19 اگست 2026
اردو رپورٹ ڈیسک
پاکستان نے توانائی کے شعبے میں ایک بڑے صنعتی منصوبے کی جانب اہم پیش رفت کی ہے، جس کے تحت ملکی آئل ریفائنریوں کو جدید بنانے کے لیے نئی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کی گئی ہے۔ ریفائننگ پالیسی میں ترامیم کے بعد پانچ مقامی ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن کے لیے 4.5 ارب سے 6 ارب ڈالر تک سرمایہ کاری متوقع ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی Pakistan Oil Refining Policy2023 میں ترامیم کی منظوری دی ہے۔
نظرثانی شدہ پالیسی کا بنیادی مقصد پٹرول اور ڈیزل کی مقامی پیداوار میں اضافہ، یورو فائیو معیار کے ایندھن کی تیاری، فرنس آئل کی پیداوار میں کمی اور ملک کی توانائی ضروریات کو زیادہ مضبوط بنانا ہے۔
حکومت کو توقع ہے کہ ریفائنریوں کی جدید کاری Refinery Modernizationکے نتیجے میں پاکستان کو بیرون ملک سے تیار شدہ پیٹرولیم مصنوعات منگوانے کی ضرورت کم ہوگی اور ملک میں خام تیل کی زیادہ مقدار کو مقامی طور پر پراسیس کیا جا سکے گا۔
حکام کے مطابق ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن Refinery Upgradesمیں تاخیر کی وجہ سے پاکستان کو سالانہ 1.5 سے 2 ارب ڈالر تک کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا تھا۔ سرمایہ کاری کے حصول کے لیے پیٹرولیم ڈویژن کو قطر اور سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں روڈ شوز منعقد کرنے کی ذمہ داری بھی دی گئی ہے۔
پانچ ریفائنریوں کی جدید کاری
ملک کی پانچ بڑی ریفائنریوں، پاک عرب ریفائنری کمپنی (PARCO)، پاکستان ریفائنری لمیٹڈ (PRL)، سنرجیکو پاکستان لمیٹڈ (CPL)، اٹک ریفائنری لمیٹڈ (ARL) اور نیشنل ریفائنری لمیٹڈ (NRL) کے منصوبوں میں مجموعی طور پر تقریباً 4.5 سے 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔
سنرجیکو پاکستان لمیٹڈ تقریباً 1.2 ارب ڈالر کے تین مرحلوں پر مشتمل منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ اس میں گرین فیول کی پیداوار، بوٹم آف دی بیرل اپ گریڈ، پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور نئی سنگل پوائنٹ مورنگ سہولت کی تعمیر شامل ہے۔
ریفائنری کی موجودہ صلاحیت
ملک کی سب سے بڑی نجی ریفائنری کی موجودہ صلاحیت تقریباً 156,000 بیرل یومیہ ہے جسے بڑھا کر تقریباً 200,000 بیرل یومیہ کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ منصوبے کے پہلے مرحلے میں یورو فائیو اور یورو سکس ایندھن کے معیار کے حصول پر کام جاری ہے۔
پاکستان ریفائنری لمیٹڈ تقریباً 1.8 سے 2 ارب ڈالر کی لاگت سے بوٹم آف دی بیرل اپ گریڈیشن منصوبہ تیار کر رہی ہے۔ اس منصوبے کے نتیجے میں ریفائنری کی خام تیل پراسیسنگ کی صلاحیت تقریباً دوگنا ہونے کی توقع ہے۔
پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مشترکہ منصوبے PARCO نے مختلف اپ گریڈیشن منصوبوں کا جائزہ لینے کے بعد 600 ملین ڈالر کے گرین فیول منصوبے کا انتخاب کیا ہے۔ ریفائنری یورو تھری سے مکمل طور پر یورو فائیو معیار پر منتقل ہونے کی تیاری کر رہی ہے۔
PARCO نے پہلے ہی فرنس آئل کی پیداوار کم کردی ہے جبکہ طویل مدت میں اسے مکمل طور پر ختم کرنے کا ہدف بھی رکھا گیا ہے۔
نیشنل ریفائنری لمیٹڈ پہلے ہی یورو فائیو ہائی اسپیڈ ڈیزل تیار کر رہی ہے۔ کمپنی خام تیل کی پراسیسنگ کی صلاحیت 50,000 بیرل یومیہ سے بڑھا کر 70,000 بیرل یومیہ کرنے پر بھی غور کر رہی ہے، تاہم حتمی ڈیزائن ابھی زیر غور ہے۔
ماہرین کے مطابق ان منصوبوں کے مکمل ہونے سے ریفائنریاں ڈیپ کنورژن یونٹس میں تبدیل ہوسکیں گی، جہاں خام تیل کے بھاری اجزا کو کم قیمت فرنس آئل کے بجائے زیادہ مالیت رکھنے والے پٹرول اور ڈیزل میں تبدیل کیا جا سکے گا۔
سرمایہ کاری کیسے ہوگی؟
نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر باسم رضا کے مطابق 4.5 سے 5 ارب ڈالر کی متوقع رقم براہ راست حکومتی اخراجات نہیں بلکہ ریفائنری سیکٹر میں ہونے والی منصوبہ بند سرمایہ کاری ہے۔
حکومت کی جانب سے مجموعی سرمایہ کاری میں حصہ تقریباً 27.5 فیصد تک رہنے کی توقع ہے، جو ایسکرو بنیاد پر مراعات اور ٹیکس چھوٹ کی شکل میں دیا جائے گا۔
باقی رقم ریفائنریاں اپنی ایکویٹی، کمرشل قرضوں، غیر ملکی فنانسنگ اور اسٹریٹجک شراکت داری کے ذریعے حاصل کریں گی۔
پاکستانی ریفائنریاں منصوبوں کے لیے سعودی عرب، آذربائیجان اور ترکی میں سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں سے رابطے میں ہیں۔
اصل مقصد درآمدات کم کرنا ہے
باسم رضا کے مطابق اس منصوبے کا مقصد پاکستان کو ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کا بڑا برآمد کنندہ بنانا نہیں بلکہ ملک سے زرمبادلہ کے اخراج کو کم کرنا ہے۔
پاکستان اپنی ضرورت کا ایک بڑا حصہ تیار شدہ پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد سے پورا کرتا ہے، جس کے باعث قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے۔
جدید ریفائنریاں زیادہ خام تیل ملک کے اندر پراسیس کریں گی، جس سے درآمد شدہ تیار ایندھن پر انحصار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
پٹرول کی قیمت فوری کم ہونے کا امکان نہیں
ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن کے باوجود صارفین کو پٹرول پمپ پر فوری طور پر قیمتوں میں کمی کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔
ماہرین کے مطابق جدید پلانٹس سے ایندھن کے معیار اور پیداواری کارکردگی میں بہتری ضرور آئے گی جبکہ درآمدی بل میں کمی سے زرمبادلہ کی بچت بھی ممکن ہوگی۔
تاہم پٹرول اور ڈیزل کی خوردہ قیمتوں کا تعین عالمی خام تیل کی قیمت، روپے اور ڈالر کی شرح تبادلہ، پیٹرولیم لیوی اور مختلف ٹیکسوں سمیت کئی عوامل سے ہوتا ہے۔
اس لیے ریفائنریوں کی جدید کاری کا فوری فائدہ پٹرول پمپ پر سستا ایندھن فراہم کرنے کے بجائے توانائی کے تحفظ اور زرمبادلہ کی بچت کی صورت میں سامنے آنے کا امکان ہے۔
ریفائنری اپ گریڈیشن میں چھ سال کی تاخیر
پاکستان میں ایندھن کے معیار کو یورو ٹو سے یورو فائیو تک لے جانے کا فیصلہ 2020 میں کیا گیا تھا۔ ریفائنریوں نے اس مقصد کے لیے ابتدائی طور پر دو سال کا وقت طلب کیا تھا، تاہم مراعات اور منصوبوں کی مالی حیثیت پر اختلافات کے باعث کئی برس تک خاطر خواہ پیش رفت نہ ہوسکی۔
ماہرین پاکستان کے ریفائنری اپ گریڈیشن منصوبوں کو بحیرہ عرب کے انڈس بیسن میں تیل و گیس کی تلاش سے بھی جوڑ رہے ہیں۔
اگر ملک میں تجارتی بنیادوں پر خام تیل کے ذخائر دریافت ہوتے ہیں تو جدید ریفائنریاں کم سلفر والے مقامی خام تیل کو یورو فائیو معیار کے مطابق پراسیس کرنے کے قابل ہوں گی۔ تاہم مقامی دریافتیں نہ بھی ہوتیں تو جدید ریفائنریاں تیار شدہ ایندھن کی درآمد کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
ریفائنری معاہدوں کی ذمہ داری پیٹرولیم ڈویژن کو
حکومت نے براؤن فیلڈ ریفائنری اپ گریڈ معاہدوں کی تیاری، دستخط اور نگرانی کی ذمہ داری آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) سے واپس لے کر پیٹرولیم ڈویژن کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے تصدیق کی کہ اب یہ معاہدے اوگرا کے بجائے براہ راست پیٹرولیم ڈویژن کے ساتھ طے کیے جائیں گے۔
ان کے مطابق پیٹرولیم سیکریٹری معاہدوں کو حتمی شکل دینے کے عمل کی نگرانی کر رہے ہیں اور دستاویزات مکمل ہونے کے بعد دستخط کیے جائیں گے۔
پیٹرولیم ڈویژن کے ڈائریکٹر جنرل آئل کو معاہدوں پر عملدرآمد کی نگرانی کی ذمہ داری دی جائے گی۔
اس فیصلے کے بعد وزارت پٹرولیم کو اربوں ڈالر کے ریفائنری اپ گریڈ معاہدوں کی تیاری، مذاکرات اور عملدرآمد کی نگرانی میں براہ راست کردار حاصل ہوجائے گا۔
صنعت کی جانب سے فیصلے کا خیرمقدم
توانائی کے ماہرین اور صنعتی حلقوں نے ریفائننگ پالیسی میں ترامیم کی منظوری کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے پاکستان کے زرمبادلہ کے دباؤ کو کم کرنے اور ایندھن کے معیار کو بہتر بنانے کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے۔
تاہم بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے صارفین کو فوری مالی ریلیف ملنے کی ضمانت نہیں دی جاسکتی کیونکہ پٹرول کی قیمتیں عالمی منڈی، روپے کی قدر اور حکومتی ٹیکس و لیویز سے براہ راست متاثر ہوتی ہیں۔
منصوبوں کے لیے اربوں ڈالر کی غیر ملکی فنانسنگ حاصل کرنا بھی حکومت اور ریفائنریوں کے لیے ایک بڑا امتحان ہوگا۔
اب اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟
پالیسی ترامیم کی منظوری کے بعد اب حکومت اور ریفائنریوں کی توجہ عملدرآمد پر مرکوز ہوگی۔
اگلے مرحلے میں ہر ریفائنری کے لیے مالی معاہدوں کو حتمی شکل دینا، غیر ملکی قرض دہندگان سے مذاکرات اور طویل مدتی منصوبوں کے لیے سرمایہ حاصل کرنا شامل ہے۔
خلیجی ممالک میں حکومتی روڈ شوز کا مقصد بھی ممکنہ سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں کو پاکستان کے ریفائنری اپ گریڈ منصوبوں کی جانب راغب کرنا ہے۔
تاہم منصوبے کی اصل کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ریفائنریاں مطلوبہ سرمایہ کب تک حاصل کرتی ہیں اور اربوں ڈالر کے یہ منصوبے مقررہ مدت میں کس حد تک مکمل کیے جاتے ہیں۔


