اردو رپورٹ ڈیسک
کینیڈا نے افرادی قوت کی کمی کو پورا کرنے اور ضروری خدمات کو مضبوط بنانے کے لیے بیرونِ ملک سے ہنرمند ہیلتھ کیئر اور سوشل سروسز کے ماہرین کو راغب کرنے کا عمل تیز کر دیا ہے، جس میں پاکستان کے تربیت یافتہ پیشہ ور افراد بھی شامل ہیں۔
کینیڈا میں جابس
کینیڈا کے امیگریشن، ریفیوجیز اینڈ سٹیزن شپ کینیڈا (IRCC) نے مطلوبہ تعلیم، پیشہ ورانہ اسناد اور تجربہ رکھنے والے افراد کو دستیاب امیگریشن پروگرامز اور مواقع کا جائزہ لینے کی ترغیب دی ہے۔
کینیڈا کی جانب سے جن شعبوں میں ہنرمند افراد کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا ہے، ان میں نرس پریکٹیشنرز، ڈینٹسٹس، فارماسسٹس، ماہرینِ نفسیات اور سوشل ورکرز شامل ہیں۔
کینیڈین حکومت کے مطابق ہیلتھ کیئر اور سوشل سروسز ان شعبوں میں شامل ہیں جہاں ملک کو ہنرمند افرادی قوت کی ضرورت ہے۔
دیگر شعبہ جات میں مواقع
اس کے علاوہ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اوردیگر ریاضی (STEM)، ہنرمند تجارت، دفاع و سائبر سکیورٹی، اہم معدنیات اور تعلیم بھی ترجیحی شعبوں میں شامل ہیں۔
بیرونِ ملک موجود طبی اور دیگر ہنرمند پیشہ ور افراد کینیڈا کے سرکاری امیگریشن ٹولز استعمال کرکے اپنی تعلیم، تجربے اور حالات کے مطابق موزوں امیگریشن پروگرام تلاش کر سکتے ہیں۔
امیدوار کینیڈا کے Job Bank کے ذریعے ایسے اداروں اور آجرین کو بھی تلاش کر سکتے ہیں جو بین الاقوامی امیدواروں کو ملازمتیں فراہم کر رہے ہیں۔
تاہم کینیڈا میں کام کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے یہ بات اہم ہے کہ بعض پیشے صوبائی یا علاقائی سطح پر ریگولیٹڈ ہوتے ہیں۔ ایسے پیشوں سے وابستہ افراد کو کینیڈا میں ملازمت شروع کرنے سے پہلے اپنی غیر ملکی تعلیمی اسناد اور پیشہ ورانہ قابلیت کی باقاعدہ منظوری یا تصدیق کرانا پڑ سکتی ہے۔
افرادی قوت میں کمی
کینیڈین حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کے اہم شعبوں میں افرادی قوت کی کمی کو دور کرنے کے لیے ہنرمند بین الاقوامی کارکنوں کے لیے امیگریشن کے مختلف راستے اور روزگار کے مواقع دستیاب ہیں۔


