پنجاب حکومت نے مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں پراپرٹی ٹیکس کے نظام کو جدید اور شفاف بنانے کے لیے اہم اصلاحات متعارف کرا دی ہیں، جن کے تحت جائیداد ٹیکس کی ادائیگی مکمل طور پر آن لائن کر دی جائے گی۔
بجٹ تجاویز کے مطابق نئے مالی سال سے صوبے بھر میں پراپرٹی ٹیکس روایتی طریقوں سے جمع نہیں کرایا جا سکے گا۔ شہریوں کو ٹیکس ادا کرنے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا استعمال کرنا ہوگا، جس کا مقصد نظام کو آسان، شفاف اور بدعنوانی سے پاک بنانا ہے۔
محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ٹیکس دہندگان کو دفاتر کے غیر ضروری چکروں سے نجات ملے گی جبکہ محصولات کی وصولی کا عمل بھی زیادہ مؤثر ہو جائے گا۔
ٹیکس کیسے جمع ہوگا
نئے نظام کے تحت پراپرٹی ٹیکس ای-پے پنجاب، موبائل بینکنگ، ایزی پیسہ اور جاز کیش سمیت مختلف آن لائن ذرائع سے جمع کرایا جا سکے گا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس کی آن لائن وصولی کے مثبت تجربے کے بعد اب پراپرٹی ٹیکس کو بھی مکمل ڈیجیٹل نظام میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
مذید خبریں
حمزہ شہباز کی پنجاب کی صدارت نہ مل سکی ،اہم شخصیت روکاٹ بن گئی – urdureport.com
پنجاب کی خواتین زرعی ورکرز قانونی تحفظ کی متلاشی – urdureport.com
بجٹ میں ٹیکس دہندگان کے لیے ایک خصوصی سہولت بھی متعارف کرائی گئی ہے۔ ایسے مالکان جو اپنی رہائشی یا کمرشل جائیداد کی خود تشخیص (سیلف اسیسمنٹ) کر کے مطلوبہ معلومات آن لائن پورٹل پر درج کریں گے، انہیں مجموعی پراپرٹی ٹیکس پر پانچ فیصد رعایت دی جائے گی۔
خودکار رجسٹریشن
حکام کے مطابق اس پالیسی سے شہریوں کی خودکار رجسٹریشن اور ٹیکس ادائیگی کی حوصلہ افزائی ہوگی جبکہ سرکاری عملے کے ساتھ براہ راست رابطے میں بھی کمی آئے گی۔
حکومت کے اس فیصلے کو مختلف حلقوں کی جانب سے مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل نظام سے ٹیکس نیٹ میں اضافہ، شفافیت اور ٹیکس چوری کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے۔
تاہم بعض شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ آن لائن پورٹل اور ادائیگی کے نظام کو زیادہ آسان اور صارف دوست بنایا جائے تاکہ ہر طبقے کے افراد، خصوصاً کم تعلیم یافتہ شہری بھی باآسانی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔


