اردو رپورٹ ڈیسک
خیبرپختونخوا میں سیاحت کے فروغ، نئے سیاحتی مقامات تک رسائی بہتر بنانے، ایڈونچر ٹورازم کو وسعت دینے اور سیاحوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے، جبکہ سیاحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
گزشتہ ایک سال کے دوران صوبے کے 6 اہم سیاحتی مقامات پر ایک کروڑ 44 لاکھ سے زائد ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی آمد ریکارڈ کی گئی۔
عالمی یوم سیاحت 2026
عالمی یوم سیاحت 27 ستمبر کو اس سال ’’سیاحت اور امن‘‘ کے موضوع کے تحت منایا جا رہا ہے۔
خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل شاہد خان مہمند کے مطابق موجودہ دور میں سیاح اپنے سفر کی منصوبہ بندی کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور مصنوعی ذہانت سے زیادہ استفادہ کر رہے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ سیاحتی مقامات سے متعلق معلومات جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کی جائیں۔
سیاحوں کی آمد کے اعداد و شمار
خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کے اعداد و شمار کے مطابق 20 ستمبر 2025 سے 19 ستمبر 2026 تک صوبے کے 6 اہم سیاحتی مقامات پر ایک کروڑ 44 لاکھ 3 ہزار 493 ملکی اور 7 ہزار 647 غیر ملکی سیاح آئے۔
ملکی سیاحوں میں گلیات میں 52 لاکھ 18 ہزار 274، سوات میں 46 لاکھ 65 ہزار 261، ناران کاغان میں 34 لاکھ 41 ہزار 568، کمراٹ میں 9 لاکھ 38 ہزار 726، کالاش ویلی اور گرم چشمہ میں ایک لاکھ 32 ہزار 65 جبکہ بونی اور مستوج میں 7 ہزار 599 سیاحوں کی آمد ریکارڈ ہوئی۔
غیر ملکی سیاحوں میں سوات 3 ہزار 288 کے ساتھ سرفہرست رہا۔ کالاش ویلی اور گرم چشمہ میں 2 ہزار 617، ناران کاغان میں 893، بونی اور مستوج میں 595، کمراٹ میں 136 جبکہ گلیات میں 118 غیر ملکی سیاح پہنچے۔
حکام کے مطابق سیاحوں کی آمد کا ڈیٹا پولیس اور لیویز چیک پوسٹوں، خیبرپختونخوا ٹورسٹ پولیس، اسسٹنٹ کمشنرز کے دفاتر اور متعلقہ ترقیاتی اداروں کے فیلڈ عملے سے حاصل کیا گیا۔
نئے سیاحتی مقامات تک رسائی
خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کے مطابق نئے سیاحتی مقامات کو سیاحوں کے لیے کھولنے اور موجودہ مقامات تک رسائی بہتر بنانے کے لیے مختلف جیپ ٹریکس پر کام جاری ہے۔
ان منصوبوں میں تھل تا جہاز بانڈہ، ایون تا بمبوریت اور لڑم سر تا اسو کنڈو کے راستے شامل ہیں۔
ایڈونچر ٹورازم کا فروغ
ایڈونچر ٹورازم کے فروغ کے لیے سوات اور چترال میں تربیتی مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں مقامی نوجوانوں اور کمیونٹی کو ٹریکنگ، کوہ پیمائی، کیمپنگ، راک کلائمبنگ، سکینگ، سنو بورڈنگ اور دیگر سرگرمیوں کی تربیت دی جا رہی ہے۔
گزشتہ سال تریچ میر سمٹ کا انعقاد کیا گیا، جبکہ 60 سے زائد مرد و خواتین ٹریکرز نے تریچ میر بیس کیمپ تک ٹریکنگ میں حصہ لیا۔
آئندہ سوات کی بلند چوٹی فلک سر کے بیس کیمپ تک تربیتی سرگرمیوں، فلک سر سمٹ اور دیگر ٹریکنگ پروگرامز کا بھی منصوبہ شامل ہے۔
1422 ہیلپ لائن اور ٹورازم پولیس
خیبرپختونخوا میں سیاحوں کی سہولت اور بروقت امداد کے لیے 1422 ٹورازم ہیلپ لائن اور ٹورازم پولیس کا نظام بھی فعال ہے۔
حکام کے مطابق 24 گھنٹے فعال ہیلپ لائن کے ذریعے سیاحوں کو معلومات، شکایات کے ازالے، ہنگامی امداد اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
ٹورازم پولیس سیاحتی مقامات پر ابتدائی طبی امداد، ہنگامی حالات اور دیگر مسائل میں بھی سیاحوں کی معاونت کرتی ہے۔
مقامی آبادی کو سیاحت سے جوڑنے کا منصوبہ
سیاحتی علاقوں میں مقامی آبادی کو معاشی سرگرمیوں سے جوڑنے کے لیے میزبان سیاحتی پروگرام بھی جاری ہے۔
پروگرام کے تحت سوات، چترال، دیر، مانسہرہ اور ایبٹ آباد کے مقامی افراد کو پانچ سال کے لیے بلاسود قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔
حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں 91 افراد کو قرضے دیے جا چکے ہیں، جبکہ 25 گیسٹ ہاؤسز اپنے منصوبے مکمل کر چکے ہیں۔ پروگرام کے تحت مقامی افراد اپنے گھروں میں سیاحوں کے لیے کمرے تیار یا موجودہ کمروں کی تزئین و آرائش کر رہے ہیں۔
ڈیمز اور آبشاروں پر سہولیات
اتھارٹی کی جانب سے صوبے کے مختلف چھوٹے ڈیمز، آبشاروں اور دیگر سیاحتی مقامات پر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے بھی جاری ہیں۔
ٹانڈا ڈیم، جہانگرہ، جلوزئی، صنم ڈیم اور ذیبی سمیت مختلف مقامات پر نماز کی جگہ، واش رومز، معلوماتی ڈیسک، بیٹھنے کی جگہ، کار پارکنگ، ٹک شاپ اور سیکیورٹی سمیت سہولیات فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔
اسی طرح سجی کوٹ، ایمبریلا آبشار، جاروگو، لڑمچر، کمراٹ اور چھجیاں آبشار سمیت دیگر مقامات پر بھی سیاحوں کے لیے بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
گلیات میں مصنوعی ذہانت کا استعمال
سیاحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیش نظر گلیات میں ایک جدید منصوبہ متعارف کرانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
منصوبے کے تحت مصنوعی ذہانت کی مدد سے ڈیٹا اکٹھا کرنے، موسم، ٹریفک کی موجودہ صورتحال، سیاحتی مقامات پر رش اور دیگر اہم معلومات بڑی ڈیجیٹل اسکرینوں کے ذریعے فراہم کی جائیں گی۔
اس نظام میں سیاحوں کو اہم مقامات تک پہنچنے سے قبل ممکنہ صورتحال کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے الرٹس فراہم کرنے کا انتظام بھی شامل ہوگا۔
ٹیکنالوجی اور سیاحت کا امتزاج
ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی شاہد خان مہمند کے مطابق عالمی یوم سیاحت 2026 کا تقاضا ہے کہ ٹیکنالوجی اور سیاحت ایک دوسرے کے معاون بنیں اور مقامی آبادی کو سیاحت سے معاشی فائدہ پہنچے۔
انہوں نے کہا کہ مقصد یہ بھی ہے کہ سیاح خیبرپختونخوا کا سفر تحفظ، سہولت اور اعتماد کے ساتھ کر سکیں۔

