مظفرآباد: پاکستان کے زیر انتظام آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے کا آغاز پیر کو میرپور ڈویژن سے ہو گیا، جہاں 13 حلقوں میں ووٹر اپنے نمائندوں کے انتخاب کے لیے حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔ پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی جو بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔
الیکشن کمیشن کے مطابق پہلے مرحلے میں ضلع کوٹلی کی 6، بھمبر کی 3 اور میرپور کی 4 نشستوں پر ووٹنگ ہو رہی ہے۔ ان حلقوں میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد چار لاکھ سے زیادہ ہے۔
الیکشن انتظامات
آزاد کشمیر میں انتخابات Azad Kashmir Election کو پرامن بنانے کے لیے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ پولیس کے 18 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ حساس مقامات پر فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی موجود ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ انتخابی سامان تمام پولنگ اسٹیشنوں تک پہنچا دیا گیا ہے اور شفاف، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام انتظامات مکمل ہیں۔ انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ پولنگ میں رکاوٹ ڈالنے یا امن و امان خراب کرنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
لانگ مارچ کا اعلان
دوسری جانب کالعدم جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی Joint Awami Action Committeeنے انتخابات کے بائیکاٹ کے اپنے اعلان پر قائم رہتے ہوئے مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ Long March کی کال برقرار رکھی ہے۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ حکومت ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے عمل نہیں کر رہی، اس لیے احتجاج جاری رکھا جائے گا۔پاکستان تحریک انصاف Pakistan Tahreek Insaaf بھی پہلے ہی احتجاجی مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے انتخابی بائیکاٹ کا اعلان کر چکی ہے۔
الیکشن شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے کے بعد مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی مخصوص نشستوں , Refugee Seats پر پولنگ 2 اگست جبکہ پونچھ ڈویژن میں 10 اگست کو ووٹنگ ہوگی۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ چونکہ انتخابات مرحلہ وار ہو رہے ہیں، اس لیے نتائج بھی ہر مرحلے کے بعد الگ الگ جاری کیے جائیں گے۔
مذید خبریں
آزاد کشمیر : انتخابات اور ایکشن کمیٹی کا پھر لانگ مارچ کا اعلان – urdureport.com
آزاد کشمیر الیکشن بائیکاٹ :پی ٹی آئی ایکشن کمیٹی کے ساتھ – urdureport.com
آزاد کشمیر سیاست : سردار تنویر الیاس کا چوتھی بار سیاسی قبلہ تبدیل – urdureport.com
ادھر احتجاجی تحریک کا بنیادی مطالبہ قانون ساز اسمبلی میں کشمیری مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں کے خاتمے سے متعلق ہے۔ حکومت ان نشستوں کو برقرار رکھنے پر زور دے رہی ہے، جبکہ عوامی ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ تمام نشستیں صرف آزاد کشمیر میں رہنے والے شہریوں کے لیے ہونی چاہییں۔


