پاکستان دنیا کے بڑے گندم پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے، اور سرکاری اعدادوشمار کے مطابق رواں سیزن 2025-26 میں تقریباً 2 کروڑ 96 لاکھ 10 ہزار ٹن گندم پیدا ہوئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 13 لاکھ 60 ہزار ٹن زیادہ ہے۔ اسی بنیاد پر حکومت مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی کہ ملک میں گندم کی کوئی کمی نہیں اور ذخائر ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں۔
تاہم صورتحال اس وقت بدل گئی جب وفاقی حکومت نے اچانک 10 لاکھ ٹن گندم درآمد ّWheat import کرنے کا اعلان کر دیا۔ وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین کے مطابق یہ فیصلہ صوبوں کی ضروریات پوری کرنے، آٹے کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے اور مارکیٹ میں ممکنہ قلت سے بچنے کے لیے کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاسکو کے ذخائر بھی صوبوں کو فراہم کیے جائیں گے تاکہ عوام کو مناسب نرخوں پر گندم میسر آ سکے۔
یہ اعلان کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے، کیونکہ اگر ملکی پیداوار اور ذخائر واقعی ضرورت کے مطابق موجود تھے تو پھر درآمد کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
فلور ملز ایسو سی ایشن کا دعویٰ
فلور ملز ایسوسی ایشن پنجاب ( Flour Mills Association)کے چیئرمین ریاض اللہ خان کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں تقریباً 10 لاکھ ٹن گندم کی کمی محسوس کی جا رہی ہے اور درآمد کی تجویز بھی فلور ملز کی جانب سے حکومت کو دی گئی۔ ان کے مطابق اگلی فصل آنے میں کئی ماہ باقی ہیں جبکہ گندم کی قیمت ساڑھے چار ہزار روپے فی من سے تجاوز کر چکی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ گزشتہ سال سرکاری خریداری ہدف سے کم رہی، کسانوں کو مناسب قیمت نہ ملنے کے باعث اس سال کاشت بھی کم ہوئی، جس کے اثرات اب سامنے آ رہے ہیں۔
اب اصل سوال یہی ہے کہ اگر سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پیداوار گزشتہ سال سے زیادہ ہوئی اور حکومت بھی کچھ عرصہ قبل تک وافر ذخائر کا دعویٰ کر رہی تھی، تو پھر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کیا یہ واقعی پیداوار کا مسئلہ ہے، یا پھر حکومتی پالیسی، سرکاری خریداری، ذخیرہ اندوزی اور مارکیٹ مینجمنٹ میں موجود خامیوں کا نتیجہ؟
سندھ حکومت کا موقف
دوسری جانب سندھ حکومت اس بحران کی وجہ پیداوار سے زیادہ ذخیرہ اندوزی کو قرار دے رہی ہے۔ سندھ حکومت کے مطابق بڑے تاجروں نے گندم بڑی مقدار میں ذخیرہ wheat Hoardingکر رکھی ہے، جس سے مصنوعی قلت پیدا ہوئی اور آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، گوداموں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور ذخیرہ شدہ گندم مارکیٹ میں لائی جا رہی ہے۔
سندھ حکومت یہ بھی مؤقف رکھتی ہے کہ وفاق کی جانب سے مقرر کردہ امدادی قیمت اوپن مارکیٹ سے کم ہونے کے باعث کسانوں نے اپنی گندم سرکاری اداروں کے بجائے نجی خریداروں کو فروخت کی، جس کے نتیجے میں سرکاری ذخائر مطلوبہ سطح تک نہ پہنچ سکے۔
کمی کی بنیادی وجہ
ادھر کسان درآمد کو مسئلے کا حل نہیں سمجھتے۔ ان کے مطابق اس سال ان کی پیداوار میں تقریباً 15 فیصد کمی ضرور آئی، لیکن اس کی بنیادی وجہ بڑھتی ہوئی زرعی لاگت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کھاد، ڈیزل اور دیگر اخراجات میں مسلسل اضافے کے باوجود کسان کو مناسب قیمت نہیں مل رہی۔ اگر حکومت کسانوں کو سبسڈی، بہتر امدادی قیمت اور سستی زرعی سہولیات فراہم کرے تو پاکستان اپنی گندم کی ضرورت خود پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
مذید خبریں
اقتصادی سروے 2025-26: شرح نمو 3.7 فیصد رہی، فی کس آمدن 1901 ڈالر – urdureport.com
ماوزے تنگ کی "فور پیسٹ کمپین” جب چڑیاں مارنے سے کروڑوں انسان مر گئے – urdureport.com
مون سون کا دوسرا طاقتور سپیل کا آغاز :الرٹ جاری لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ – urdureport.com
کاشتکاروں کے مطابق مارکیٹ میں قلت کی ایک بڑی وجہ نجی شعبے کی جانب سے بڑے پیمانے پر گندم کی خریداری اور ذخیرہ اندوزی بھی ہے، جس کے باعث مختلف علاقوں میں رسد متاثر ہوئی اور قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
اس وقت حکومت، فلور ملز، صوبائی انتظامیہ اور کسان سب اس بحران کی مختلف وجوہات بیان کر رہے ہیں۔ کوئی سرکاری خریداری کو ذمہ دار قرار دیتا ہے، کوئی پیداوار میں کمی کو، جبکہ بعض حلقوں کے نزدیک ذخیرہ اندوزی اور مارکیٹ میں عدم توازن نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔


