اردو رپورٹ ڈیسک
چینی کمپنی بی وائی ڈی نے اپنی نئی یانگ وانگ فلیگ شپ سیڈان کی پہلی سرکاری تصاویر جاری کردی ہیں، جس میں بڑی لگژری گاڑی کو پچھلی جانب سے کھلنے والے دروازوں کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ گاڑی کے ڈیزائن نے رولز رائس فینٹم سے مشابہت کے باعث توجہ حاصل کی ہے۔
تاہم، گاڑی کی سب سے اہم خصوصیت اس کے بیرونی ڈیزائن کے بجائے اس کے بیٹری نظام سے متعلق ہو سکتی ہے۔ یہ سیڈان بی وائی ڈی کی سالڈ اسٹیٹ بیٹری سے لیس ہونے والی پہلی گاڑی کے ممکنہ امیدوار کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
سالڈ اسٹیٹ بیٹری کی ممکنہ پیش رفت
بی وائی ڈی کی ایگزیکٹو نائب صدر اسٹیلا لی پہلے کہہ چکی ہیں کہ کمپنی کی سالڈ اسٹیٹ بیٹری ٹیکنالوجی استعمال کرنے والی ایک گاڑی 2027 میں پیش کی جائے گی، تاہم انہوں نے اس ماڈل کا نام یا پیداوار شروع ہونے کی حتمی تاریخ نہیں بتائی۔
نسبتاً کم تعداد میں تیار کی جانے والی ایک لگژری گاڑی اس ٹیکنالوجی کے لیے ممکنہ ابتدائی پلیٹ فارم بن سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب سالڈ اسٹیٹ بیٹری کی تیاری اب بھی مہنگی ہے۔
موجودہ برقی گاڑیوں میں استعمال ہونے والی زیادہ تر بیٹریاں لیتھیم آئنز کی منتقلی کے لیے مائع الیکٹرولائٹ استعمال کرتی ہیں، جبکہ مکمل سالڈ اسٹیٹ بیٹریوں میں مائع کی جگہ ٹھوس الیکٹرولائٹ استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ ٹیکنالوجی زیادہ توانائی کی کثافت کے ساتھ نسبتاً چھوٹے اور ہلکے بیٹری پیک تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ، آتش گیر مائع الیکٹرولائٹ سے متعلق بعض حفاظتی خدشات بھی کم کیے جا سکتے ہیں۔
تاہم، سالڈ اسٹیٹ بیٹریوں کو اب بھی کئی تکنیکی چیلنجز درپیش ہیں، جن میں اندرونی رابطے کو برقرار رکھنا، پائیداری اور لیتھیم کی افزائش شامل ہیں، جو بیٹری سیلز کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
بی وائی ڈی نے ابھی تک اس سیڈان کی بیٹری کی گنجائش، ڈرائیونگ رینج یا چارجنگ کی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔
فلیش چارجنگ سے قیاس آرائیاں
ایک ٹیزر تصویر میں یانگ وانگ سیڈان کو بی وائی ڈی کے فلیش چارجنگ اسٹیشن کے ساتھ دکھایا گیا ہے، جس کے بعد گاڑی کی بیٹری ٹیکنالوجی کے بارے میں قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں۔
تاہم، یہ تصویر اس بات کی تصدیق نہیں کرتی کہ سیڈان میں سالڈ اسٹیٹ بیٹری استعمال کی جائے گی۔ بی وائی ڈی پہلے ہی اپنی روایتی بلیڈ بیٹری 2.0 کے ساتھ فلیش چارجنگ ٹیکنالوجی پیش کر رہی ہے، اس لیے صرف چارجنگ اسٹیشن کی موجودگی کو سالڈ اسٹیٹ بیٹری سے جوڑنا حتمی ثبوت نہیں ہے۔
سالڈ اسٹیٹ ٹیکنالوجی کی جانب پیش رفت
کئی گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں سالڈ اسٹیٹ بیٹری ٹیکنالوجی تیار یا آزما رہی ہیں۔
این آئی او اپنی بعض پریمیم برقی گاڑیوں میں 150 کلو واٹ آور کی بیٹری پیش کرتی ہے، تاہم بیٹری فراہم کرنے والی کمپنی وی لائین اسے نیم سالڈ اسٹیٹ بیٹری قرار دیتی ہے کیونکہ اس میں اب بھی کچھ مائع الیکٹرولائٹ موجود ہے۔ اس لیے یہ مکمل سالڈ اسٹیٹ بیٹری سے مختلف ہے۔
مرسڈیز بینز نے ای کیو ایس میں سالڈ اسٹیٹ بیٹری ٹیکنالوجی کی سڑک پر آزمائش کی ہے، جبکہ بی ایم ڈبلیو نے آئی 7 میں مکمل سالڈ اسٹیٹ سیلز کی جانچ کی ہے۔ ٹویوٹا بھی اس ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہے اور 2027-28 میں سالڈ اسٹیٹ بیٹریوں سے لیس برقی گاڑیاں متعارف کرانے کا ہدف رکھتی ہے۔
بی وائی ڈی بھی الگ سے کہہ چکی ہے کہ وہ 2027 میں اپنی سالڈ اسٹیٹ بیٹری ٹیکنالوجی کسی گاڑی میں استعمال کرے گی، تاہم کمپنی نے ابھی تک اس ماڈل کی شناخت ظاہر نہیں کی۔
یانگ وانگ سیڈان کے بارے میں معلومات
چھپی ہوئی حالت میں سامنے آنے والی سیڈان میں لمبا اور بلند جسم، پچھلی جانب سے کھلنے والے روایتی طرز کے دروازے اور چھت پر نصب لائڈار سینسر نمایاں ہیں۔
یانگ وانگ نے ابھی تک گاڑی کے اندرونی حصے یا اس کے حتمی نام، تکنیکی خصوصیات، قیمت اور لانچ کی تاریخ کی تصدیق نہیں کی۔
گاڑی کے منفرد دروازے توجہ حاصل کر سکتے ہیں، تاہم اگر اس میں سالڈ اسٹیٹ بیٹری کی تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ بی وائی ڈی کی اگلی نسل کی برقی گاڑیوں کی ٹیکنالوجی کے لیے زیادہ اہم پیش رفت ثابت ہوگی۔


