اردو رپورٹ ڈیسک
نیپال میں چین کے تبت سے متصل سرحدی علاقے میں آنے والے انتہائی تباہ کن فلیش فلڈ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 95 افراد ہلاک جبکہ 400 سے زائد افراد لاپتا ہیں۔ سیلابی ریلے نے گھر، گاڑیاں، پل، سڑکیں اور بجلی کے منصوبے بہا دیے، جبکہ متعدد غیر ملکی سیاح اور زائرین بھی لاپتا افراد میں شامل ہیں۔
بھوٹے کوشی دریا میں اچانک طغیانی
سیلاب نے نیپال کے شمالی ضلع رسوا (Rasuwa) میں شدید تباہی مچائی، جہاں بھوٹے کوشی دریا میں اچانک پانی کی سطح انتہائی بلند ہوگئی۔
رپورٹس کے مطابق سیلابی ریلا تبت کی جانب سے آنے والے ملبے اور پانی کے شدید بہاؤ کے بعد پیدا ہوا۔ ابتدائی طور پر ایک 4.4 شدت کے زلزلے کے بعد لینڈ سلائیڈنگ یا برفانی تودے کے دریا میں گرنے کو ممکنہ وجہ قرار دیا گیا ہے، تاہم واقعے کی مکمل وجہ کی تحقیقات جاری ہیں۔
95 افراد ہلاک، سیکڑوں لاپتا
نیپالی حکام کے مطابق اب تک کم از کم 95 لاشیں برآمد کی جاچکی ہیں، جبکہ 403 افراد لاپتا بتائے گئے ہیں۔
لاپتا افراد میں نیپالی شہریوں کے ساتھ بڑی تعداد میں غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ نیپال ٹورازم بورڈ کے مطابق لاپتا مسافروں میں 291 غیر ملکی اور 93 نیپالی شہری شامل ہیں۔
105 بھارتی شہری بھی لاپتا
لاپتا افراد میں 105 بھارتی شہری بھی شامل ہیں۔ ان میں متعدد افراد مبینہ طور پر کailash Mansarovar Yatra کے لیے تبت کی جانب سفر کر رہے تھے۔
اس کے علاوہ امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا، ملائیشیا، جنوبی کوریا، جنوبی افریقہ اور دیگر ممالک کے شہری بھی لاپتا افراد میں شامل ہیں۔
گھر، پل اور سڑکیں بہہ گئیں
شدید سیلابی ریلے نے رسوا کے Timure اور Syapru Besi سمیت متعدد علاقوں کو متاثر کیا۔
پانی اور کیچڑ نے کئی گھروں اور گاڑیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جبکہ اہم پل اور سڑکیں تباہ ہوگئیں۔ سیلاب کے باعث متاثرہ علاقوں تک امدادی ٹیموں کی رسائی بھی مشکل ہوگئی ہے۔
بجلی کے منصوبوں کو بھی شدید نقصان
سیلاب سے نیپال کے متعدد ہائیڈرو پاور اور ٹرانسمیشن منصوبے بھی متاثر ہوئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق کم از کم چھ بڑے بجلی کے منصوبوں اور ٹرانسمیشن تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے، جس سے ملک کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی بڑا دھچکا لگا ہے۔
ریسکیو آپریشن جاری
نیپال کی فوج، پولیس اور دیگر امدادی ادارے متاثرہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کر رہے ہیں۔
ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متاثرہ علاقوں میں پھنسے افراد کو تلاش کرنے اور محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم تباہ شدہ سڑکوں، بلند پانی اور مسلسل خراب موسم کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
مزید سیلاب کا خدشہ
حکام نے دریا کے بالائی حصوں میں ممکنہ رکاوٹوں کے باعث مزید سیلابی ریلے کے خطرے سے بھی خبردار کیا ہے۔
دریا کے کنارے رہنے والی آبادیوں کو محتاط رہنے اور ضرورت پڑنے پر محفوظ اور بلند مقامات کی جانب منتقل ہونے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
تبت میں بھی تباہی
نیپال کے ساتھ چین کے تبت کے علاقے میں بھی شدید سیلاب اور مٹی کے تودوں نے تباہی مچائی ہے۔
چینی علاقے Gyirong County میں کم از کم تین افراد ہلاک اور سیکڑوں افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات ہیں۔ چین اور نیپال دونوں جانب ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
بھارت میں بھی سیلاب کا الرٹ
نیپال سے آنے والے پانی کے باعث بھارت کی سرحدی ریاستوں خصوصاً بہار اور اتر پردیش میں بھی حکام نے صورتحال پر نظر رکھتے ہوئے احتیاطی اقدامات شروع کردیے ہیں۔
دریاؤں میں پانی کی سطح بڑھنے کے خدشے کے باعث بعض علاقوں میں لوگوں کو محتاط رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
ہلاکتوں اور لاپتا افراد کی تعداد بڑھنے کا خدشہ
ریسکیو ٹیمیں ابھی بھی متعدد متاثرہ علاقوں تک مکمل طور پر نہیں پہنچ سکی ہیں۔ مواصلاتی رابطوں اور سڑکوں کو پہنچنے والے نقصان کے باعث حتمی نقصانات کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔
حکام کو خدشہ ہے کہ ملبہ ہٹانے اور مزید علاقوں تک رسائی کے بعد ہلاکتوں اور لاپتا افراد کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔


