ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اور ممکنہ مذاکرات کے دوران ایک اہم مسئلہ بار بار سامنت آرہا ہے اور وہ ہے ایران کے بیرونِ ملک منجمد (Frozen) اثاثے، جن کی مالیت 100 ارب ڈالر سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔
ایران کی حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ رقم دراصل اس کی اپنی کمائی Irani earning ہے، خاص طور پر تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدن، لیکن یہ رقوم مختلف ممالک کے بینکوں میں امریکی اور بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے منجمد ہیں، جس کے باعث تہران ان تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔
ماہرین کے مطابق یہ رقم ایران کی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ اس کی سالانہ تیل آمدن سے کئی گنا زیادہ ہے اور اگر یہ رقم جاری ہو جائے تو معاشی صورتحال Iran economic situation میں بڑا فرق آ سکتا ہے۔

ایران کا مطالبہ ؟
موجودہ مذاکرات میں ایران کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ کم از کم 6 ارب ڈالر فوری طور پر جاری کیے جائیں تاکہ یہ اعتماد سازی (confidence-building measure) کے طور پر استعمال ہو سکیں۔ اور اس ابتدائِ رقم کے اجرا میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔
منجمد اثاثے کیا ہوتے ہیں؟
منجمد اثاثے وہ رقوم یا مالی وسائل ہوتے ہیں جو:
- کسی ملک کے بینک اکاؤنٹس میں موجود ہوں
- لیکن سیاسی یا قانونی پابندیوں کی وجہ سے استعمال نہ کیے جا سکیں
- اور ان کی منتقلی یا خرچ کرنے پر پابندی ہو
یہ پابندیاں عام طور پر سیکیورٹی، سیاسی تنازعات یا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات کی بنیاد پر لگائی جاتی ہیں۔
یہ اثاثے کیوں منجمد ہوئے؟
یہ سلسلہ 1979 میں شروع ہوا جب امریکہ نے ایران پر پابندیاں عائد کیں۔ اس وقت تہران میں امریکی سفارت خانے کے اہلکاروں کو یرغمال بنایا گیا تھا، جس کے بعد امریکہ نے ایران کے مالی اثاثے روک دیے۔
بعد میں:
- ایران کے جوہری پروگرام پر تنازع بڑھتا گیا
- امریکہ اور یورپی ممالک نے مزید پابندیاں لگا دیں
- اور ایران کی بیرونی مالی رسائی محدود ہوتی گئی
2015 میں جوہری معاہدے (JCPOA) کے بعد کچھ رقوم بحال ہوئیں، لیکن 2018 میں امریکہ کے اس معاہدے سے نکلنے کے بعد دوبارہ پابندیاں لگ گئیں اور اثاثے منجمد ہو گئے۔
چین نے کیوں پابندی لگا رکھی ہے؟
چین کے حوالے سے ایران کے منجمد یا محدود اثاثوں کا معاملہ دراصل مکمل ضبطی (freeze) سے زیادہ بینکنگ پابندیوں اور عالمی مالی نظام کی پیچیدگیوں سے جڑا ہوا ہے۔چین اور ایران کے درمیان تجارت، خاص طور پر تیل کی خرید و فروخت، مسلسل جاری ہے۔ تاہم ادائیگیوں کے نظام پر امریکی پابندیوں اور عالمی مالی قواعد کی وجہ سے ایران کو اپنی تمام رقوم تک آزادانہ رسائی حاصل نہیں ہو پاتی۔
اگر چین ایران کے ساتھ کھل کر تجارت کرتا ہے اور ادائیگیوں کے نظام کو درست رکھتا ہے تو چینی بینکوں کو امریکہ کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اس لیے چین احتیاط سے کام لیتا ہے۔
ایران کا پیسہ کہاں پڑا ہے یہ اہم نہیں بلکہ یہ اہم ہے کہ دنیا میں کس کا عالمی بینکنگ سسٹم پر کنٹرول ہے اور اس لیے تمام تر پابندیاں امریکی احکامات سے جڑی ہوئی ہیں۔
ایران کے اثاثے کہاں کہاں موجود ہیں؟
رپورٹس کے مطابق ایران کے منجمد اثاثے مختلف ممالک میں موجود ہیں:
- 🇨🇳 چین میں تقریباً 20 ارب ڈالر
- 🇮🇳 بھارت میں تقریباً 7 ارب ڈالر
- 🇯🇵 جاپان میں تقریباً 1.5 ارب ڈالر
- 🇮🇶 عراق میں تقریباً 6 ارب ڈالر
- 🇺🇸 امریکہ میں تقریباً 2 ارب ڈالر
- 🇶🇦 قطر میں تقریباً 6 ارب ڈالر
- 🇪🇺 یورپی ممالک (جیسے لکسمبرگ) میں تقریباً 1.6 ارب ڈالر
یہ رقم ایران کے لیے کیوں اہم ہے؟
ماہرین کے مطابق یہ اثاثے ایران کے لیے “زندہ معیشت” کی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ:
- یہ ملک کی معیشت کو سہارا دے سکتے ہیں
- مہنگائی اور کرنسی کی گراوٹ کم ہو سکتی ہے
- صنعت اور انفراسٹرکچر کو بہتر بنایا جا سکتا ہے
- جنگ کے بعد تعمیرِ نو میں مدد مل سکتی ہے
ماہرین کی رائے
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ رقم ایران کو واپس مل جائے تو:
- ملک کی معیشت میں فوری بہتری آ سکتی ہے
- حکومت کو عوامی دباؤ کم کرنے میں مدد ملے گی
- لیکن امریکہ کی شرائط اور عالمی سیاست اس عمل کو پیچیدہ بنا سکتی ہے
یہ بھی پڑھئِے


