اردو رپورٹ ڈیسک
ایران نے امریکا کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے اور مذاکرات کی بحالی پر زور دیا ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور لڑائی ختم کرنے سے متعلق ایرانی تجویز مسترد کر دی ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ موجودہ تعطل کا حل صرف سفارتی مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے۔
ایران نے اپنی تجویز قطر کے ثالثوں کے ذریعے امریکا تک پہنچائی تھی، جس میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے بدلے امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے، ایرانی منجمد اثاثوں کے ایک حصے کو بحال کرنے اور ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی کی شرائط شامل تھیں۔
آبنائے ہرمز کھولنے کی شرائط
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کا فیصلہ ایران کی شرائط پوری ہونے سے مشروط ہوگا۔ ان کے مطابق مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں۔
عراقچی نے کہا کہ تہران کو ابھی تک ثالثوں کی جانب سے امریکی مؤقف سے متعلق باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا، اس لیے ایران ثالثوں کے حتمی مؤقف سے آگاہ کیے جانے کا منتظر ہے۔
رائٹرز کے مطابق ایران نے گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر یہ امن تجویز پیش کی تھی۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکی رضامندی کی صورت میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور علاقائی لڑائی روکنے کے لیے سات روزہ عمل شروع کیا جا سکتا ہے، جس کے بعد فریقین باہمی رضامندی سے وسیع تر مذاکرات کر سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے ایرانی تجویز مسترد کر دی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز ایرانی تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کھولنے کا خواہاں ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ کو شک ہے کہ ایران امریکی مطالبات تسلیم کرے گا۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اپنے معاونین سے کہا ہے کہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ بمباری شروع ہو سکتی ہے۔
تاہم امریکی حکام کے مطابق مذاکرات جاری رہنے کے دوران صدر ٹرمپ کا مؤقف تبدیل بھی ہو سکتا ہے، جبکہ ممکنہ دوبارہ فوجی کارروائی کے وقت اور نوعیت کے بارے میں فی الحال واضح صورت حال موجود نہیں۔
ایران کا جوہری مؤقف
ایرانی حکام نے جوہری پروگرام کے معاملے پر لچک کا کوئی عندیہ نہیں دیا۔ ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے مطابق امریکا کی جانب سے امن تجویز قبول کیے جانے کی صورت میں بھی ایران یورینیم افزودگی اور افزودہ یورینیم ملک سے باہر بھیجنے سمیت اپنے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام سمیت دیگر معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم وہ دباؤ یا دھمکی قبول نہیں کرے گا۔
پزشکیان کے مطابق ایران جنگ نہیں چاہتا، لیکن دباؤ، دھمکیوں اور حملوں کے خلاف اپنا دفاع کرے گا۔
جنگ کے باعث تیل کی ترسیل متاثر
فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے دوران تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے اور عالمی معیشت کو نقصان پہنچا ہے۔ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث ایران اور اس کے اتحادیوں کی کارروائیاں بھی جاری ہیں

