اردو رپورٹ ڈیسک
وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ 4 اکتوبر سے پہلے بھی ممکن ہے، جبکہ وزیراعظم کی وطن واپسی کے بعد یہ معاملہ وفاقی کابینہ میں زیر بحث آنے کا امکان ہے۔
ایک ویب میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور حکومت کے اتحادی اس صورتحال سے آگاہ ہیں اور صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کے معاملے پر مشاورت جاری ہے۔
خیبرپختونخوا کی امن و امان کی صورتحال
بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے اور صوبائی حکومت کی ترجیحات پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر ایمرجنسی سمیت مختلف آئینی اقدامات پر غور کیا گیا ہے۔ وزیراعظم کی وطن واپسی کے بعد یہ معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
وزیر مملکت نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف اپنے احتجاج کو مؤخر یا ملتوی کرتی ہے یا نہیں، اصل معاملہ یہ نہیں ہے۔
دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر زور
بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی پر فوری عملدرآمد کرنا چاہیے۔
انہوں نے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد بڑھانے اور ایپکس کمیٹی کے اجلاس سمیت امن و امان سے متعلق معاملات پر فوری توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں دہشت گردی کے مسلسل واقعات کے باعث عوام وفاقی حکومت کی جانب دیکھ رہے ہیں، جبکہ صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ پنجاب اور سندھ کے دورے کر رہے ہیں۔
اتحادی جماعتیں صورتحال سے آگاہ
وزیر مملکت نے کہا کہ قومی سلامتی سے متعلق معاملات پر حکومت کی اتحادی جماعتوں کو صورتحال سے آگاہ رکھا گیا ہے۔
نواز شریف کا حوالہ دیتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد ماضی میں بھی قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کو ترجیح دیتے رہے ہیں۔
انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اتحادی جماعت کی قیادت اور خیبرپختونخوا کے گورنر بھی صوبے کی صورتحال سے آگاہ ہیں۔
4 اکتوبر سے پہلے فیصلے کا امکان
بیرسٹر عقیل ملک نے دوبارہ کہا کہ ایمرجنسی ایک آئینی اقدام ہے اور حکومت موجودہ حالات کا جائزہ لے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی وطن واپسی کے بعد ایمرجنسی سے متعلق معاملہ وفاقی کابینہ میں زیر غور آنے کا امکان ہے اور اس حوالے سے فیصلہ 4 اکتوبر سے پہلے بھی کیا جا سکتا ہے۔
28ویں آئینی ترمیم پر بھی بات چیت جاری
28ویں آئینی ترمیم سے متعلق سوال پر بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ اس حوالے سے معاملات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اکتوبر میں ہونے والے پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں انتظامی یونٹس اور صوبائی معاملات سمیت مختلف امور پر بحث متوقع ہے، جس کے بعد عوامی نمائندے عوام کے مفاد میں فیصلے کریں گے۔


