اردو رپورٹ ڈیسک
چین نے 2028 کے اختتام تک مریخ کی پوری سطح کا نئی نسل کا جامع ارضیاتی نقشہ تیار کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس منصوبے میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے مختلف اعداد و شمار کا تجزیہ کرکے مریخ کی ارضیاتی تاریخ کو سمجھنے کے لیے نیا نظام تشکیل دیا جائے گا۔
اس منصوبے کا مقصد مریخ کے ارضیاتی ادوار کی درجہ بندی کے لیے چینی نظام وضع کرنا اور اسے مریخ کی ارضیاتی عمر کے تعین کے لیے بین الاقوامی حوالہ بنانے کی کوشش کرنا ہے۔
مصنوعی ذہانت سے مریخ کی نقشہ سازی
چین کے منصوبے کے تحت تیان وین-1 مشن سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کو امریکا اور یورپی خلائی ایجنسی کے مریخ کے مختلف مشنز سے ملنے والی معلومات کے ساتھ یکجا کیا جائے گا۔
اس ڈیٹا میں مریخ کی تصاویر، طیفی مشاہدات، ریڈار، کششِ ثقل اور مقناطیسی پیمائشیں شامل ہوں گی، جن کی مدد سے مریخ کی ارضیاتی خصوصیات کا عالمی ڈیٹا بیس تیار کیا جائے گا۔
مصنوعی ذہانت کے ذریعے اس ڈیٹا کا تجزیہ کیا جائے گا، جبکہ ارضیاتی ماہرین کی معلومات کو قواعد پر مبنی نظام کے ذریعے بڑے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز میں شامل کیا جائے گا۔
اس منصوبے کے تحت مریخ کا 50 لاکھ کے پیمانے پر ارضیاتی نقشہ، تیان وین-3 کی مجوزہ لینڈنگ سائٹ کا 50 ہزار کے پیمانے پر تفصیلی نقشہ اور مختلف موضوعات پر مشتمل اٹلس تیار کیے جانے کی توقع ہے۔
ژورونگ روور سے حاصل اہم معلومات
چین کے ژورونگ روور سے حاصل ہونے والا ڈیٹا بھی نئے ارضیاتی نقشے میں شامل کیا جائے گا۔ یہ روور تیان وین-1 مشن کے تحت 2021 میں مریخ پر اترا تھا۔
ژورونگ روور سے حاصل معلومات میں ایسے شواہد سامنے آئے تھے جن سے اشارہ ملتا ہے کہ تقریباً 3.5 ارب سال پہلے مریخ پر ایک وسیع قدیم سمندر موجود ہوسکتا تھا، جبکہ تقریباً 1.6 ارب سال پہلے مختصر مدت کے لیے سیلاب بھی آئے ہوں گے۔
سائنس دانوں کے مطابق یہ معلومات مریخ پر قدیم پانی کی تاریخ اور اس کی آب و ہوا کے ارتقا کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
تیان وین-3 مشن اور مریخی نمونے
چین تیان وین-3 مریخ نمونہ واپسی مشن کی بھی تیاری کر رہا ہے، جسے تقریباً 2028 میں روانہ کرنے کا منصوبہ ہے۔ مشن کے ذریعے مریخ سے کم از کم 500 گرام مواد حاصل کرکے تقریباً 2031 تک زمین پر واپس لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
مشن کے لیے ایسے خلائی آلات استعمال کیے جائیں گے جو مریخ پر اترنے، سطح سے نمونے لے کر پرواز کرنے، مریخ کے مدار میں گردش کرنے اور نمونے زمین پر واپس لانے کے مختلف مراحل انجام دیں گے۔
چین کی قومی خلائی انتظامیہ کے مطابق تیان وین-3 مشن کو تقریباً 2028 میں روانہ کرنے اور مریخی نمونے تقریباً 2031 میں زمین پر واپس لانے کا منصوبہ ہے۔
مریخ کے نقشے کا وسیع تر مقصد
چین کا منصوبہ صرف مریخ کو بہتر طور پر سمجھنے تک محدود نہیں بلکہ اس ارضیاتی نقشے کو مستقبل میں چاند، زہرہ اور سیارچوں کی ارضیاتی نقشہ سازی کے لیے بھی ایک نمونہ بنانے کا مقصد رکھتا ہے۔


