور پر ویزا شرائط کے برخلاف کاروباری کام کیا جا رہا تھا۔
حکام کے مطابق گرفتار افراد کو عدالت میں ذاتی طور پر پیش کرنے کے بجائے آن لائن عدالت میں پیش کیا گیا۔
جس کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ نے انہیں 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا۔
گلبرگ گرینز سب جیل قرار
اتنی بڑی تعداد میں گرفتار افراد کو اڈیالہ جیل منتقل کرنے کے بجائے گلبرگ گرینز میں واقع ایک پلازے میں رکھا گیا ہے۔
اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے ایف آئی اے کی درخواست پر اس عمارت کو عارضی طور پر سب جیل قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔
انتظامیہ کے مطابق سب جیل کے اطراف سکیورٹی اور نگرانی کی ذمہ داری ایف آئی اے حکام انجام دیں گے۔
ایف آئی اے کی کاروائی ؟
ایف آئی آر کے مطابق ایف آئی اے کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کو اطلاع موصول ہوئی تھی کہ اسلام آباد میں 200 سے 300 کے قریب غیر ملکی شہری ویزا قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کاروباری سرگرمیوں اور ملازمتوں میں مبینہ طور پر مصروف ہیں۔
اطلاع ملنے پر ایف آئی اے کی ٹیم نے گلبرگ گرینز میں کارروائی کی۔جب ٹیم پہچی تو وہاں پر 258 غیر ملکی شہری موجود پائے گئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد کے ویزا اور سفری ریکارڈ کی جانچ پڑتال بھی کی گئی۔
ابتدائی تحقیقات
ابتدائی تحقیقات کے دوران بعض افراد فراڈ اور مختلف ویب سائٹس کی تیاری میں ملوث ہائے گئے۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق تحقیقات آگے بڑھنے کے ساتھ مزید شواہد سامنے آنے کی توقع ہے۔
جبکہ دیگر جرائم میں ملوث پائے جانے والے افراد کے خلاف اضافی مقدمات بھی درج کیے جا سکتے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ اتنی بڑی تعداد میں افراد کو رکھنے کے لیے ایف آئی اے کے حراستی مراکز میں گنجائش موجود نہیں تھی۔جگہ کی عدم دستریابی کے باعث گلبرگ گرینز کے پلازے کو عارضی سب جیل میں تبدیل کیا گیا۔


