از اردو رپورٹ ایڈیٹوریل ٹیم
ایپل میں قیادت کی تبدیلی یکم ستمبر 2026 سے نافذ العمل ہو گئی ہے اور جان ٹرنَس کمپنی کے نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) کا منصب سنبھال رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ٹم کک کا ایپل کی قیادت میں تقریباً 15 سالہ دور اختتام پذیر ہو گیا ہے۔
ٹم کک اب ایپل کے ایگزیکٹو چیئرمین کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ کمپنی کے مطابق یہ جانشینی طویل المدتی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے اور ایپل کے بورڈ نے اس کی متفقہ منظوری دی ہے۔
جان ٹرنَس ایسے وقت میں ایپل کی قیادت سنبھال رہے ہیں جب کمپنی کو مصنوعی ذہانت، نئی مصنوعات، عالمی سپلائی چین، چین پر انحصار اور بڑھتی ہوئی مسابقت سمیت کئی اہم چیلنجز کا سامنا ہے۔
انجینئر سے ایپل کے سربراہ تک
جان ٹرنَس کا پس منظر کئی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران سے مختلف ہے۔ وہ مارکیٹنگ کے بجائے انجینئرنگ کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں اور 2001 میں ایپل میں شامل ہوئے تھے۔
انہوں نے کمپنی میں مختلف اہم ہارڈویئر منصوبوں کی نگرانی کی، جن میں میک، آئی پیڈ، آئی فون اور ایپل واچ شامل ہیں۔ 2021 میں انہیں ایپل کا سینئر وائس پریزیڈنٹ، ہارڈویئر انجینئرنگ مقرر کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق ٹرنَس ایپل کے ہارڈویئر اور مصنوعات کی تیاری کے عمل سے گہری واقفیت رکھتے ہیں۔ تاہم، بطور CEO انہیں کمپنی کے پیچیدہ عالمی آپریشنز، سپلائی چین، مالی معاملات اور جغرافیائی سیاسی خطرات سے بھی نمٹنا ہوگا۔
فولڈ ایبل آئی فون نئے سربراہ کا ابتدائی امتحان
عہدہ سنبھالنے کے چند ہی روز بعد ٹرنَس کو ایک اہم آزمائش کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ایپل کی بڑی ستمبر پروڈکٹ تقریب 9 ستمبر کو متوقع ہے، جہاں آئی فون 18 سیریز سمیت کئی نئی مصنوعات متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔
اس تقریب کا سب سے بڑا مرکز ایپل کا پہلا فولڈ ایبل آئی فون ہوسکتا ہے، جس کا صارفین اور ٹیکنالوجی کی صنعت طویل عرصے سے انتظار کر رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق فولڈ ایبل ماڈل بند ہونے کی صورت میں تقریباً 5.5 انچ جبکہ کھلنے پر تقریباً 7.8 انچ کی اسکرین فراہم کرسکتا ہے۔ اس طرح یہ ڈیوائس روایتی اسمارٹ فون اور چھوٹے ٹیبلٹ کے درمیان ایک نئی کیٹیگری تشکیل دے سکتی ہے۔
سام سنگ سمیت دیگر کمپنیاں کئی برس سے فولڈ ایبل فونز پیش کر رہی ہیں۔ ایپل کی اس شعبے میں آمد کو پریمیم اسمارٹ فون مارکیٹ کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
مصنوعی ذہانت سب سے بڑا چیلنج
ایپل کی مصنوعی ذہانت کی حکمت عملی کو مضبوط بنانا جان ٹرنَس کے لیے سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک ہوسکتا ہے۔
ایپل نے 2011 میں سری متعارف کرا کے موبائل ڈیوائسز میں مصنوعی ذہانت پر مبنی معاون ٹیکنالوجی کے استعمال میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ تاہم جنریٹو اے آئی کے حالیہ دور میں کمپنی کو گوگل، اوپن اے آئی اور مائیکروسافٹ سمیت حریفوں کی تیز رفتار پیش رفت کا سامنا ہے۔
سری کے جدید فیچرز میں تاخیر نے بھی ایپل کی مصنوعی ذہانت کی حکمت عملی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ٹرنَس کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ایپل اپنی اے آئی ٹیکنالوجی کا کتنا حصہ اندرونی طور پر تیار کرے گا اور کہاں بیرونی شراکت داروں پر انحصار کرے گا۔
