اردو رپورٹ ڈیسک
ہری پور: خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور میں 15 روز قبل لاپتہ ہونے والی پانچ سالہ بچی آیت نور کی لاش ایک گہرے اور خشک کنویں سے برآمد کرلی گئی۔ پولیس نے بچی کی گمشدگی اور ہلاکت کے مقدمے میں چار افراد کو گرفتار کرلیا ہے، جن میں ایک ملزم کم عمر بتایا گیا ہے تاہم یہ بات انتہائی اہم ہے کہ آخر کا پولیس ان ملزمان تک کیسے پہنچی؟
گمشدگی کی ایف آئی آر
پولیس کے مطابق آیت نور 10 اگست کو شام کے وقت گھر سے باہر کھیلنے گئی تھی، تاہم واپس نہ آنے پر اہل خانہ نے اس کی تلاش شروع کی۔ بعد ازاں بچی کے والد محمد شفیق کی مدعیت میں تھانے میں گمشدگی کی ایف آئی آر درج کرائی گئی۔
تفتیش کے دوران پولیس نے تقریباً 200 سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز حاصل کرکے ان کا جائزہ لیا، ہر طرف تلاش کیا گیا مگر لاش نہ ملی، 20 مشتبہ موبائل نمبروں کا ریکارڈ بھی چیک کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ 12 کیمروں کی فوٹیج سے بچی کے گھر سے نکلنے اور اسے ساتھ لے جانے والے افراد کے بارے میں اہم شواہد ملے۔
آیت نور کی نعش برآمد والد نے نعش کی شناخت کر لی ہے بچی کی نعش دیکھ کر والد صدمہ سے دوچار حالت ناقابل برداشت ہو گئ. ڈی ایس پی تنویر احمد اور ایس ایچ او شہریار خان اس کو تسلی دیتے ہوئے۔
یہ نظام اپنے شہریوں کو تحفظ دینے میں بری طرح ناکام pic.twitter.com/53L66eqgz7
— Mona.ⁱᴾⁱᵃⁿ (@Monashezadi) August 25, 2026
مشتبہ افراد کی گرفتاری
پولیس کے مطابق آیت نور کی گمشدگی کے بعد 21 اگست کو ایک جبکہ 22 اگست کو مزید دو مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ تفتیش آگے بڑھنے پر ایک اور ملزم کو بھی حراست میں لیا گیا، جبکہ مبینہ طور پر واقعے میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل بھی برآمد کرلی گئی اس طرح چار ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
ضلعی پولیس کے مطابق گرفتار کیے گئے ایک ملزم کی نشاندہی پر 24 اگست کو یونیورسٹی روڈ کے قریب جھاڑیوں میں موجود ایک گہرے خشک کنویں کا سراغ ملا، جہاں سے آیت نور کی لاش برآمد کی گئی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بعض ملزمان کم عمر ہونے اور ان کے نام پر موبائل سمز رجسٹرڈ نہ ہونے کے باعث تفتیش میں مشکلات پیش آئیں۔ پولیس کی ٹیکنیکل ٹیم نے مشتبہ افراد کے اہل خانہ اور دیگر نمبروں کا ڈیٹا استعمال کرتے ہوئے تفتیش کو آگے بڑھایا۔
زیادتی اور اغوا کا اعتراف
پولیس کے مطابق ایک گرفتار ملزم نے دوران تفتیش بچی کے ساتھ زیادتی اور اغوا سے متعلق اعتراف کیا ہے، تاہم واقعے کے تمام پہلوؤں کی تصدیق کے لیے پوسٹ مارٹم اور ڈی این اے رپورٹس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
تفتیشی حکام نے مقدمے میں قتل، کم عمر بچے کے اغوا اور زیادتی سمیت مختلف دفعات شامل کی ہیں۔ گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کیا جا چکا ہے اور قانونی کارروائی جاری ہے۔
آیت نور کے والد محمد شفیق نے اپنی اکلوتی بیٹی کی موت پر شدید غم کا اظہار کرتے ہوئے ملزمان کو قانون کے مطابق سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا دلانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
یہ پڑھئِے
ہری پور :زیادتی کا شکار پانچ سالہ آیت نور کی لاش 15 روز بعد برآمد – urdureport.com


