آزاد کشمیر میں حکومت اور کالعدم جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے، جس کے بعد کمیٹی نے 27 جولائی کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کا مرحلہ وار آغاز بھی 27 جولائی سے ہو رہا ہے۔
مظفر آباد کی جانب لانگ مارچ
کمیٹی کی کور کمیٹی کے رکن عابد شاہین کے مطابق لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ میرپور سے شروع ہو کر راولاکوٹ کے مقام دریک تک پہنچے گا، جبکہ اگلے روز مظفرآباد Muzaffarabad Long Marchکی جانب مارچ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مظفرآباد جانے والے قافلے میں خواتین اور بچوں کو شامل نہیں کیا جائے گا۔
تاہم مقامی ذرائع کے مطابق لانگ مارچ میں شریک افراد کی تعداد کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔ ایک جانب مقامی صحافیوں نے ابتدائی مرحلے میں محدود شرکت کی اطلاع دی، جبکہ کمیٹی کا مؤقف ہے کہ سینکڑوں کارکن راولاکوٹ میں جمع ہو رہے ہیں۔
عابد شاہین نے کہا کہ ان کی تنظیم کا مقصد آزاد کشمیر کے انتخابات 2026 Azad Kashmir Elections 2026 کو متاثر کرنا نہیں بلکہ مہاجرین کی مخصوص نشستوں کے خاتمے سمیت اپنے مطالبات منوانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سے مئی میں ہونے والے مذاکرات کے دوران انتخابی عمل میں شرکت پر آمادگی ظاہر کی گئی تھی، مگر بعد کے حالات نے اس امکان کو ختم کر دیا۔
حکومتی مزاکرات
دوسری جانب حکومتی مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن کے مطابق مذاکرات کے دوران کمیٹی نے سب سے پہلے تنظیم پر عائد پابندی فوری طور پر ختم کرنے اور کارکنوں کے خلاف دہشت گردی، قتل اور اقدام قتل سمیت مختلف مقدمات واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ حکومتی نمائندوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پابندی ختم کرنے سے قبل تنظیم کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ زیر سماعت مقدمات واپس لینا حکومت کے اختیار میں نہیں بلکہ عدالتوں کا معاملہ ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق جوائنٹ ایکشن کمیٹی Joint Awami Action Committee کو یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی کہ زیر حراست افراد کو عدالتی کارروائی تک رسائی دینے میں سہولت فراہم کی جا سکتی ہے، جبکہ نقص امن کے خدشے کے تحت نظر بند افراد کی مشروط رہائی احتجاج ختم کرنے سے مشروط ہو سکتی ہے۔
انتخابی سرگرمیاں
ادھر انتخابی سرگرمیوں کے پیش نظر میرپور میں موبائل انٹرنیٹ جزوی طور پر بحال کر دیا گیا ہے، اگرچہ رفتار معمول سے کم بتائی جا رہی ہے، جبکہ مظفرآباد اور پونچھ ڈویژن میں انٹرنیٹ سروسز تاحال معطل ہیں۔ پولیس اور فرنٹیئر کور کے اضافی اہلکار بھی حساس علاقوں میں تعینات کر دیے گئے ہیں۔
آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات تین مراحل میں مکمل ہوں گے۔ پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں دو اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی مخصوص نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔
مذید خبریں
سیکیورٹی خدشات : آزاد کشمیر اسمبلی انتخابات مرحلہ وار، نیا انتخابی شیڈول – urdureport.com
آزاد کشمیر سیاست : سردار تنویر الیاس کا چوتھی بار سیاسی قبلہ تبدیل – urdureport.com
مہاجرین کی 12 مخصوص نشستیں Refugee Seats Kashmir موجودہ احتجاجی تحریک کا مرکزی نکتہ بنی ہوئی ہیں۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ یہ نشستیں مقامی عوام کی نمائندگی کو محدود کرتی ہیں، اس لیے انہیں ختم کیا جانا چاہیے۔ دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ یہ نشستیں تاریخی اور آئینی بنیادوں پر قائم ہیں اور ان کا مقصد بے گھر کشمیریوں کو نمائندگی فراہم کرنا ہے، اس لیے انہیں برقرار رکھا جائے گا۔
احتجاجی تحریک میں ہلاکتیں
گزشتہ ماہ شروع ہونے والی احتجاجی تحریک کے دوران مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان متعدد جھڑپیں بھی ہوئیں، جن میں درجنوں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ حکومت نے احتجاجی تنظیم کو کالعدم قرار دینے کے بعد اس کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں، متعدد رہنماؤں کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ 150 سے زائد کارکنوں اور رہنماؤں کے نام انسداد دہشت گردی ایکٹ کے فورتھ شیڈول میں بھی شامل کیے گئے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ انتخابات ہر صورت مقررہ شیڈول کے مطابق منعقد کیے جائیں گے، جبکہ احتجاجی تنظیم اپنے مطالبات کی منظوری تک تحریک جاری رکھنے پر قائم ہے۔


