تحریر:حماد حسین
پنجاب کا زرعی شعبہ پاکستان کی معیشت، خوراک کی فراہمی اور دیہی روزگار کی بنیاد ہے۔ اس وسیع نظام میں لاکھوں خواتین ہر روز خاموش مگر بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ وہ بیج بوتی ہیں، فصل کاٹتی ہیں، کپاس چنتی ہیں، مویشیوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں اور موسمی زرعی کاموں کا اہم حصہ بنتی ہیں۔
اس کے باوجود یہ حقیقت آج بھی قانونی اور پالیسی سطح پر مکمل طور پر تسلیم نہیں کی گئی۔ پنجاب کے موجودہ قوانین میں خواتین زرعی ورکرز کو باقاعدہ "ورکرز” کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا۔ یہ ایک ایسا بنیادی خلا ہے جس کے اثرات صرف انفرادی نہیں بلکہ پورے نظام پر مرتب ہوتے ہیں۔
خواتین ورکرز کے روزگار
تخمینوں کے مطابق پنجاب میں 85 لاکھ سے زائد خواتین زرعی اور لائیو اسٹاک کے شعبے سے وابستہ ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی سرکاری سطح پر ورکر کے طور پر رجسٹرڈ نہیں۔ جب کسی محنت کو قانونی شناخت ہی حاصل نہ ہو تو اس کے ساتھ جڑے حقوق بھی غیر مؤثر ہو جاتے ہیں ، چاہے وہ کم از کم اجرت ہو، سوشل سکیورٹی، زچگی کی سہولت، کام کی حفاظت یا شکایت درج کروانے کا نظام۔
یہ صورتحال نہ صرف سماجی انصاف کا مسئلہ ہے بلکہ ایک سنجیدہ پالیسی اور گورننس کا خلا بھی ہے۔ جب اصل لیبر فورس نظر انداز ہو تو ترقیاتی منصوبہ بندی، بجٹ سازی اور ڈیٹا سب متاثر ہوتے ہیں۔
اس مسئلے کا ایک اہم پہلو معیشتی بھی ہے۔ غیر رسمی لیبر سسٹم میں نہ شفافیت ہوتی ہے اور نہ ہی استحکام۔ اس کے برعکس رسمی شناخت اور ریگولیشن سے نہ صرف مزدوروں کے حقوق بہتر ہوتے ہیں بلکہ پورے زرعی نظام میں اعتماد، استحکام اور کارکردگی بھی بڑھتی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے مکمل نئے اداروں کی ضرورت نہیں۔ پنجاب میں پہلے سے موجود سوشل سکیورٹی، لیبر ویلفیئر اور دیگر نظاموں کو صرف ان خواتین تک وسیع کرنے کی ضرورت ہے جو اس وقت ان سے باہر ہیں۔
سندھ خواتین ورکرز قانونی فریم ورک
سندھ اس سمت میں ایک واضح مثال فراہم کرتا ہے۔ سندھ نے 2019 میں پاکستان کا پہلا ویمن ایگریکلچرل ورکرز ایکٹ منظور کیا، اور اس کے بعد اس کے رولز 2026 میں نافذ ہوئے۔ اس قانون نے یہ ثابت کیا کہ خواتین زرعی ورکرز کی شناخت اور تحفظ نہ صرف ممکن ہے بلکہ عملی طور پر نافذ بھی کیا جا سکتا ہے۔
اس تجربے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایسے قوانین زرعی معیشت کو متاثر نہیں کرتے بلکہ اسے زیادہ منظم اور شفاف بناتے ہیں۔ چھوٹے کسانوں پر اضافی بوجھ ڈالنے کے بجائے یہ نظام مزدور اور آجر دونوں کے لیے بہتر توازن پیدا کرتا ہے۔ خاص طور پر پےشگی جیسے غیر رسمی اور غیر شفاف نظاموں میں اصلاحات سے دیہی معیشت زیادہ مستحکم ہو سکتی ہے۔
پنجاب کے لیے یہ وقت ایک اہم پالیسی فیصلے کا ہے۔ یہ صرف خواتین کے حقوق کا معاملہ نہیں بلکہ زرعی معیشت کی مکمل تصویر کو درست کرنے کا موقع ہے۔ جب تک وہ لاکھوں خواتین جو اس نظام کا بنیادی حصہ ہیں، قانونی طور پر نظر نہیں آئیں گی، تب تک ترقی کی تصویر بھی ادھوری رہے گی۔
پہچان، شمولیت اور اصلاح ۔ یہ تینوں عناصر مل کر ایک ایسا قانونی فریم ورک تشکیل دے سکتے ہیں جو نہ صرف خواتین زرعی ورکرز کو ان کا حق دے بلکہ پنجاب کی دیہی معیشت کو بھی زیادہ مضبوط، منظم اور منصفانہ بنا دے۔
اب وقت ہے کہ محنت کو صرف کھیتوں میں نہیں بلکہ قانون میں بھی تسلیم کیا جائے۔
یہ بھی پڑھئِے


