سابق وزیراعظم عمران خان کو آنکھوں کے علاج کے سلسلے میں ایک بار پھر اسلام آباد کے پمز ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں آنکھ میں پانچواں انٹرا ویٹریئل انجیکشن لگایا گیا۔
ہسپتال انتظامیہ کے مطابق علاج سے قبل آنکھوں کے ماہرین نے عمران خان کا تفصیلی معائنہ کیا اور ان کی مجموعی طبی حالت کو اطمینان بخش قرار دیا۔ اس دوران آپٹیکل کوہیرنس ٹوموگرافی (OCT) ٹیسٹ بھی کیا گیا جس کے نتائج میں بیماری میں بہتری کے آثار دیکھے گئے۔
طبی ٹیم نے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اور مقررہ طریقہ کار کے تحت آپریشن تھیٹر میں انجیکشن کا عمل مکمل کیا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مریض کی رضامندی حاصل کرنے کے بعد مائیکروسکوپک رہنمائی میں انجیکشن دیا گیا اور پورے عمل کے دوران ان کی حالت مستحکم رہی۔
ڈے کیئر پروسیجر
پمز حکام کے مطابق یہ علاج ڈے کیئر پروسیجر کے طور پر انجام دیا گیا، جس کے بعد عمران خان کو ضروری ادویات، ہدایات اور آئندہ معائنے کے شیڈول کے ساتھ واپس روانہ کر دیا گیا۔
عمران خان اگست 2023 سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں مختلف مقدمات کے باعث قید ہیں۔ رواں سال ان کی دائیں آنکھ میں مرکزی ریٹینل وین اوکلوژن (CRVO) نامی بیماری کی تشخیص ہوئی تھی، جس کے بعد ان کے علاج کا سلسلہ شروع کیا گیا۔
مذید خبریں
عمران خان کی قید کے تین سال اور سابق وزرا اعظم کی جیل کہانیاں – urdureport.com
عمران خان ریلیز فورس کے قیام میں کیا پیشرفت ہوئی, کون کون شامل ہو گا – urdureport.com
اس سے قبل جنوری، فروری، مارچ اور اپریل میں بھی انہیں مختلف مراحل میں طبی معائنے اور انجیکشنز کے لیے ہسپتال منتقل کیا جا چکا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مسلسل علاج کے باعث ان کی آنکھ کی حالت میں بتدریج بہتری آ رہی ہے۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کے حامی ماضی میں متعدد بار ان کی صحت اور دورانِ قید طبی سہولیات تک رسائی کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں، جبکہ حکومتی مؤقف رہا ہے کہ سابق وزیراعظم کو قواعد و ضوابط کے مطابق تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔


