مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے نامزد امیدوار بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی نے 30 ووٹ حاصل کرکے وزارتِ عظمیٰ کا انتخاب جیت لیا، جس کے بعد انہیں آزاد کشمیر کا 17واں وزیراعظم منتخب کرلیا گیا۔
وزارتِ عظمیٰ کے انتخاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار مختار احمد خان نے 14 ووٹ حاصل کیے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ دونوں امیدوار حالیہ عام انتخابات میں بھی ایک دوسرے کے مدمقابل تھے، جہاں افتخار گیلانی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تاہم عام نشست پر ناکامی کے باوجود مسلم لیگ (ن) نے انہیں ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشست پر اسمبلی میں واپس لایا، جہاں وہ 24 اگست کو 26 ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہوئے۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ (ن) اور اس کے اتحادیوں کو آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں عددی برتری حاصل ہے، جس نے افتخار گیلانی کی وزارتِ عظمیٰ کی راہ ہموار کی۔
افتخار گیلانی کا سیاسی سفر
بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی کا تعلق مظفرآباد کے ایک معروف سیاسی خاندان سے ہے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اسلام آباد میں حاصل کی، جس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ گئے اور وہاں سے بار ایٹ لا کی ڈگری حاصل کی۔
پاکستان واپسی پر انہوں نے اسلام آباد میں تقریباً دس سال تک وکالت کی اور آئینی و قانونی معاملات میں عملی تجربہ حاصل کیا۔
ان کا باقاعدہ سیاسی سفر مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے شروع ہوا۔ 2011 کے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد وہ پہلی مرتبہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 2016 کے انتخابات میں بھی انہوں نے کامیابی حاصل کی اور دوسری مرتبہ اسمبلی کا حصہ بنے۔
راجا فاروق حیدر کی حکومت میں افتخار گیلانی کو وزیر تعلیم کی ذمہ داری سونپی گئی۔ وزارتِ تعلیم کے دوران اساتذہ کی بھرتیوں میں میرٹ اور نیشنل ٹیسٹنگ سروس کے نظام کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ محکمہ تعلیم میں اصلاحات اور گڈ گورننس پر توجہ دی گئی۔
عام نشست پر شکست کے بعد مخصوص نشست سے واپسی
2026 کے عام انتخابات میں افتخار گیلانی نے حلقہ ایل اے 29 مظفرآباد-3 سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑا، تاہم انہیں پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار مختار احمد خان کے ہاتھوں شکست ہوئی۔
بعد ازاں مسلم لیگ (ن) نے انہیں ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشست کے لیے نامزد کیا۔ 24 اگست کو ہونے والے انتخاب میں افتخار گیلانی نے 26 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی، جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار کو 12 ووٹ ملے۔
یوں عام نشست پر شکست کے چند ہفتوں بعد ہی وہ دوبارہ قانون ساز اسمبلی میں پہنچ گئے اور اب وزارتِ عظمیٰ کا منصب بھی حاصل کرلیا۔
وزارتِ عظمیٰ کی نامزدگی پر پارٹی اختلافات
افتخار گیلانی کی وزارتِ عظمیٰ کے لیے نامزدگی کے معاملے پر مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے اندر اختلافات بھی سامنے آئے۔
پارٹی صدر شاہ غلام قادر اور سابق وزیراعظم راجا فاروق حیدر نے نامزدگی پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق دونوں رہنماؤں نے افتخار گیلانی کی حمایت نہ کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔
تاہم مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت نے افتخار گیلانی کو وزارتِ عظمیٰ کے لیے اپنا امیدوار برقرار رکھا اور بالآخر وہ 30 ووٹ حاصل کرکے قائد ایوان منتخب ہوگئے۔
وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے کے بعد افتخار گیلانی کو حکومت چلانے کے ساتھ ساتھ اپنی جماعت کے اندر موجود اختلافات ختم کرنے اور مختلف سیاسی دھڑوں کو ساتھ لے کر چلنے کا اہم چیلنج بھی درپیش ہوگا۔


