اردوEnglish
ہفتہ, 17 اکتوبر 2026
  • Home  
  • صرف 7 سیکنڈ کی ویڈیو سے ڈیپ فیک پکڑنے والا جدید اے آئی ماڈل تیار
- ٹیکنالوجی

صرف 7 سیکنڈ کی ویڈیو سے ڈیپ فیک پکڑنے والا جدید اے آئی ماڈل تیار

دبئی الیکٹرانک سیکیورٹی سینٹر نے ’’سَراب‘‘ نامی جدید اے آئی ماڈل متعارف کرایا ہے جو صرف 7 سیکنڈ کی ویڈیو کا تجزیہ کرکے ڈیپ فیک مواد کی نشاندہی کرسکتا ہے۔

اردو رپورٹ ڈیسک

دبئی الیکٹرانک سیکیورٹی سینٹر (DESC) نے ’’سَراب‘‘ (SARAAB) نامی جدید مصنوعی ذہانت کا ماڈل متعارف کرایا ہے، جو صرف 7 سیکنڈ کی ویڈیو کا تجزیہ کرکے ڈیپ فیک مواد کی نشاندہی کرسکتا ہے۔

مرکز کے مطابق سَراب عرب خطے میں کسی حکومتی ادارے کی جانب سے تیار کیا جانے والا پہلا اوپن سورس ڈیپ فیک شناختی اے آئی ماڈل ہے۔

یہ ماڈل 16 ستمبر 2026 کو گِسیک گلوبل 2026 (GISEC Global 2026) کے افتتاحی روز دبئی ایکسپو سٹی کے دبئی ایگزیبیشن سینٹر میں متعارف کرایا گیا۔

اماراتی ماہرین نے تیار کیا

دبئی الیکٹرانک سیکیورٹی سینٹر کے مطابق سَراب کو مکمل طور پر اماراتی ماہرین کی ایک ٹیم نے تیار کیا ہے۔

ماڈل کا مقصد مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیزی سے بدلتے ہوئے سائبر سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے اور ڈیجیٹل ماحول میں قابلِ اعتماد مواد کی شناخت کی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے۔

ڈیپ فیک کی شناخت میں 91 فیصد درستگی

مرکز کی جانب سے کیے گئے تجربات میں سَراب نے ڈیپ فیک مواد کی شناخت میں 91 فیصد تک درستگی حاصل کی۔

ایسے ڈیٹا پر بھی ماڈل کی درستگی 89 فیصد رہی جو اس کی تربیت کے دوران استعمال نہیں کیا گیا تھا۔

دبئی الیکٹرانک سیکیورٹی سینٹر کا کہنا ہے کہ تقابلی جائزوں میں سَراب نے آزمائے گئے دیگر اوپن سورس ڈیپ فیک شناختی ماڈلز کے مقابلے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

صرف 7 سیکنڈ کی ویڈیو کافی

سَراب کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ صرف 7 سیکنڈ کی مختصر ویڈیو میں بھی جعلی یا تبدیل شدہ مواد کی نشاندہی کرسکتا ہے۔

مرکز کے مطابق آزمائے گئے دیگر اوپن سورس ماڈلز کو مؤثر تجزیے کے لیے عموماً 15 سیکنڈ یا اس سے زیادہ دورانیے کی ویڈیو درکار تھی۔

مختصر ویڈیوز میں ڈیپ فیک کی شناخت کی یہ صلاحیت اس لیے اہم قرار دی جا رہی ہے کہ سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مختصر ویڈیوز تیزی سے پھیلتی ہیں، جس کے باعث صارفین کے لیے حقیقی اور مصنوعی یا تبدیل شدہ مواد میں فرق کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

سَراب کو اوپن سورس کرنے کا منصوبہ

دبئی الیکٹرانک سیکیورٹی سینٹر نے سَراب کو مستقبل قریب میں عوام کے لیے اوپن سورس ماڈل کے طور پر جاری کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

ماڈل کو ہگنگ فیس اور گِٹ ہب پر دستیاب کرایا جائے گا، جہاں مصنوعی ذہانت کے انجینئرز، سائبر سیکیورٹی ماہرین اور محققین اسے آزمانے کے ساتھ ساتھ اس کی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرسکیں گے۔

ڈیپ فیک کے خلاف عالمی تعاون

مرکز کے مطابق سَراب کو اوپن سورس کرنے کا مقصد مصنوعی ذہانت اور سائبر سیکیورٹی کے ماہرین کے درمیان عالمی سطح پر تعاون کو فروغ دینا اور ڈیپ فیک مواد کی شناخت کے لیے مزید مؤثر ٹیکنالوجی کی تیاری میں مدد دینا ہے۔

دبئی الیکٹرانک سیکیورٹی سینٹر کے مطابق سَراب کی تیاری متحدہ عرب امارات کی مقامی سائبر سیکیورٹی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی کوششوں میں ایک اہم قدم ہے۔ مرکز مصنوعی ذہانت کو بروئے کار لا کر ابھرتے ہوئے ڈیجیٹل خطرات سے نمٹنے اور ملک کی سائبر سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

urdureport.com@2025. All Rights Reserved

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!