اردو رپورٹ ڈیسک
اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی گائنی وارڈ کی نرسری میں بدھ کی صبح ای سی کا سلنڈر پھٹنے سے خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں 14نومولود بچے جاں بحق ہوگئے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق نرسری میں آگ صبح تقریباً 7 بجے لگی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایئر کنڈیشنر کے کمپریسر میں دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے نرسری کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
پمز ہسپتال کی دستاویز کے مطابق چلڈرن وارڈ میں 15 بچے داخل تھے جن میں سے صرف ایک کو بچایا جا سکا ہے۔ پمز ہسپتال کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر عمران سکندر اور ترجمان ڈاکٹر انیزہ جلیل نے واقعے میں 14 بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔
14نومولود کی اموات
پمز حکام کے مطابق واقعے کے وقت نرسری میں 16 نومولود بچے موجود تھے، جن میں سے ایک بچے کو بحفاظت نکال لیا گیا جبکہ دیگر 14بچے جانبر نہ ہوسکے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں پمز ہسپتال پہنچیں اور آگ پر قابو پالیا۔ واقعے کے بعد ہسپتال میں تشویش کی صورتحال پیدا ہوگئی۔
آگ لگنے کی مکمل وجوہات اور ہسپتال میں حفاظتی انتظامات سے متعلق مزید تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کی جانب سے واقعے کی مزید تفصیلات بھی سامنے آنے کا امکان ہے۔


