اردو رپورٹ ڈیسک
پاکستان کے تاریخی اور ثقافتی ورثے سے وابستہ مزید 12 اہم مقامات کو یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثے کی عارضی فہرست میں شامل کرنے کی پیش رفت ہوئی ہے، جس سے مستقبل میں ان مقامات کو عالمی ورثے کی حتمی فہرست میں شامل کیے جانے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔
یونیسکو کے عالمی ورثے کے نظام کے تحت کسی بھی تاریخی یا ثقافتی مقام کو حتمی فہرست میں شامل کرنے سے پہلے متعلقہ ملک کی Tentative List میں جگہ دی جاتی ہے۔ اس مرحلے کے بعد نامزدگی، تحفظ، دستاویز سازی اور انتظامی منصوبہ بندی سمیت مختلف تقاضے پورے کرنا ضروری ہوتے ہیں۔
چاروں صوبوں اور اسلام آباد کے تاریخی مقامات شامل

مجوزہ مقامات میں خیبرپختونخوا، پنجاب، سندھ اور اسلام آباد کے تاریخی، مذہبی، ثقافتی اور آثارِ قدیمہ سے متعلق مقامات شامل ہیں۔
اس فہرست میں کالاش وادی کا ثقافتی منظرنامہ، کوٹ ڈیجی قلعہ، نوکوٹ قلعہ، عمرکوٹ قلعہ، بھامالا بدھ مت کمپلیکس، بازیرا بریکوٹ آثارِ قدیمہ، گور کھتری، سیٹھی ہاؤس، مائی قمرو مسجد، پھروالا قلعہ، روات قلعہ اور سلطان مقرب خان کا مقبرہ شامل ہیں۔
کالاش وادی کا منفرد ثقافتی ورثہ
چترال کی کالاش وادی اپنی منفرد ثقافت، روایتی تہواروں، زبان، لباس اور قدیم رسوم و رواج کے باعث پاکستان کے نمایاں ثقافتی علاقوں میں شمار ہوتی ہے۔
کالاش برادری کی صدیوں پر محیط روایات اور طرز زندگی اس علاقے کو پاکستان کے دیگر ثقافتی خطوں سے ممتاز بناتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق وادی کا ثقافتی منظرنامہ عالمی سطح پر بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

سندھ کے قلعے اور قدیم تہذیب کے آثار
سندھ سے کوٹ ڈیجی قلعہ، نوکوٹ قلعہ اور عمرکوٹ قلعہ کو فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
خیرپور کا کوٹ ڈیجی قلعہ اپنی مضبوط فصیلوں اور دفاعی تعمیرات کے باعث تاریخی اہمیت رکھتا ہے، جبکہ اس کے اطراف کے آثار قدیمہ کا تعلق وادی سندھ کی قدیم تہذیب سے بھی جوڑا جاتا ہے۔
نوکوٹ قلعہ تھر کے صحرائی خطے میں دفاعی تعمیرات کی نمایاں مثال ہے، جبکہ عمرکوٹ قلعہ خطے کی راجپوت اور اسلامی تاریخ سے جڑی اہم یادگار تصور کیا جاتا ہے۔
گندھارا تہذیب کے اہم مراکز
خیبرپختونخوا میں بھامالا بدھ مت کمپلیکس اور سوات کا بازیرا بریکوٹ آثارِ قدیمہ بھی مجوزہ فہرست کا حصہ ہیں۔
ہری پور کے قریب واقع بھامالا میں بدھ مت کے قدیم آثار، اسٹوپا اور فنِ مجسمہ سازی کے نمونے موجود ہیں۔ دوسری جانب سوات کا بازیرا بریکوٹ قدیم گندھارا خطے کا ایک اہم مرکز رہا ہے جہاں مختلف تہذیبوں کے اثرات دیکھنے کو ملتے ہیں۔
پشاور کے تاریخی ورثے کو بھی عالمی شناخت کی امید
پشاور کے گور کھتری آثارِ قدیمہ کمپلیکس اور سیٹھی ہاؤس کو بھی عالمی ثقافتی ورثے کی عارضی فہرست میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
گور کھتری مختلف تاریخی ادوار کی تہذیبی باقیات اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، جبکہ سیٹھی ہاؤس اپنی روایتی لکڑی کے کام، نقش و نگار اور منفرد تعمیراتی انداز کے باعث پشاور کے اہم ثقافتی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔
اسلام آباد کے قریب قدیم مسجد اور قلعے
اسلام آباد کی حدود میں واقع مائی قمرو مسجد بھی اس فہرست میں شامل ہے۔ باغ جوگیاں اور قلعہ پھروالا کے قریب واقع یہ قدیم مسجد خطے میں اسلامی فن تعمیر کی تاریخی جھلک پیش کرتی ہے۔
راولپنڈی کے قریب پھروالا قلعہ اور روات قلعہ بھی مجوزہ مقامات میں شامل ہیں۔ دونوں قلعے خطے کے قدیم دفاعی نظام اور تاریخی راستوں کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔
سلطان مقرب خان کا مقبرہ بھی پنجاب کے تاریخی اسلامی فن تعمیر کی نمائندگی کرنے والے مقامات میں شامل ہے۔

