ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ کی جانب سے ایرانی آبنائے ہرمز پر ناکہ بندی (blockade) جاری رہی تو ایران بحیرہ احمر، خلیج فارس اور خلیج عمان میں بحری تجارت روک سکتا ہے۔
بحیرہ احمر (Red Sea) دنیا کے سب سے اہم بحری تجارتی راستوں میں سے ایک ہے، کیونکہ یہ یورپ، ایشیا اور افریقہ کو جوڑتا ہے۔ اس راستے سے خاص طور پر تیل، گیس اور کنٹینر شپنگ گزرتی ہے۔

ایران کی مسلح افواج کے متحدہ کمانڈ کے سربراہ میجر جنرل علی عبدollahi نے اس ناکہ بندی کو “غیر قانونی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو اسے سیزفائر معاہدے کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔ ان کے مطابق ایران ایسے حالات میں کسی بھی درآمد و برآمد کو جاری نہیں رہنے دے گا۔
انہوں نے کہا:“اگر پابندیاں ختم نہ کی گئیں تو ایران خلیج فارس، خلیج عمان اور بحیرہ احمر میں کسی بھی تجارتی سرگرمی کی اجازت نہیں دے گا۔”
اگرچہ ایران براہِ راست بحیرہ احمر سے نہیں جڑا ہوا، لیکن وہاں اس کا اثر موجود ہے کیونکہ یمن کے حوثی باغی ایران کے اتحادی سمجھے جاتے ہیں اور ماضی میں انہوں نے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کو نشانہ بھی بنایا ہے۔
سینٹ کام کا موقف
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق ایران کی بندرگاہوں پر ناکہ بندی مکمل طور پر نافذ کر دی گئی ہے، جس کے بعد ایران کی زیادہ تر معاشی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔ تاہم آبنائے ہرمز سے کچھ تجارتی بحری راستہ اب بھی کھلا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال انتہائی حساس ہے کیونکہ خلیج فارس اور بحیرہ احمر دنیا کی تیل اور تجارت کی بڑی شاہراہیں ہیں، اور یہاں آبنائے ہرمز کی بندش کی طرز پر کسی بھی کشیدگی سے عالمی معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئِے


