اردو رپورٹ ڈیسک
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کی تجارتی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں کہا کہ کینیڈا کئی سال سے امریکا کو تجارتی نقصان پہنچا رہا ہے اور امریکی کسانوں کی زرعی مصنوعات پر انتہائی بلند ٹیرف عائد کرتا ہے۔
امریکی صدر کے مطابق امریکا اور کینیڈا کے درمیان طویل عرصے سے موجود تجارتی خسارہ اب مزید قابل قبول نہیں۔
ٹرمپ کا اعلان
ٹرمپ نے اعلان کیا کہ یکم جنوری 2027 سے کینیڈا سے امریکا آنے والی گاڑیوں، گاڑیوں کے پرزہ جات اور اسٹیل پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔
انہوں نے کینیڈا کو مشورہ دیا کہ اگر وہ نئے ٹیرف سے بچنا چاہتا ہے تو اپنی مصنوعات امریکا میں تیار کرے، جہاں ان پر یہ ٹیرف لاگو نہیں ہوگا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکا اب کینیڈا کے ساتھ کسی ریاست جیسا سلوک نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ تجارت سمیت مختلف معاملات میں کینیڈا دنیا کے مشکل ترین ممالک میں شامل ہے اور وہ خود کو ضرورت سے زیادہ حق دار سمجھتا ہے۔
کینیڈا امریکہ تعلقات
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ کینیڈا کی تقریباً 95 فیصد تجارت امریکا کے ساتھ ہے، اس لیے کینیڈا کو امریکا کی زیادہ ضرورت ہے جبکہ امریکا کینیڈا پر اسی طرح انحصار نہیں کرتا۔
مارک کارنی کا ردعمل
وزیراعظم کی یڈا مارک کارنی نے پیر کو کہا کہ جب امریکا "درست رویہ” اختیار کرے گا تو کینیڈا دوبارہ مذاکرات کی میز پر واپس آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا کے ساتھ امریکا کی ذیلی ریاست یا ماتحت ادارے جیسا سلوک نہیں کیا جا سکتا
وٹاوا منگل کو امریکی ٹیرف کے جواب میں جوابی اقدامات اور کینیڈین کارکنوں و کاروباری اداروں کے لیے نئی معاونت کا اعلان کرے گا۔ ذرائع کے مطابق جوابی ٹیرف کی زد میں آنے والی مصنوعات مختلف نوعیت کی ہوں گی اور ان کے متبادل کینیڈا میں آسانی سے دستیاب ہوں گے۔
تقریباً 28 ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد امریکی ٹیرف ہفتے کی صبح نافذ ہوگیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان طویل تجارتی مذاکرات ناکام ہوگئے۔ وزیراعظم مارک کارنی نے کہا کہ کینیڈا کی جانب سے امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف 8 ستمبر سے عائد کیے جائیں گے


