اردو رپورٹ ڈیسک
اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے چلڈرن وارڈ کی نرسری میں خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد حکومت نے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری کو معطل کرتے ہوئے واقعے کے ذمہ داروں کے تعین کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پمز آتشزدگی کے واقعے پر اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں واقعے کے محرکات اور ہسپتال میں حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے متعلقہ حکام پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری کو فوری طور پر معطل کرنے اور عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا۔
حکومت نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی بھی قائم کردی ہے۔ سابق سیکرٹری داخلہ شاہد خان کو کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے جبکہ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈاکٹر بیرسٹر نبیل اعوان بھی کمیٹی کے رکن ہوں گے۔
پمز واقعہ ماں کی انتہائی دردناک گفتگو pic.twitter.com/L0sxwrIxYb
— Urdu Report (@UrduReportpk) August 26, 2026
صدر زرداری کا اظہار افسوس
صدر مملکت آصف علی زرداری نے پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
صدر زرداری نے ہدایت کی کہ واقعے کے ذمہ دار افراد کا تعین کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے ہسپتالوں میں مریضوں، بالخصوص نومولود بچوں کی حفاظت کے لیے مؤثر فائر سیفٹی نظام اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے مناسب انتظامات یقینی بنانا ضروری ہے۔
اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داروں کے تعین اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی تھی۔
pims hospital incident:No words pic.twitter.com/NuNjb5KMH7
— Urdu Report (@UrduReportpk) August 26, 2026
ہسپتال انتظامیہ نے وارڈ کا دروازہ بند ہونے کی تردید کردی
پمز ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رانا عمران سکندر نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ آتشزدگی کے وقت نرسری کا دروازہ بند یا مقفل تھا۔
عمران سکندر نے میڈیا کو بتایا کہ دروازے پر تالا نہیں لگا ہوا تھا بلکہ وہاں ہسپتال کا عملہ موجود تھا۔ ان کے مطابق عملے کی موجودگی کا مقصد نومولود بچوں کو ممکنہ چوری سے محفوظ رکھنا تھا، کیونکہ ماضی میں سرکاری ہسپتالوں سے بچوں کے چوری ہونے کے واقعات سامنے آچکے ہیں۔جبکہ نومولود بچوں کے والدین نے کہا ہے کہ جب آتشزدگی کا واقعہ ہوا تو نرسی کے دروازے بند تھے کوئی ا ندر نہیں جا سکتا تھا اور آگ بجانےو الے آلات بھی موجود نہیں تھے۔
انہوں نے واضح کیا کہ نرسری میں آگ بجھانے کے لیے پانی کا خصوصی انتظام موجود نہیں تھا، تاہم وہاں فائر ایکسٹنگوشرز رکھے گئے تھے۔ ان کے مطابق آگ پر قابو پانے کی کوشش کے دوران مجموعی طور پر 24 فائر ایکسٹنگوشرز استعمال کیے گئے۔
نرسری میں 15 بچے زیر علاج تھے
پمز ہسپتال کی دستاویز کے مطابق آتشزدگی کے وقت چلڈرن وارڈ کی نرسری میں 15 نومولود بچے داخل تھے، جن میں سے صرف ایک بچے کو محفوظ طریقے سے نکالا جا سکا۔
ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رانا عمران سکندر اور ترجمان ڈاکٹر انیزہ جلیل نے اس واقعے میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق نرسری میں لگنے والی آگ نے انتہائی کم وقت میں شدت اختیار کرلی، جس کے باعث وہاں موجود نومولود بچوں کو شدید خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔ واقعے کے بعد ریسکیو اور ہسپتال کے عملے نے آگ پر قابو پانے اور بچوں کو محفوظ کرنے کی کوششیں کیں۔
آگ لگنے کی وجوہات کی تحقیقات جاری
حکام کی جانب سے آتشزدگی کی حتمی وجہ اور نرسری میں موجود حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی اس بات کا بھی تعین کرے گی کہ آگ لگنے کے وقت حفاظتی نظام کس حالت میں تھا، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیا انتظامات موجود تھے اور آیا کسی سطح پر غفلت یا کوتاہی ہوئی یا نہیں۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ تحقیقات کے نتائج کی روشنی میں ذمہ دار افراد کے خلاف قانون اور ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
واقعے کے بعد ہسپتالوں میں فائر سیفٹی، ایمرجنسی رسپانس اور نومولود بچوں سمیت مریضوں کے تحفظ کے انتظامات پر بھی سوالات اٹھ گئے ہیں۔


