تہران / ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے، جہاں ایک جانب ایرانی میڈیا نے سعودی عرب میں موجود امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملے Iran missile attack کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ دوسری جانب ایرانی حکام نے امریکا پر مفاہمتی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے اس پر عملدرآمد معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ Axios نے ایک سینئر امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے سعودی عرب میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے پر بیلسٹک میزائل داغا۔ ادھر ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ سعودی شہر الخرج میں واقع پرنس سلطان ایئر بیس Prince Sultan Air Base کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق مذکورہ فضائی اڈہ امریکی فضائیہ کے ری فیولنگ ٹینکر طیاروں کی میزبانی کر رہا تھا، جو ایران پر ہونے والے امریکی حملوں میں معاونت فراہم کر رہے تھے۔
ایران میں ہلاکتیں
ایرانی وزارتِ صحت کے ترجمان حسین کرمان پور کے مطابق جاں بحق افراد میں پانچ خواتین اور 18 سال سے کم عمر دو بچے اور نوجوان شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ زخمیوں میں 32 خواتین اور 18 کم عمر افراد بھی شامل ہیں، جبکہ 37 زخمی اب بھی مختلف ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکی حملوں کے نتیجے میں شہری علاقوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
کویت ذرائع سے تازہ ترین
ادھر کویت کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق کویت آئل کمپنی سے وابستہ چار بڑی تیل تنصیبات میں سے ایک مسلسل ایرانی حملوں کی زد میں ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ حملوں کے باعث تنصیب کو نمایاں نقصان پہنچا ہے جبکہ کئی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ کویتی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اہم تنصیبات پر منظم حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ شہری انفراسٹرکچر کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس سے عوامی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
کویتی ذرائع کے مطابق ایرانی حملے کے نتیجے میں بجلی کی تنصیبات اور ڈی سیلینیشن پلانٹ کو نقصان پہنچا، جبکہ پلانٹ میں آگ بھی لگ گئی۔ تاہم اس حوالے سے مزید سرکاری تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
دوسری جانب سعودی سول ڈیفنس نے اعلان کیا ہے کہ ینبع اور الخرج کو لاحق ممکنہ خطرات ٹل گئے ہیں۔ اس سے قبل دونوں شہروں کے لیے احتیاطی وارننگ جاری کی گئی تھی۔
ایرانی سفیر کا الزام
ادھر پاکستان میں ایران کے سفیر رضا مقدم امیری نے امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے کئی ماہ کی پاکستانی ثالثی کے بعد طے پانے والی 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کی ہے۔
اپنے بیان میں ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ امریکا نے معاہدے کی یکطرفہ تشریح کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کے بعض حصوں پر کنٹرول حاصل کیا، جسے ایران کسی صورت قبول نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے بین الاقوامی قوانین اور مفاہمتی یادداشت کے برعکس کارروائیاں کرتے ہوئے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔
رضا مقدم امیری نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکی جارحیت اور غیر ذمہ دارانہ اقدامات کی سخت مذمت کرے۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ کا بیان
اسی دوران ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ ایران نے امریکا کے ساتھ طے شدہ مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد معطل کر دیا ہے۔
مذید خبریں
ایران کے مشرق وسطیٰ میں امریکی اہداف پر حملے، چابہار کا نیول واچ ٹاور تباہ – urdureport.com
اینڈی برنہم کون ؟ صحافت سے سیاست اور برطانیہ کی وزارتِ عظمیٰ تک کا سفر – urdureport.com
انہوں نے کہا کہ ایران مذاکرات کے عمل میں شامل تھا، لیکن امریکا نے اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فوجی کارروائیاں شروع کیں، جس کے بعد ایران نے بھی معاہدے کے تمام نکات پر عمل روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔
کاظم غریب آبادی کے مطابق اس وقت ایران کی تمام توجہ اپنے دفاع پر مرکوز ہے، جبکہ امریکا کو اس کی کارروائیوں کا جواب دیا جا رہا ہے۔