پاکستان کے عالمی ورثے میں پہلے سے 6 مقامات
پاکستان اس وقت یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثے کی حتمی فہرست میں 6 مقامات رکھتا ہے۔ ان میں موہنجودڑو، ٹیکسلا، تخت بھائی، لاہور قلعہ اور شالامار باغ، مکلی کے تاریخی آثار اور روہتاس قلعہ شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق مزید مقامات کا عارضی فہرست میں شامل ہونا پاکستان کے وسیع تاریخی اور ثقافتی ورثے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا اہم موقع ہے۔
عالمی ورثے کا درجہ ملنے سے کیا فائدہ ہوگا؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ یونیسکو کی عالمی شناخت سے تاریخی مقامات کے تحفظ، بحالی اور بہتر انتظام کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ثقافتی سیاحت کو فروغ، مقامی آبادی کے لیے معاشی مواقع اور پاکستان کے تاریخی تشخص کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
تاہم صرف عارضی فہرست میں شامل ہونا عالمی ورثے کا حتمی درجہ حاصل کرنے کے لیے کافی نہیں۔ ہر مقام کو تحفظ، دستاویز سازی، انتظامی منصوبہ بندی اور عالمی معیار کے دیگر تقاضے پورے کرنا ہوں گے۔
بلوچستان اور گلگت بلتستان کے مقامات بھی توجہ کے مستحق
ماہر آثارِ قدیمہ ڈاکٹر پروفیسر معیزالدین کے مطابق پاکستان کے دیگر علاقوں میں موجود تاریخی مقامات کو بھی عالمی سطح پر متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان، گلگت بلتستان اور کشمیر میں متعدد ایسے آثار موجود ہیں جو تاریخی اور ثقافتی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے گلگت مخطوطات کو بھی اہم تاریخی ورثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قدیم علمی اور بدھ مت کے ادبی ورثے سے تعلق رکھتے ہیں اور عالمی شناخت کے لیے ان پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔
گلگت بلتستان کے قدیم آثار
ماہر آثارِ قدیمہ کے مطابق کارگاہ بدھا، دنیور اور ہاتھن کے کتبے، منٹھل بدھا اور کھڑپوچو قلعہ سمیت گلگت بلتستان کے کئی دیگر مقامات بھی تاریخی اہمیت رکھتے ہیں۔
ان کے مطابق ان مقامات کی مناسب دستاویز سازی اور تحفظ کے ساتھ مستقبل میں انہیں بھی عالمی سطح پر پیش کیا جاسکتا ہے۔
صوبوں کے درمیان مؤثر رابطہ ضروری
ڈاکٹر معیزالدین کے مطابق 18ویں آئینی ترمیم کے بعد تاریخی اور ثقافتی مقامات کے تحفظ اور انتظام میں صوبوں کا اہم کردار ہے، تاہم قومی سطح پر بہتر رابطہ کاری کی ضرورت برقرار ہے۔
انہوں نے کہا کہ آثارِ قدیمہ کے تحفظ کے لیے ماہرین، محققین اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین کو منصوبہ بندی میں شامل کرنا ضروری ہے تاکہ تاریخی مقامات کو سائنسی بنیادوں پر محفوظ کیا جاسکے۔
ماہر آثارِ قدیمہ کے مطابق پاکستان کو اپنے تاریخی ورثے کو صرف صوبائی حدود تک محدود نہیں کرنا چاہیے بلکہ ایسے تمام مقامات کو قومی ورثے کے طور پر دیکھنا چاہیے جن کی تاریخی، ثقافتی یا آثارِ قدیمہ کے اعتبار سے عالمی اہمیت ہے۔
مذید پڑھئِے
خبردار یہاں مردوں کا داخلہ منع ہے:وادی کیلاش کی دنیا سے نرالی روایات – urdureport.com
اسلام آباد قدیم گکھڑ ورثہ بحال، 4 تاریخی مقامات سیاحوں کے لیے اوپن – urdureport.com
درہ خیبر كی تاریخی اہمیت : جہاں سكندر اعظم كو بھی اپنا راستہ بدلنا پڑا – urdureport.com


