اسلام آباد میں آئندہ دنوں اہم سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے،جمعہ کی رات ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اسلام آباد پہنچ گئے جبکہ ایران کے وزیر خارجہ جمعے کی شب اسلام آباد پہنچ گئے جبکہ وائٹ ہاؤس نے تصدیق کردی ہے کہ امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پاکستان پہنچیں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی امریکا سے مذاکرات کے سلسلے میں پاکستان و دیگر اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے لیے اسلام آباد پہنچے ۔
حکومتی ذرائع نے اس حوالے سے ابتدائی اطلاع کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد میں پہلے سے ہی سخت اور مربوط سکیورٹی انتظامات موجود ہیں تاکہ کسی بھی اعلیٰ سطحی سفارتی سرگرمی کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے پاکستانی سیاسی اور عسکری قیادت سے کی ٹیلیفونک گفتگو میں جنگ بندی سمیت دیگر امور پر گفتگو کی ہے
اعلیٰ سطحی سکیورٹی اور انتظامی تیاریاں
یہ انتظامات عام سفارتی ملاقاتوں سے کہیں زیادہ اہم سطح کے ہیں اور انہیں “ہائی لیول ڈپلومیٹک ٹاکس” کے معیار کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے۔
تمام متعلقہ ادارے الرٹ ہیں اور ممکنہ مذاکرات کے لیے مکمل تیاری کر لی گئی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کی شرکت کا امکان
غیر سرکاری اطلاعات کے مطابق ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی کریں گے۔ تاہم ابھی تک دونوں ممالک کی جانب سے اس دورے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
ایرانی سرکاری میڈیا سے منسلک ذرائع بھی اس دورے کو ممکن قرار دے رہے ہیں۔
خطے کی صورتحال اور سفارتی رابطے
گزشتہ دنوں ایران کے وزیر خارجہ نے پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے ٹیلیفونک رابطے کیے، جن میں خطے کی کشیدگی اور ممکنہ جنگ بندی سے متعلق امور زیر بحث آئے۔
پاکستان کی جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ خطے میں استحکام کے لیے مسلسل سفارتی رابطے ضروری ہیں۔
پاکستان کا کردار
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان خطے میں امن اور کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
پاکستان نے اس بات کو دہرا یا ہے کہ بات چیت ہی تنازعات کے حل کا بہترین راستہ ہے۔
ممکنہ سفارتی اہمیت
اگر یہ دورہ اور مذاکرات حتمی طور پر ہوتے ہیں تو یہ پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی پیش رفت ہو سکتی ہے، جس کے خطے کی سیاست اور تعلقات پر اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے
یہ بھی پڑھئِے


