خلائی تحقیق کے میدان میں ایک غیر معمولی واقعہ اس وقت پیش آیا جب اسپیس ایکس (SpaceX) کے فالکن 9 راکٹ کا بالائی حصہ بے قابو ہو کر چاند کی سطح سے جا ٹکرایا۔ ماہرین نے اس واقعے کو خلا میں بڑھتے ہوئے ملبے اور اس کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے ایک اہم تنبیہ قرار دیا ہے۔
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق فالکن 9 راکٹ کو ایک قمری مشن کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ مشن مکمل ہونے کے بعد راکٹ کا بالائی حصہ مطلوبہ مدار میں برقرار نہ رہ سکا اور خلا میں گردش کرتا رہا، جس کے بعد وہ چاند کی سطح سے ٹکرا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ راکٹ کے اس حصے کا وزن تقریباً چار ہزار کلوگرام تھا اور تصادم کے وقت اس کی توانائی تقریباً تین ٹن ٹی این ٹی کے دھماکے کے برابر تھی، جس کے باعث چاند کی سطح پر ایک نیا گڑھا بننے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
زمین کو خطرہ؟
امریکی خلائی ادارے ناسا (NASA) نے واضح کیا ہے کہ اس واقعے سے زمین یا اس کے ماحول کو کسی قسم کا فوری خطرہ لاحق نہیں۔ تاہم، سائنس دانوں کے مطابق یہ واقعہ مستقبل میں خلائی ملبے کے مسئلے کی سنگینی کو اجاگر کرتا ہے، کیونکہ خلا میں گردش کرنے والے غیر فعال راکٹس اور سیٹلائٹس آنے والے برسوں میں خلائی سرگرمیوں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔
خلائی ماہرین کا کہنا ہے کہ چاند پر شہابی پتھروں اور دیگر اجسام کے ٹکرانے کے واقعات معمول کا حصہ ہیں، جبکہ ماضی میں بھی کئی خلائی مشنوں کے آلات جان بوجھ کر یا حادثاتی طور پر چاند سے ٹکرا چکے ہیں۔ اسی وجہ سے حالیہ واقعہ سائنسی اعتبار سے دلچسپی کا باعث ضرور ہے، لیکن اسے فوری تشویش کی علامت نہیں سمجھا جا رہا۔
سائنس دانوں کا خیال ہے کہ مستقبل میں خلائی ملبے کی نگرانی، راکٹس کے محفوظ تصرف اور بین الاقوامی ضوابط کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہوگی تاکہ زمین کے گرد مدار اور گہرے خلا میں سرگرمیوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔


