اسلام آباد(ایڈیٹوریل ٹیم) اقوامِ متحدہ کی ایک نئی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان کی تقریباً 63 فیصد آبادی، یعنی قریباً 16 کروڑ 10 لاکھ افراد، مکان، آمد و رفت اور بجلی پانی کے بلوں جیسے بنیادی غیر خوراکی اخراجات پورے کرنے کے بعد صحت بخش غذائی اجزاء کا سستا ترین امتزاج بھی خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
بڑھتی غربت، حقیقی آمدنی میں کمی
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بظاہر لوگوں کی آمدنی میں اضافہ دیکھا گیا، لیکن مہنگائی کے باعث حقیقی گھریلو آمدنی میں تقریباً 13 فیصد کمی واقع ہوئی۔ نتیجتاً غربت کی شرح 21.9 فیصد سے بڑھ کر 28.9 فیصد ہو گئی، جس سے مزید تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ افراد غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے۔
غریب طبقے میں خوراک کے معیار میں تنزلی
خاص طور پر کم آمدنی والے گھرانوں پر اس کا اثر انتہائی شدید رہا۔ رپورٹ میں شامل اعداد و شمار کے مطابق، دو حالیہ سروے ادوار کے درمیان 14 اہم غذائی اشیاء میں سے 13 کا استعمال کم ہوا:
- چاول کے استعمال میں تقریباً 19 فیصد کمی
- دالوں کے استعمال میں 26 فیصد کمی
- دودھ کے استعمال میں 10 فیصد کمی
دالیں، دودھ، گوشت، چاول، پھل اور سبزیاں ، جو کبھی گھریلو ضروریات کا بنیادی حصہ سمجھی جاتی تھیں ۔ اب یہ تمام عام پاکستانیوں کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ دوسری طرف، امیر گھرانوں کے اخراجات اور خوراک کے استعمال میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا، جس سے امیر اور غریب کے درمیان فرق مزید بڑھ گیا۔
عالمی تناظر میں پاکستان کا الگ رجحان
پاکستان کی بگڑتی ہوئی صورتحال عالمی سطح پر بہتری کے رجحان کے برعکس ہے۔ SOFI 2026 رپورٹ کے مطابق، عالمی سطح پر بھوک میں مسلسل تیسرے سال کمی دیکھی گئی، اور 2025 میں دنیا کی تقریباً 7.8 فیصد آبادی، یعنی قریباً 64 کروڑ 50 لاکھ افراد بھوک کا شکار رہے، جو 2024 میں 8.1 فیصد اور 2022 میں 8.6 فیصد تھی۔ تاہم پاکستان اس عالمی بہتری کے برعکس خصوصی طور پر پیچھے رہ گیا۔
یہ کیوں اہم ہے
ماہرینِ صحت خبردار کرتے ہیں کہ خوراک تک رسائی میں بڑھتا ہوا یہ فرق سب سے زیادہ سنگین اثرات بچوں اور خواتین کی صحت پر ڈال رہا ہے، جن کی نشوونما کے اہم مراحل میں غذائیت کی ضروریات براہ راست آنے والی نسلوں کی صحت اور نشوونما پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ دالوں، دودھ اور گوشت جیسی پروٹین اور غذائیت سے بھرپور خوراک کے مسلسل کم ہوتے استعمال سے پاکستانی بچوں میں غذائی قلت اور کوتاہ قدی (اسٹنٹنگ) کی شرح بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
رپورٹ
یہ نتائج دی اسٹیٹ آف فوڈ سیکیورٹی اینڈ نیوٹریشن اِن دی ورلڈ 2026 (SOFI 2026) — "صحت مند خوراک کی بڑھتی قیمت کو سمجھنا اور اس کا حل تلاش کرنا” — سے حاصل کیے گئے ہیں، جو اقوامِ متحدہ کے نظام کی سب سے اہم فوڈ سیکیورٹی رپورٹ ہے، اور اسے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO)، انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچرل ڈویلپمنٹ (IFAD)، یونیسیف، ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) اور عالمی ادارہ صحت (WHO) نے مشترکہ طور پر جاری کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، پاکستان جنوبی ایشیا میں صحت مند خوراک کی سب سے سستی ٹوکری رکھنے کے باوجود، اس خطے میں صحت مند خوراک کی عدم دستیابی کی سب سے زیادہ شرح رکھتا ہے۔


