وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے ایک پریس کانفرنس میں واضع کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات دوبارہ ہوئے تو اسلام آباد میں ہی ہوں گے کیوں کہ پاکستان اس معاملے میں واحد ثالث ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اور اس وقت بھی پاکستان Pakistan ہی ایران کے ساتھ امریکا کے مذاکراتی عمل Iran USA talks میں واحد ثالث mediatorہے باوجود اس کہ دنیا کے کئی ممالک نے بھی ثالث بننے کی پیشکش کی ہے لیکن صدر سمجھتے ہیں کہ اس رابطے کو آسان رکھنے کے لیے پاکستان کے ذریعے ہی آگے بڑھنا اہم ہے۔
آئی ایس پی آر کا بیان

دوسری جانب پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر field marshal Syed Asim Muneer اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایک اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ تہران پہنچ گئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی وفد ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات سے متعلق جاری سفارتی اور ثالثی کوششوں کے سلسلے کو آگے بڑھائیں گے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ دورہ خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی
عرب میڈیا کے مطابق پاکستان کے اعلیٰ سطح کے وفد کا پُرتپاک استقبال ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد ایرانی حکومت کے اعلیٰ ترین حکام سے ملاقات کرے گا جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف اس وقت سعودی عرب کے دورے پر ہیں۔
ایران کا موقف
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کے ذریعے امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ امکان ہے کہ اگلے بدھ کو اسلام آباد ایک بار پھر مذاکرات کی میزبانی کرے گا۔
ترجمان نے کہا کہ بات چیت کا مقصد جنگ بندی، پابندیوں میں نرمی اور کشیدگی میں کمی ہے، جبکہ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں چاہتا اور اپنے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
امریکی وفد کی قیادت
امریکی ٹی وی چینل سی این این نے امکان ظاہر کیا ہے کہ امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس JD Vanceایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں بھی امریکی وفد کی قیادت کریں گے۔
امریکی میڈیا کے مطابق اس وفد میں سابق صدر کے داماد جیرڈ کشنر اور مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی مندوب اسٹیو وٹکوف بھی شامل ہوں گے، جو مذاکراتی عمل میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئِے


