اردو رپورٹ ڈیسک
لاہور ہائیکورٹ نے گھریلو تنازع سے متعلق کیس میں دو کمسن بچوں کو والد کی تحویل سے بازیاب کرا کے ان کی حقیقی والدہ کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔
جسٹس امیر عجم ملک نے مسمات عائشہ بی بی کی درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران پولیس نے دونوں بچوں کو ان کے والد علی احمد کے ہمراہ عدالت میں پیش کیا۔
بابا جلدی آنا۔۔۔
لاھور ہائی کورٹ کا فیصلہ مگر بچوں کا ماں کے ساتھ جانے سے انکار : pic.twitter.com/6wFqhqcq0t— Urdu Report (@UrduReportpk) August 27, 2026
فریقین کے مؤقف مختلف
درخواست گزار کے وکیل شہباز علی ہنجرا ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ شوہر ایک سرکاری محکمے میں ایس ڈی او کے عہدے پر تعینات ہے اور اس نے مبینہ طور پر زبردستی بچوں کو اپنی تحویل میں لے کر بیوی کو گھر سے نکال دیا۔
وکیل کے مطابق میاں بیوی کے درمیان تاحال طلاق نہیں ہوئی۔
دوسری جانب بچوں کے والد علی احمد نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی اہلیہ خود بچوں کو چھوڑ کر میکے چلی گئی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بچے اپنی والدہ کے ساتھ رہنے پر آمادہ نہیں ہیں۔
عدالت کا ماں کے حق میں فیصلہ
فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے دونوں بچوں کو ان کی والدہ کی تحویل میں دینے کا حکم جاری کر دیا۔
تاہم عدالتی حکم پر بچوں کو والدہ کے حوالے کرنے کے دوران دونوں بچوں نے ماں کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔ بچوں نے والد کے پاس رہنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے اس کے ساتھ رہنے کے لیے دہائی دی۔


