اردوEnglish
ہفتہ, 17 اکتوبر 2026
  • Home  
  • لانگ مارچ خیبر کی طرف روانہ، حکومت پھر مذاکرات پر تیار،
- دنیا

لانگ مارچ خیبر کی طرف روانہ، حکومت پھر مذاکرات پر تیار،

پی ٹی آئی کا لانگ مارچ مطالبات کے حق میں خیبر کی طرف روانہ ہوگیا۔ حکومت نے مذاکرات کی دوبارہ پیشکش کی ہے، جبکہ پی ٹی آئی نے مطالبات پر سنجیدہ پیش رفت کی صورت میں مذاکرات پر واپسی کا عندیہ دیا ہے۔ رانا ثنا اللہ نے خیبر پختونخوا میں کسی نئے فوجی آپریشن اور نئے آئی ڈی پیز بننے کے امکان کو مسترد کیا ہے۔

اردو رپورٹ ڈیسک

پشاور: پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ اپنے مطالبات کے حق میں جاری ہے اور بدھ کو ضلع خیبر کی جانب روانہ ہوگیا۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان کے مطابق لانگ مارچ اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے اور شرکا پُرامن انداز میں سفر کر رہے ہیں۔

شفیع جان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ لانگ مارچ پشاور پہنچ چکا ہے اور اب شرکا ضلع خیبر کی جانب جا رہے ہیں، جہاں سے اگلے روز دوبارہ پشاور میں داخل ہوں گے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ لانگ مارچ کے شرکا کے پاس کسی قسم کا اسلحہ نہیں ہے اور مارچ پُرامن انداز میں جاری ہے۔

مطالبات پورے ہونے تک مارچ جاری رہے گا

شفیع جان نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ مطالبات پورے ہونے تک جاری رہے گا۔

ان کے مطابق خیبر پختونخوا شدت پسندی سے متاثر ہے اور صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت کی موجودہ پالیسی مؤثر ثابت نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے پاس امن کے قیام کے لیے ایک منصوبہ موجود ہے، جس کے ذریعے خیبر پختونخوا میں 100 دن کے اندر امن قائم کیا جا سکتا ہے۔

شفیع جان کے مطابق اگر صوبائی حکومت کی تجویز کردہ پالیسی نافذ ہونے کے 100 دن بعد بھی امن قائم نہ ہو سکا تو وفاق اپنی پالیسی دوبارہ لا سکتا ہے۔

پی ٹی آئی حکومت سنجیدہ ہوئی تو مذاکرات کے لیے تیار

دوسری جانب پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا ہے کہ حکومت مطالبات تسلیم کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تو تحریک انصاف دوبارہ مذاکرات کی میز پر آ جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ تحریک انصاف نے کبھی مذاکرات کے راستے سے گریز نہیں کیا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ملک میں سیاسی اور معاشی عدم استحکام کی ذمہ دار تحریک انصاف نہیں بلکہ موجودہ حکومت ہے، جبکہ ان کے بقول گزشتہ مذاکرات حکومت کی ’’ہٹ دھرمی، ضد اور انا‘‘ کے باعث ناکام ہوئے۔

شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ تحریک انصاف کے بنیادی مطالبات میں عمران خان کا ذاتی معالج کی نگرانی میں علاج، مبینہ ’’ناحق‘‘ قید کا خاتمہ اور عمران خان کی بہنوں سمیت دیگر افراد کی نظر بندی ختم کرنا شامل ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان سمیت تمام زیر حراست افراد کو آئین اور قانون کے مطابق انصاف فراہم کیا جائے اور عدالتی و قانونی عمل میں رکاوٹیں ختم کی جائیں۔

ان کے مطابق جس دن حکومت ان مطالبات پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرے گی، تحریک انصاف اسی دن دوبارہ مذاکرات کی میز پر موجود ہوگی۔

وزیراعظم کی مذاکرات کی دوبارہ پیشکش

پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات پر آمادگی کا بیان وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے مذاکرات کی دوبارہ پیشکش کے بعد سامنے آیا ہے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے بدھ کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم نے تحریک انصاف کو ایک بار پھر تمام مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی پیشکش کی ہے۔

رانا ثنا اللہ نے خیبر پختونخوا حکومت اور پی ٹی آئی پر زور دیا کہ سیاسی عدم استحکام اور جماعتی مفادات کو قومی مفاد پر ترجیح دینے کی روش ترک کی جائے اور تمام مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ بات چیت کی خواہش کو ریاست پر دباؤ ڈال کر سیاسی مطالبات منوانے کے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

خیبر پختونخوا میں نیا فوجی آپریشن نہیں ہوگا: رانا ثنا اللہ

رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں جاری رہیں گی، تاہم کوئی نیا فوجی آپریشن شروع نہیں کیا جا رہا۔

انہوں نے کہا کہ نہ کوئی نیا فوجی آپریشن شروع ہو رہا ہے اور نہ ہی نئے بے گھر افراد یعنی آئی ڈی پیز پیدا ہونے کا کوئی امکان ہے۔

ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف پہلے سے ایک منصوبہ موجود ہے جس پر عمل درآمد جاری ہے جبکہ مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ کوئی بڑا نیا آپریشن ہونے والا ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں پر حملے کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں اور ایسے آپریشنز کی مخالفت سمجھ سے بالاتر ہے۔

مذاکراتی ڈیڈ لاک پر پی ٹی آئی کا مؤقف درست نہیں: رانا ثنا اللہ

رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات میں ڈیڈ لاک کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کی پی ٹی آئی غلط تشریح کر رہی ہے۔

ان کے مطابق یہ کہنا درست نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف مشاورت کو مسترد کر دیا گیا یا اپوزیشن کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجا کے بیانات کو بھی حقائق کے منافی قرار دیا۔

وفاق کی جانب سے گورننس پر توجہ دینے کا مطالبہ

وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ وفاقی حکومت نے متعدد مرتبہ خیبر پختونخوا حکومت کو عوامی فلاح و بہبود اور گورننس کے معاملات پر توجہ دینے کا کہا، تاہم صوبائی حکومت نے ان معاملات کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔

انہوں نے صوبے میں امن و امان اور حکمرانی کے معاملات پر بھی صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

خیبر پختونخوا میں پولیس کی صورتحال

رانا ثنا اللہ نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے پانچ اضلاع ایسے ہیں جہاں پولیس کے تھانے موجود نہیں، جبکہ پولیس کی 17 ہزار آسامیاں خالی ہیں۔

ان کے مطابق پولیس میں بھرتیوں اور تربیت کے عمل میں بھی شدید کمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ انسداد دہشت گردی یعنی سی ٹی ڈی کی مجموعی نفری 3,300 ہے، جن میں صرف 25 اہلکار مستقل حیثیت رکھتے ہیں جبکہ باقی ایڈہاک بنیادوں پر کام کر رہے ہیں۔

رانا ثنا اللہ کے مطابق کئی علاقوں میں تھانوں کی عمارتیں موجود نہیں جبکہ پولیس کو ضروری ہتھیار اور وسائل بھی دستیاب نہیں۔

پی ٹی آئی لانگ مارچ پر حکومتی تنقید

پی ٹی آئی کے لانگ مارچ پر تنقید کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ 4 اکتوبر سے جاری مارچ کے باوجود تحریک انصاف کسی مقام پر چند ہزار سے زیادہ افراد جمع نہیں کر سکی۔

ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کے کیمپوں کے لیے کروڑوں روپے چندہ جمع کیا گیا، لیکن شرکا کے لیے بنیادی سہولیات بھی دستیاب نہیں تھیں۔

وزیراعظم کے مشیر نے لانگ مارچ کو سیاسی عدم استحکام کے تناظر میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے۔

خیبر پختونخوا میں سیاسی کشیدگی

لانگ مارچ اور مذاکرات کے معاملے کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا میں مرکز اور صوبائی حکومت کے درمیان سیاسی کشیدگی بھی برقرار ہے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے گورنر فیصل کریم کنڈی کی جانب سے سکیورٹی صورتحال پر اجلاس بلانے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے جمہوریت پر حملہ قرار دیا ہے۔

پشاور میں صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی اسمبلی، کابینہ اور حکومت مکمل طور پر فعال ہیں اور صوبے میں دو تہائی اکثریت رکھنے والی حکومت کی موجودگی میں گورنر کی جانب سے اس نوعیت کا اجلاس بلانا ناقابل قبول ہے۔

وزیراعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ گورنر کی سرگرمیوں کا مقصد صوبائی حکومت کو اشتعال دلانا اور اسے ردعمل دینے پر مجبور کرنا ہے۔

انہوں نے پی ٹی آئی کارکنوں کو پرامن رہنے اور قانون و آئین کی پابندی کرنے کی ہدایت بھی کی۔

غیر آئینی احکامات پر عمل نہ کرنے کی ہدایت

سہیل آفریدی نے چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس سے کہا کہ اگر ان کی جانب سے کوئی حکم نہ دیا گیا ہو تو وہ کسی بھی غیر آئینی یا غیر قانونی حکم پر عمل نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام اور انتظامیہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں اور کسی کو غیر آئینی اقدام پر مجبور کیا گیا تو اس سے صوبے یا ملک کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

وزیراعلیٰ نے صوبائی انتظامیہ کو غیر آئینی سرگرمیوں سے دور رہنے اور مبینہ بدعنوانی میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت بھی کی۔

گورنر راج کی قیاس آرائیاں

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی قیاس آرائیوں کے باعث بھی سیاسی صورتحال میں کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔

فراہم کردہ معلومات کے مطابق گورنر فیصل کریم کنڈی اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس معاملے پر بھی بات چیت کی تھی۔

سہیل آفریدی نے وفاقی پالیسی پر بھی اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پالیسی میں تبدیلی ضروری ہے۔

وفاق سے مالی حقوق کا مطالبہ

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے وفاقی حکومت پر صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک کا الزام بھی عائد کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع کو 2018 میں خیبر پختونخوا میں ضم کیا گیا، تاہم انہیں اب تک مالی طور پر مکمل طور پر صوبے میں ضم نہیں کیا گیا۔

سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومتوں نے 2004 سے خیبر پختونخوا میں مسلسل فوجی آپریشنز کیے اور ان پالیسیوں کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد کو مکمل معاوضہ نہیں ملا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ تقریباً 100 ارب روپے کا معاوضہ اب بھی واجب الادا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ قبائلی خاندانوں کے لیے فی گھرانہ 4 لاکھ روپے معاوضہ مقرر کیا گیا تھا، تاہم وعدہ کیا گیا معاوضہ بھی مکمل طور پر ادا نہیں کیا گیا۔

بکا خیل کیمپ کے متاثرین کے واجبات

سہیل آفریدی کے مطابق شمالی وزیرستان کے بکا خیل کیمپ میں بے گھر افراد کو ماہانہ 37 کروڑ سے 38 کروڑ روپے فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، تاہم یہ رقم اب بھی فراہم نہیں کی جا رہی۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے بے گھر افراد کے لیے 21 ارب روپے فراہم کیے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے وفاق سے مطالبہ کیا کہ اگر وہ خیبر پختونخوا کے ساتھ مخلص ہے تو صوبے کا قومی مالیاتی کمیشن میں حصہ بڑھائے اور صوبے کے تقریباً 125 ارب روپے کے واجبات ادا کرے۔

خیبر پختونخوا میں 100 روز میں امن کا دعویٰ

سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ اگر خیبر پختونخوا کے متعلقہ فریقوں کی تجویز کردہ پالیسی پر عمل کیا جائے تو صوبے میں 100 روز کے اندر امن قائم کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ 22 سال کے دوران 14 ہزار انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں اور 22 بڑی فوجی کارروائیوں کے باوجود صوبے میں امن کیوں قائم نہیں ہو سکا۔

وزیراعلیٰ نے اسے وفاقی حکومت کی پالیسی کی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر 22 سال بعد بھی خیبر پختونخوا میں امن کا مسئلہ موجود ہے تو دہشت گردی کے خلاف پالیسی تبدیل کی جانی چاہیے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ مؤقف قابل قبول نہیں کہ خیبر پختونخوا تعاون نہیں کر رہا، کیونکہ ان کے بقول بلوچستان میں بھی دہشت گردی کے خلاف وفاقی پالیسی مؤثر ثابت نہیں ہوئی۔

افغانستان اور افغان طالبان سے متعلق حکومتی مؤقف

افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ قطر، چین، سعودی عرب اور ترکی نے افغان طالبان کو پاکستان کے تحفظات سے آگاہ کرنے اور انہیں قائل کرنے کی کوشش کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان ممالک کی جانب سے کوششوں کے باوجود افغان طالبان پاکستان کو مطلوبہ یقین دہانی کرانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

رانا ثنا اللہ کے مطابق پاکستان کو افغانستان سے متعلق سکیورٹی خدشات ہیں اور دہشت گردی کے معاملے پر مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

خواجہ آصف کی پی ٹی آئی حکومت پر تنقید

دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف نے خیبر پختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

خواجہ آصف نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے معاملے سے لاتعلق ہے اور سیاسی لانگ مارچ میں مصروف ہے۔

انہوں نے ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والے حملوں کا حوالہ دیا، جن میں کسٹمز حکام سمیت پانچ افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ صوبائی کابینہ اور وزیراعلیٰ نے اس واقعے پر مناسب ردعمل نہیں دیا اور نہ ہی متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی۔

خواجہ آصف نے الزام عائد کیا کہ دہشت گردی سے متاثرہ صوبے کی حکومت نے عوام کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔

انہوں نے صوبائی حکومت پر دہشت گردوں کے ساتھ مبینہ ملی بھگت کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ اس حوالے سے شواہد موجود ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ ملک کی وحدت کو خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا اور پورے صوبے کو یرغمال نہیں بنایا جا سکتا۔

لانگ مارچ، مذاکرات اور سیاسی صورتحال

موجودہ صورتحال میں پی ٹی آئی ایک طرف اپنے مطالبات کے حق میں لانگ مارچ جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ دوسری جانب حکومت نے دوبارہ مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔

پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ حکومت عمران خان کے علاج، زیر حراست افراد سے متعلق قانونی و عدالتی معاملات اور دیگر بنیادی مطالبات پر سنجیدگی دکھائے تو مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا سکتے ہیں۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ سیاسی مسائل مذاکرات کے ذریعے حل ہونے چاہئیں، تاہم ریاست پر دباؤ ڈال کر مطالبات منوانے کی کوشش قبول نہیں کی جائے گی۔

دونوں جانب سے سامنے آنے والے بیانات کے بعد اب سیاسی کشیدگی کے ساتھ مذاکرات کا راستہ بھی کھلا ہے، جبکہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ خیبر کی طرف جاری ہے۔

urdureport.com@2025. All Rights Reserved

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!