ماہرین کے مطابق ایپل کی اصل طاقت ہارڈویئر، سافٹ ویئر اور سروسز کے درمیان مضبوط انضمام ہے۔ اے آئی کو بھی اسی ماڈل کے ساتھ جوڑنا نئے CEO کے لیے ایک اہم امتحان ہوگا۔
آئی فون کے بعد کیا؟
ایپل کی آمدنی میں آئی فون اب بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے، تاہم کمپنی کے لیے یہ سوال اہم ہوتا جا رہا ہے کہ آئی فون کے بعد اگلی بڑی پروڈکٹ یا ٹیکنالوجی کیا ہوگی۔
ایپل نے وژن پرو، ایئر پوڈز اور ایپل واچ سمیت مختلف مصنوعات کے ذریعے نئے شعبوں میں قدم رکھا ہے۔ تاہم ان میں سے کوئی بھی آئی فون جیسی تجارتی کامیابی حاصل نہیں کرسکی۔
اسی لیے فولڈ ایبل آئی فون محض ایک نئی پروڈکٹ سے بڑھ کر اہمیت رکھتا ہے۔ یہ ٹرنَس کے دور میں ایپل کی نئی سمت کا ابتدائی امتحان بن سکتا ہے۔
چین پر انحصار اور سپلائی چین کا مسئلہ
ٹم کک کے دور میں چین ایپل کے مینوفیکچرنگ نظام کا ایک اہم مرکز بن گیا۔ تاہم امریکا اور چین کے درمیان بڑھتی کشیدگی، ٹیرف، برآمدی پابندیوں اور عالمی سپلائی چین میں تبدیلیوں نے کمپنی کے لیے نئے خطرات پیدا کیے ہیں۔
ٹرنَس کو چین میں موجود ایپل کے مینوفیکچرنگ اور سپلائر نیٹ ورک کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ کمپنی کا چین پر انحصار کم کرنے کی حکمت عملی بھی بنانا ہوگی۔
ایپل بھارت اور ویتنام سمیت دیگر ممالک میں بھی پیداوار بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم کمپنی کی سپلائی چین انتہائی پیچیدہ ہے، جس میں فیکٹریوں کے علاوہ پرزہ جات بنانے والی کمپنیاں، مشینری، تربیت یافتہ افرادی قوت اور دیگر عوامل شامل ہیں۔
نئی مصنوعات کی طویل فہرست
رپورٹس کے مطابق جان ٹرنَس کے دور میں ایپل متعدد نئی مصنوعات پر کام آگے بڑھا سکتا ہے۔ ان میں فولڈ ایبل آئی فون، اسمارٹ ہوم ڈیوائسز، ٹیبل ٹاپ روبوٹ، کیمرہ رکھنے والے ایئر پوڈز، اسمارٹ گلاسز اور گھریلو سیکیورٹی سسٹم شامل ہیں۔
کمپنی آئی فون کی 20ویں سالگرہ کے موقع پر ایک نمایاں نئے ڈیزائن پر بھی کام کر رہی ہے۔
ٹرنَس کو وژن پرو کے مستقبل، ایپل کی ڈیزائن ٹیم میں نئی توانائی پیدا کرنے اور مصنوعی ذہانت کے ماہر انجینئرز کو کمپنی کے ساتھ برقرار رکھنے جیسے معاملات پر بھی توجہ دینا ہوگی۔
کیا ٹرنَس ایپل کو ایک بار پھر حیران کرسکیں گے؟
ایپل کی کامیابی کی تاریخ صرف موجودہ مصنوعات کو بہتر بنانے تک محدود نہیں رہی۔ میک، آئی پوڈ، آئی فون، آئی پیڈ، ایئر پوڈز اور ایپل واچ نے مختلف ادوار میں نئی مارکیٹیں اور صارفین کی نئی ضروریات پیدا کیں۔
اب بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا جان ٹرنَس ایپل کو ایک بار پھر ایسی کمپنی بنا سکتے ہیں جو ٹیکنالوجی کی دنیا کو نئی مصنوعات اور اختراعات سے حیران کرے۔
ان کے عہدہ سنبھالنے کے چند ہی روز بعد ہونے والی ستمبر کی پروڈکٹ تقریب اس حوالے سے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔
یکم ستمبر کو ٹرنَس ایپل کے CEO کا منصب سنبھال رہے ہیں اور صرف آٹھ روز بعد 9 ستمبر کو ممکنہ طور پر آئی فون 18 سیریز اور پہلے فولڈ ایبل آئی فون کی رونمائی کے موقع پر دنیا کی نظریں ان پر ہوں گی۔
اگر فولڈ ایبل آئی فون توقعات کے مطابق سامنے آتا ہے تو یہ جان ٹرنَس کے دور کی پہلی بڑی ہارڈویئر آزمائش ہوگی۔ تاہم ان کے سامنے اصل چیلنج صرف ایک نئی ڈیوائس متعارف کرانا نہیں، بلکہ مصنوعی ذہانت کے دور میں ایپل کو دوبارہ جدت اور ٹیکنالوجی کی قیادت کی دوڑ میں مضبوط مقام دلانا ہوگا۔


