اردو رپورٹ ڈیسک
اسلام آباد: پمز اسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے معاملے کی تحقیقات کے دوران اہم انکشاف ہوا ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے وفد نے پمز کا دورہ کیا، جہاں حکام سے واقعے سے متعلق تفصیلی بریفنگ لی گئی۔
دورے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ پمز میں واقعے کے وقت متعلقہ وارڈ میں ،50 سے 40 سے زائد نومولود بچے موجود تھے۔
پمز نرسری میں جب آگے لگی تو چالیس پچاس سے زائد بچے تھے۔ڈاکٹر شازیہ سومرو کا انکشاف pic.twitter.com/HNCKZAgslI
— Tariq Iqbal Chaudhry (@ChoudhryTariq) August 27, 2026
ڈاکٹر شازیہ سومرو کا انکشاف
کمیٹی کی رکن ڈاکٹر شازیہ سومرو نے حامد میر کے پروگرام میں یہ انکشاف کیا کہ پمز میں ہمیں اپنے سوالات کے تسلی بخش جوابات نہیں مل سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ کل سے ہم سن رہے ہیں کہ 14 بچے تھے جو جلے تھے لیکن 14 بچے نہیں تھے اس وقتنرسری۔میں 50 سے بھی زیادہ بچے تھے۔
انہوں نے کہا کہ 15 بچوں کی تو صرف شناخت ہوئی ہے وہاں چالیس پچاس سے زائد بچے تھے اور یہ بات ہم اپنی رپورٹ میں لکھیں گے۔
سانحہ کی تفصیل
گزشتہ روز پمز کے نومولود بچوں کے وارڈ میں پیش آنے والے واقعے کے حوالے سے 14 بچوں کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعے کے بعد اسپتال میں تشویش کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی اور معاملے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی۔
ابتدائی طور پر یہ بھی بتایا گیا تھا کہ واقعے کے دوران بچوں کو آکسیجن کی فراہمی سے متعلق مسائل اور آگ کے پھیلاؤ کے حوالے سے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
معاملے میں سنگینی
اب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے دورے کے بعد 15 سے زاید بچوں کی موجودگی کی اطلاعات سے معاملہ مزید اہم ہوگیا ہے۔
کمیٹی نے اسپتال انتظامیہ سے واقعے کی مکمل تفصیلات اور بچوں کی اموات سے متعلق ریکارڈ طلب کرتے ہوئے ذمہ داری کے تعین پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
کمیٹی رکن ڈاکٹر شازیہ سومرو کے مطابق پمز انتظامیہ کی جانب سے فراہم کیے گئے جوابات مکمل طور پر مطمئن نہیں کرسکے، جس کے باعث واقعے کی اصل صورتحال جاننے کے لیے مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کے بعد ہی حتمی حقائق سامنے آسکیں گے۔


