وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیانات نے ملکی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ چند روز قبل ان کا یہ کہنا کہ "موجودہ نظام ڈھے چکا ہے” سیاسی اور صحافتی حلقوں میں غیر معمولی توجہ کا مرکز بنا، جبکہ اب ان کا یہ مؤقف کہ "یہ حکومت پانچ سال پورے کرے گی، شہباز شریف پانچ سال بطورِ وزیراعظم اپنا ٹائم پورا کریں گے” اس بحث کو ایک نئے رخ پر لے گیا ہے۔
محسن نقوی کا پہلا بیان
محسن نقوی Mohsin Naqvi کے پہلے بیان کے بعد مختلف سیاسی حلقوں میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ شاید حکومت اور ریاستی اداروں کے درمیان تعلقات میں کسی نوعیت کی تبدیلی آ رہی ہے۔ بعض مبصرین نے اسے حکومتی کارکردگی پر سخت تنقید قرار دیا، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے بھی اسے اپنے مؤقف کے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کی۔ بعد ازاں فوجی ترجمان کی جانب سے بہتر گورننس اور اصلاحات کی ضرورت پر زور دینے کے بعد قیاس آرائیوں میں مزید اضافہ ہوا۔
تاہم تازہ گفتگو میں وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت مکمل کرے گی۔ ان کے مطابق "یہ حکومت پانچ سال پورے کرے گی، شہباز شریف Shahbaz Shareef پانچ سال بطورِ وزیراعظم اپنا ٹائم پورا کریں گے۔” اس بیان کو کئی حلقوں نے پہلے بیان کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی تاثر کو متوازن کرنے کی کوشش قرار دیا۔
وزارت کی کارکردگی
اپنی وزارت کی کارکردگی سے متعلق سوال پر محسن نقوی نے کہا، "میں نے پرفارمنس پر وزیراعظم کو جواب دینا ہے اور میں نے وزیراعظم سے صرف یہ درخواست کرنی ہے کہ تھرڈ پارٹی سے جانچ پڑتال کروائیں، تمام وزارتوں کی پرفارمنس کی ان سے جانچ کروائیں اور نتیجہ عوام کے سامنے رکھیں تاکہ سب کو پتا ہو کہ کون سی وزارت کتنا پرفارم کر رہی ہے۔” انہوں نے مزید کہا، "میرا خیال ہے میری حاضری 70 فیصد کے قریب ہے۔”
وزیر داخلہ نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ ان کا سابقہ بیان موجودہ حکومت پر تنقید تھا۔ ان کا کہنا تھا، "میں اپنی بات پر قائم ہوں کہ نظام تباہ ہو چکا ہے لیکن میں نے 80 سالہ نظام کے تباہ ہونے کی بات کی ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ 80 سال سے نظام تباہ ہے کیونکہ اگر ٹھیک چل رہا ہوتا تو ہم کہاں سے کہاں پہنچ جاتے۔ میں نے حکومت کو چارج شیٹ نہیں کیا، میں تو خود حکومت کا حصہ ہوں، خود کو تو چارج شیٹ نہیں کروں گا۔”
شہباز شریف کی تعریف
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی تعریف کرتے ہوئے کہا، "آپ کے پاس وزیراعظم ہیں جو 14-16 گھنٹے کام کرتے ہیں اور اگر یہ چیزیں بہتر ہو جائیں تو ایک ہزار گنا بہتر نتیجہ سامنے آئے گا۔” اسی سلسلے میں انہوں نے مزید کہا، "ان حالات میں بھی آپ دیکھیں ایف بی آر نے ریونیو کتنا بڑھا لیا ہے، ہم جنگ جیت گئے اور دیکھیں سفارتی لحاظ سے کہاں سے کہاں پہنچ چکے ہیں اور اتنی اصلاحات ہو گئی ہیں۔ میں آج بھی سمجھتا ہوں کہ اگر وزیراعظم کو سسٹم ٹھیک مل جاتا تو وہ ملک کو 100 گنا تیزی سے آگے لے جاتے۔”
وزیراعظم کے ساتھ تعلقات سے متعلق سوال پر محسن نقوی نے کہا، "لوگوں کی بڑی خواہش ہے کہ کسی طریقے سے میرے اور وزیراعظم کے تعلقات خراب ہو جائیں لیکن ایسا نہیں ہو گا۔” جبکہ اپنے بارے میں لگنے والے الزامات پر انہوں نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا، "اللہ تعالیٰ انھیں خوش رکھے۔”
مذید خبریں
اپ مانیں یا نہ مانیں سسٹم تباہ ہو چکا ہے۔وزیر داخلہ محسن نقوی – urdureport.com
سر گنگا رام : اہل لاھور کا وہ عظیم محسن جن کے کارنامے شہر کے ماتھے کا جھومر ہیں – urdureport.com
سیاسی تجزیہ کاروں کی رائے اس معاملے پر مختلف ہے۔ بعض کے مطابق پاکستان کی سیاسی تاریخ کو دیکھتے ہوئے کسی بھی وزیراعظم کا اپنی مکمل آئینی مدت پوری کرنا ہمیشہ ایک مشکل مرحلہ رہا ہے، اسی لیے محسن نقوی کے حالیہ بیان کے باوجود قیاس آرائیاں مکمل طور پر ختم نہیں ہوں گی۔ دیگر مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ کے دونوں بیانات میں بنیادی طور پر تضاد نہیں بلکہ وہ گورننس کے نظام میں اصلاحات کی ضرورت کی نشاندہی کر رہے ہیں، نہ کہ حکومت کے خاتمے کا اشارہ۔


