تحریر طارق اقبال چوہدری

عوامی صحت کی مہمات چلانا کبھی آسان نہیں ہوتا۔بہتری ی امید میں قدرت کے نطام کے خلاف جب اقدام اٹھایا گیا تو چین میں ایک ایسا سانحہ رونما ہوا جب ماوزت تنگ کی فور پیسٹ کمپین کے تحت چڑیوں کو مارا گیا تو قدرت نے ردعمل دکھایا اور ٹڈی دل کے حملوں نے فصلوں کو تباہ وبرباد کر دیا جس سے قحط سالی نے جنم لیا اور چین میں کروڑوں انسان لقمہ اجل بن گئے۔
تخمینوں کے مطابق اس مہم میں تقریباً ایک ارب چڑیاں، ڈیڑھ ارب چوہے، لاکھوں ٹن مکھیاں اور کروڑوں مچھر ختم کیے گئے۔
1950 کی دہائی میں چین کی کمیونسٹ حکومت نے ان تمام مشکلات کی پروا کیے بغیر ایک ایسی مہم شروع کی، جسے بعد میں تاریخ نے ماحولیاتی تباہی کی ایک نمایاں مثال قرار دیا۔اس وقت چین کے رہنما ماو زے تنگ Mao Zedong نے ملک بھر میں "فور پیسٹس کمپین” (Four Pests Campaign) کا آغاز کیا، جس کا مقصد ایسے جانداروں کا خاتمہ تھا جنہیں فصلوں اور انسانی صحت کے لیے نقصان دہ سمجھا جاتا تھا۔
چین بیماریوں کی لپیٹ میں تھا
1949 میں کمیونسٹ انقلاب کے بعد جب ماوزے تنگ Mao Zedong کی حکومت قائم ہوئی تو چین مختلف مہلک بیماریوں کا شکار تھا۔ تپ دق (ٹی بی)، ہیضہ، طاعون، پولیو، ملیریا، چیچک Tuberculosis (TB), Cholera, Plague, Polio (Poliomyelitis), Malaria, Smallpox اور دیگر متعدی بیماریاں لاکھوں افراد کی جان لے رہی تھیں۔
حکومت نے فوری طور پر ملک گیر ویکسینیشن پروگرام شروع کیے، صاف پانی کی فراہمی بہتر بنائی، نکاسیٔ آب کے نظام قائم کیے اور دیہی علاقوں میں طبی عملہ تعینات کیا۔
ماوزے تنگ کی پالیسیاں
ماو زے تنگ (Mao Zedong) بیسویں صدی کے سب سے بااثر اور متنازع سیاسی رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے 1949 میں چینی کمیونسٹ انقلاب کی کامیابی کے بعد عوامی جمہوریہ چین (People’s Republic of China) کی بنیاد رکھی اور تقریباً 27 برس تک ملک پر حکمرانی کی۔
ماو نے چین کو زرعی معیشت سے ایک جدید سوشلسٹ ریاست میں تبدیل کرنے کے لیے متعدد بڑے منصوبے شروع کیے، جن میں گریٹ لیپ فارورڈ (Great Leap Forward) اور ثقافتی انقلاب (Cultural Revolution) نمایاں ہیں۔ انہوں نے بیماریوں کے خاتمے کے لیے فور پیسٹ کمپین کا بھی آغاز کیا۔
پھر شروع ہوئی "فور پیسٹس کمپین”
1958 میں حکومت نے فیصلہ کیا کہ صرف علاج کافی نہیں، بلکہ ان جانوروں اور کیڑوں کو بھی ختم کیا جائے جو بیماریوں یا فصلوں کے نقصان کا باعث بنتے ہیں۔

اس مقصد کے لیے "فور پیسٹس کمپین” شروع کی گئی، جس میں چار جانداروں کو دشمن قرار دیا گیا:
- چوہے
- مچھر
- مکھیاں
- چڑیاں
سرکاری موقف تھا کہ انسانی صحت کے لیے ان چار جانداروں چوہے ،مچھر،مکھیاں اور چڑیوں (Rats, Mosquitoes, Flies, Sparrows)کو ختم کیا جائے چڑیاں کسانوں کی محنت سے اگایا گیا اناج کھا جاتی ہیں، اس لیے ان کا خاتمہ زرعی پیداوار بڑھا دے گا۔
پورا ملک مہم میں شامل ہو گیا
حکومت کا مؤقف تھا کہ چڑیاں بڑی مقدار میں اناج کھا جاتی ہیں، اس لیے ان کا خاتمہ زرعی پیداوار میں اضافہ کرے گا۔ سرکاری حکم کے بعد لاکھوں چینی شہری اس مہم میں شریک ہوئے۔ لوگ ڈھول، برتن اور دیگر اشیا بجا کر چڑیوں کو مسلسل اڑائے رکھتے تاکہ وہ تھک کر زمین پر گر جائیں۔ گھونسلے تباہ کیے گئے، انڈے توڑے گئے اور بڑی تعداد میں چڑیاں مار دی گئیں۔
ابتدا میں یہ مہم کامیاب دکھائی دی، لیکن جلد ہی اس کے غیر متوقع نتائج سامنے آنے لگے۔
ماہرین نے دیکھا کہ چڑیاں صرف اناج ہی نہیں بلکہ ٹڈی دل، سنڈیاں اور دیگر نقصان دہ کیڑے بھی کھاتی تھیں۔ جب چڑیوں کی تعداد اچانک کم ہو گئی تو فصلوں کو نقصان پہنچانے والے کیڑوں کی آبادی میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا۔ مختلف علاقوں میں ٹڈی دل اور دوسرے حشرات نے کھیتوں پر حملے کیے، جس سے زرعی پیداوار مزید متاثر ہوئی۔
حکومت نے پوسٹرز، ریلیوں، جلسوں اور سرکاری مہم کے ذریعے عوام کو چڑیوں سمیت چاروں "دشمنوں” کے خاتمے پر آمادہ کیا۔
بچے، بزرگ، خواتین اور سرکاری ملازمین سب اس مہم کا حصہ بنے۔ لوگ برتن، ڈھول اور گھنٹیاں بجاتے تاکہ چڑیاں مسلسل اڑتی رہیں اور تھک کر زمین پر گر جائیں۔ گھونسلے تباہ کیے گئے، انڈے توڑے گئے اور لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں چڑیاں مار دی گئیں۔

مذید خبریں
چاند پر 2030 میں انسان اتارنے کا چینی ہدف :خلا باز ایک سالہ خلائی مشن پر روانہ ۔ – urdureport.com
ایران کے اربوں ڈالر کے منجمد اثاثے چین کیوں واپس نہیں کر رہا؟ – urdureport.com
لیکن پھر قدرت نے جواب دیا
جلد ہی سائنس دانوں کو احساس ہوا کہ چڑیاں صرف اناج نہیں کھاتیں بلکہ وہ ٹڈی دل Locusts، سنڈیاں اور فصلوں کو نقصان پہنچانے والے بے شمار کیڑوں کو بھی کھا جاتی ہیں۔
جب چڑیوں کی تعداد اچانک ختم ہوئی تو ان کیڑوں کی آبادی بے قابو ہو گئی۔ ٹڈی دل نے کھیتوں پر حملے کیے اور لاکھوں ایکڑ فصلیں تباہ ہو گئیں۔
قحط کی ہولناک داستان
اسی دوران چین میں "گریٹ لیپ فارورڈ”(Great Leap Forward) کے تحت زرعی پالیسیاں بھی ناکام ثابت ہوئیں۔ اجتماعی کاشتکاری، غیر سائنسی زرعی تجربات، پیداوار کے غلط سرکاری اعداد و شمار، اناج کی جبری وصولی اور بعض علاقوں میں خراب موسم نے صورتحال مزید خراب کر دی۔
ان تمام عوامل نے مل کر 1959 سے 1962 کے درمیان تاریخ کے بدترین قحطوں Great Chinese Famineمیں سے ایک کو جنم دیا۔
مختلف مؤرخین کے مطابق اس قحط میں تقریباً 2 سے 3 کروڑ جبکہ بعض تحقیقات کے مطابق 4 کروڑ سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
حکومت نے اپنی غلطی تسلیم کی
جب حکام کو معلوم ہوا کہ چڑیوں کے خاتمے نے ماحولیاتی توازن بگاڑ دیا ہے تو حکومت نے چڑیوں کو "چار دشمنوں” کی فہرست سے نکال دیا اور ان کی جگہ کھٹمل (Bedbugs) کو شامل کر لیا۔
بعد ازاں چین نے بعض علاقوں میں چڑیوں کی آبادی بحال کرنے کے لیے بیرون ملک سے بھی چڑیاں منگوائیں۔
چڑیاں منگوا کر چھوڑی گئیں
جب چینی حکومت کو احساس ہوا کہ چڑیوں کے خاتمے نے قدرتی توازن کو بگاڑ دیا ہے تو 1960 میں اس نے چڑیوں کو "چار دشمنوں” کی فہرست سے نکال دیا۔ بعد ازاں سابق سوویت یونین سے تقریباً ڈھائی لاکھ یوریشین ٹری اسپیروز چین منگوائی گئیں تاکہ ان کی آبادی دوبارہ بحال کی جا سکے۔ اگرچہ تاریخی ریکارڈ یہ نہیں بتاتا کہ یہ چڑیاں سوویت یونین کے کن علاقوں سے لائی گئیں یا انہیں چین میں کن مقامات پر چھوڑا گیا، تاہم ماہرین کے مطابق انہیں مرحلہ وار مختلف متاثرہ علاقوں میں چھوڑا گیا اور کئی برسوں میں ان کی آبادی دوبارہ مستحکم ہوئی۔
مہم ایک سبق
فور پیسٹس کمپین آج بھی دنیا بھر میں ماحولیات، زراعت اور عوامی پالیسی کے طلبہ کے لیے ایک اہم مثال سمجھی جاتی ہے۔ یہ واقعہ یاد دلاتا ہے کہ قدرتی نظام میں ہر جاندار کا ایک کردار ہوتا ہے، اور اگر سائنسی تحقیق کے بغیر اس توازن میں مداخلت کی جائے تو نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔
چین کی یہ مہم اگرچہ بیماریوں کے خلاف ایک بڑے قومی منصوبے کا حصہ تھی، لیکن اس نے دنیا کو یہ سبق بھی دیا کہ فطرت کے نظام کو سمجھے بغیر کیے گئے فیصلے کبھی کبھی انسانیت کے لیے بہت بھاری قیمت کا باعث بن سکتے ہیں۔


