اردو رپورٹ ڈیسک
اسلام آباد: وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے ٹیکنیکل ونگ نے دفاعی رہائشی اتھارٹی (DHA) راولپنڈی اسلام آباد سے رابطہ کرتے ہوئے کمانڈرز اسکائی گارڈنز منصوبے میں بطور جوائنٹ وینچر پارٹنر شمولیت کی درخواست کر دی۔
اس حوالے سے ایڈمنسٹریٹر DHA راولپنڈی اسلام آباد کے نام ایک باضابطہ خط ارسال کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائیز ہاؤسنگ اتھارٹی (FGEHA) کمانڈرز اسکائی گارڈنز منصوبے پر ترقیاتی کام مقررہ شیڈول کے مطابق آگے بڑھا رہی ہے، تاہم DHA کی شمولیت سے منصوبے کو مزید مؤثر انداز میں مکمل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
وزارت نے تجویز دی ہے کہ DHA اس منصوبے میں اسی نوعیت کی شراکت داری پر غور کرے جیسی FGEHA کے ساتھ لائرز ہاؤسنگ سوسائٹی اور کیری منصوبے میں دیگر اداروں کے ساتھ موجود ہے۔
منصوبے میں DHA کے لیے کیا فوائد ہیں؟
خط میں DHA کی ممکنہ شمولیت کے حوالے سے منصوبے کے محل وقوع اور ترقیاتی صورتحال کو اہم عوامل قرار دیا گیا ہے۔
وزارت کے مطابق کمانڈرز اسکائی گارڈنز منصوبہ DHA مارگلہ اور DHA کیری کے قریب واقع ہے، جس کے باعث اسے DHA کی موجودہ ہاؤسنگ اسکیموں کی توسیع کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ منصوبے کو اس وقت مری ایکسپریس وے کے ذریعے رسائی حاصل ہے جبکہ مستقبل میں مجوزہ رنگ روڈ سے رابطہ اس کی اہمیت اور رسائی میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔
وزارت نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ منصوبے کی زمین کلیئر اور ادارے کے قبضے میں ہے جبکہ ترقیاتی کام بھی جاری ہیں۔ خط کے مطابق زمین اور منصوبے کی موجودہ صورتحال متعلقہ حکام کے معائنے اور تصدیق سے جانچی جا سکتی ہے۔
کمانڈرز اسکائی گارڈنز منصوبہ کیا ہے؟
کمانڈرز اسکائی گارڈنز، جسے گرین انکلیو-II بھی کہا جاتا ہے، FGEHA اور میسرز کمانڈرز اسکائی گارڈن کے درمیان ایک مشترکہ منصوبہ ہے۔ دونوں فریقوں کے درمیان اس حوالے سے معاہدہ 11 اکتوبر 2019 کو طے پایا تھا۔
یہ منصوبہ مری کے قریب موضع کھٹر و مینگل میں تقریباً 11 ہزار کنال اراضی پر مشتمل ہے، جس میں سے 7,200 کنال اراضی FGEHA کو منتقل کی جا چکی ہے۔
منصوبہ بنیادی طور پر 2009 کی ممبرشپ ڈرائیو کے تحت رجسٹرڈ وفاقی ملازمین کے لیے شروع کیا گیا تھا۔ معاہدے کے تحت رہائشی اور کمرشل پلاٹوں کی تقسیم کے لیے مختلف حصص مقرر کیے گئے ہیں۔
ماضی میں منصوبے کو مشکلات کا سامنا رہا
کمانڈرز اسکائی گارڈنز منصوبے کو ماضی میں نیب کی تحقیقات اور سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت مقدمات کے باعث تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم متعلقہ اداروں سے کلیئرنس ملنے کے بعد منصوبے پر ترقیاتی سرگرمیوں میں دوبارہ تیزی آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
اب وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس کی جانب سے DHA کو جوائنٹ وینچر پارٹنر بنانے کی تجویز سامنے آنے کے بعد منصوبہ ایک مرتبہ پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
حتمی شراکت داری کا فیصلہ ابھی باقی
ہاؤسنگ سیکٹر کے ماہرین کے مطابق سرکاری ہاؤسنگ اداروں کے درمیان شراکت داری سے بڑے منصوبوں میں انتظامی صلاحیت، وسائل اور ترقیاتی تجربے سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
تاہم DHA کی جانب سے شمولیت کی صورت میں حتمی معاہدے سے قبل زمین کی قانونی حیثیت، منصوبے کے مالی معاملات، شراکت داری کے تناسب، ذمہ داریوں اور دیگر قانونی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لینا ضروری ہوگا۔
فی الحال وزارت کی جانب سے DHA کو جوائنٹ وینچر پارٹنر بننے کی درخواست کی گئی ہے، جبکہ اس تجویز پر حتمی فیصلہ متعلقہ حکام کی منظوری اور باقاعدہ معاہدے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔
مذید پڑھئِں
اسلام آباد میں پلاٹوں کے نام پر فائلوں کا غیر قانونی دھندہ،شہری لٹ گئے – urdureport.com


