اردو رپورٹ ڈیسک
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تین بڑے میڈیا اداروں سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو پر وائٹ ہاؤس سے کوریج کی پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ٹرمپ نے جمعے کے روز کہا کہ وہ ان اداروں کو وائٹ ہاؤس سے اس بنیاد پر روک رہے ہیں کہ ان کی جانب سے مسلسل ’’جعلی خبریں‘‘ رپورٹ کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے دیگر میڈیا اداروں پر بھی اسی نوعیت کی پابندی عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
میڈیا اداروں پر ٹرمپ کے الزامات
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو پر اپنے، اپنی انتظامیہ اور امریکا کے بارے میں ’’جعلی خبریں‘‘ رپورٹ کرنے کا الزام عائد کیا۔
رائٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس کی جانب سے تینوں اداروں کو ہفتے سے وائٹ ہاؤس کے احاطے میں داخلے پر پابندی سے آگاہ کیا جا رہا تھا، تاہم جمعے کی سہ پہر تک تینوں اداروں کے صحافی وائٹ ہاؤس میں کام کرتے دکھائی دیے۔
سی این این اور پولیٹیکو کا ردعمل
سی این این نے ٹرمپ کے اعلان پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ وہ وائٹ ہاؤس میں موجود اپنی ٹیم اور اس کی صحافتی کوریج کے ساتھ کھڑا ہے۔ ادارے نے مؤقف اختیار کیا کہ صحافیوں کو آئین کے تحت حکومتی مداخلت کے بغیر رپورٹنگ کا حق حاصل ہے۔
پولیٹیکو نے بھی کہا ہے کہ وہ وائٹ ہاؤس اور آنے والی انتظامیہ کی منصفانہ رپورٹنگ جاری رکھے گا اور اپنی آئینی آزادیوں کے دفاع کے لیے اقدامات کرے گا۔
پابندی پر آئینی سوالات
ٹرمپ کا یہ اقدام امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے تحت آزادیٔ صحافت سے متعلق حقوق کے حوالے سے قانونی سوالات اٹھا رہا ہے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس اقدام پر قانونی چیلنج کا امکان موجود ہے، جبکہ جمعے کی سہ پہر تک پابندی پر عمل درآمد کے واضح شواہد سامنے نہیں آئے تھے۔
ایران جنگ اور پٹرول کی قیمتوں پر ٹرمپ کا بیان
فراہم کردہ خبر کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ کے حوالے سے بھی کہا کہ یہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے امریکی عوام کو بھی کچھ بوجھ اٹھانا پڑے گا، جبکہ جنگ ختم ہونے کے بعد پٹرول کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔


