اردو رپورٹ ڈیسک
گجرات کے جلال پور جٹاں میں جمعرات کو لاپتہ ہونے والی چار سالہ نور فاطمہ کی لاش دو روز کی تلاش کے بعد برساتی نالے سے برآمد کرلی گئی۔
پولیس نے مبینہ زیادتی اور قتل کے الزام میں بچی کے 16 سالہ کزن کو گرفتار کرکے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے حوالے کردیا ہے۔
پہلے درج کیے گئے مقدمے کے مطابق نور فاطمہ گھر میں موبائل فون دیکھ رہی تھی جب اس کا کزن اسے اپنے ساتھ باہر لے گیا۔ بچی کے والد نے 27 اگست کو اس کے لاپتہ ہونے کی رپورٹ درج کرائی تھی۔
بچی کی لاش ملنے کے بعد مقدمے میں مبینہ زیادتی اور قتل کی دفعات بھی شامل کرلی گئی ہیں۔ پولیس کے مطابق بچی کا پوسٹ مارٹم کیا جارہا ہے۔
دو روز بعد نالے سے لاش برآمد
گجرات پولیس کے ترجمان کے مطابق بچی کی لاش جائے وقوعہ سے تقریباً پانچ کلومیٹر دور ایک برساتی نالے سے برآمد ہوئی۔
پولیس نے بتایا کہ لاش برآمد ہونے کے بعد اسے اہلخانہ کے حوالے کردیا گیا۔ پوسٹ مارٹم کے بعد موت کے حالات سے متعلق مزید حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔
مقامی پولیس کا الزام ہے کہ ملزم نے بچی کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور بعد میں اسے بیہوش حالت میں ایک بوری میں بند کرکے نالے میں بہا دیا۔ ملزم کی مبینہ نشاندہی پر ریسکیو حکام نے نالے میں بچی کی تلاش شروع کی تھی۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کا ڈی این اے نمونہ حاصل کرلیا گیا ہے۔ 16 سالہ ملزم مقدمے کے مدعی کا بھتیجا ہے۔
ایف آئی آر میں کیا کہا گیا؟
27 اگست کو درج ایف آئی آر کے مطابق نور فاطمہ گھر میں موبائل فون دیکھ رہی تھی۔ دوپہر تقریباً ساڑھے 12 بجے اس کی والدہ نے والد کو فون کرکے بتایا کہ بچی ملزم کے ساتھ باہر گئی ہے، تاہم کافی دیر گزرنے کے باوجود واپس نہیں آئی۔
اہلخانہ نے بچی کی تلاش شروع کی۔ اسی دوران ایک شخص نے بتایا کہ اس نے ملزم کو نور فاطمہ کو اپنے ساتھ لے جاتے دیکھا تھا۔
بچی کے والد نے شبہ ظاہر کیا کہ ان کے بھتیجے نے نور فاطمہ کو اغوا کیا ہے اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کی درخواست کی۔
والد کا کہنا ہے خاندان میں کوئی رنجش نہیں تھی
نور فاطمہ کے والد ذیشان حیدر نے بتایا کہ اغوا کا مقدمہ درج ہونے کے بعد مقامی تھانے کے تفتیشی افسر نے انہیں فون کرکے ملزم کی گرفتاری سے آگاہ کیا۔
ذیشان حیدر پیشے کے اعتبار سے درزی ہیں۔ ان کے مطابق گرفتار ملزم ان کے سگے بھائی کا بیٹا ہے اور دونوں خاندانوں کا ایک دوسرے کے گھر آنا جانا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ان کی اپنے بھائی یا بھتیجوں کے ساتھ کوئی رنجش نہیں تھی۔
بچی کے والد کا کہنا ہے کہ پولیس فی الحال گرفتار ملزم کے بیان کی بنیاد پر تفتیش آگے بڑھا رہی ہے۔
پولیس ترجمان راحیل عارف کے مطابق ملزم کو جمعے کو حراست میں لیا گیا تھا اور اس سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ پولیس اسے اتوار کو عدالت میں پیش کرکے جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔


