اردو رپورٹ ڈیسک
اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ کیس میں سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ کی غیر جانب داری سے متعلق سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ بعض مشاہدات ایسے معاملات پر مبنی تھے جو عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں تھے۔
یہ ریمارکس جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں وفاقی آئینی عدالت کے تین رکنی بینچ کے 44 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں سامنے آئے۔ عدالت نے سپریم کورٹ کا 2024 کا وہ فیصلہ کالعدم قرار دیا تھا جس میں پیر سوہاوہ میں مونال ریسٹورنٹ گرانے کا حکم دیا گیا تھا۔
مونال ریسٹورنٹ کیس کا پس منظر
سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے مونال ریسٹورنٹ کے مالک کی جانب سے انہدام کے حکم کے خلاف دائر نظرثانی درخواست مسترد کر دی تھی اور ریسٹورنٹ کے مالک سے متعلق بعض مشاہدات بھی کیے تھے۔
جولائی میں وفاقی آئینی عدالت نے مختصر حکم کے ذریعے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کی اپیلیں منظور کی تھیں، جس کے نتیجے میں سپریم کورٹ کا 2024 کا فیصلہ مؤثر طور پر کالعدم ہو گیا اور مونال ریسٹورنٹ کو برقرار رکھنے کی اجازت دی گئی۔
عدالتی ریکارڈ سے باہر معاملات پر اعتراض
تفصیلی فیصلے میں وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کی کارروائی کے طریقہ کار پر تشویش کا اظہار کیا، بالخصوص فریقین کے مبینہ ذاتی تعلقات، نجی معاملات اور سیاسی وابستگیوں سے متعلق مشاہدات پر۔
عدالت نے قرار دیا کہ ملک کی اس وقت کی اعلیٰ ترین عدالت سے توقع تھی کہ وہ تنازع کا فیصلہ صرف فریقین کے مؤقف، ریکارڈ پر موجود شواہد اور متعلقہ قانون کی بنیاد پر کرتی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ عدالتی نتائج اور مشاہدات عدالت کے سامنے موجود ریکارڈ سے اخذ ہونے چاہئیں، نہ کہ مقدمہ سننے والے بینچ کے ذاتی علم یا معلومات میں شامل ایسے معاملات سے جو عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہ ہوں۔
ذاتی معاملات اور سیاسی وابستگیوں کا حوالہ
وفاقی آئینی عدالت نے مشاہدہ کیا کہ فریقین کے مبینہ ذاتی تعلقات، نجی معاملات اور سیاسی وابستگیوں سے متعلق حوالہ جات بظاہر ایسے قابل قبول شواہد کے ذریعے ثابت نہیں کیے گئے جو عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہوں۔
عدالت کے مطابق ایسے معاملات کو عدالتی استدلال میں شامل کرنے سے یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ تنازع کا فیصلہ غیر ضروری امور سے مکمل طور پر الگ رہ کر نہیں کیا گیا۔
غیر جانب داری اور مقدمے سے الگ ہونے کا اصول
عدالت نے زور دیا کہ انصاف کی فراہمی پر عوامی اعتماد اس یقین پر قائم ہے کہ ہر فریق کا فیصلہ صرف قانون اور عدالت کے سامنے پیش کیے گئے شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
وفاقی آئینی عدالت کے مطابق اگر کسی بینچ کو کسی فریق سے متعلق متنازع حقائق یا حالات کا ذاتی علم ہو، یا یہ علم غیر منصفانہ طرز عمل کے بارے میں معقول خدشہ پیدا کر سکتا ہو، تو عدالتی اصول کے تحت جج کو مقدمہ سننے سے الگ ہونا چاہیے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اعلیٰ عدلیہ کے جج مناسب حالات میں خود کو مقدمے سے الگ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں تاکہ انصاف کی غیر جانب داری کی حقیقی اور ظاہری حیثیت برقرار رہے۔
منصفانہ سماعت کے آئینی تقاضے
وفاقی آئینی عدالت نے نوٹ کیا کہ سپریم کورٹ کے بینچ نے ایسے مشاہدات ریکارڈ کرنے کے باوجود تنازع کا فیصلہ کیا جو اس کے ذاتی علم یا معلومات پر مبنی بتائے گئے تھے۔
عدالت کے مطابق مذکورہ مشاہدات سے کارروائی کی غیر جانب داری کے بارے میں معقول خدشہ پیدا ہو سکتا ہے اور ان حالات میں کارروائی کو منصفانہ سماعت کے تمام تقاضے پورے کرنے والی کارروائی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 10-A کے تحت منصفانہ سماعت کی ضمانت میں ایک اہل، آزاد اور غیر جانب دار فورم کے سامنے مناسب سماعت کا حق شامل ہے۔
عدالتی عمل پر عوامی اعتماد
وفاقی آئینی عدالت نے مزید کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کی روایات اور اس اصول کو مدنظر رکھا جانا چاہیے کہ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔
عدالت کے مطابق عدالتی عمل کا اعتبار صرف حقیقی غیر جانب داری پر منحصر نہیں بلکہ اس بات پر بھی قائم ہے کہ عوام کو یقین ہو کہ انصاف منصفانہ، معروضی اور پیشگی رجحان سے پاک انداز میں کیا گیا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ مذکورہ مشاہدات قانونی طور پر قابل دفاع نہیں تھے کیونکہ وہ عدالتی ریکارڈ میں موجود مواد سے ثابت نہیں ہوتے تھے اور مقدمے میں زیر بحث قانونی نکات کے تعین سے بھی ان کا کوئی واضح تعلق نہیں تھا۔


