اردوEnglish
ہفتہ, 17 اکتوبر 2026
  • Home  
  • سہیل آفریدی کا گورنر راج کی دھمکی پر سخت ردعمل، پی ٹی آئی لانگ مارچ پشاور کی جانب رواں دواں
- پاکستان

سہیل آفریدی کا گورنر راج کی دھمکی پر سخت ردعمل، پی ٹی آئی لانگ مارچ پشاور کی جانب رواں دواں

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ لانگ مارچ کا مقصد حقیقی آزادی ہے اور اس کی منزل صوابی سے آگے ہے۔

اردو رپورٹ ڈیسک

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ کوہاٹ سے گزرنے کے بعد آج رات پشاور پہنچنے کے لیے روانہ ہوگا۔

لانگ مارچ 4 اکتوبر کو خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع لکی مروت سے شروع ہوا تھا۔ پی ٹی آئی کے مطابق مارچ کا مقصد بانی چیئرمین سے ملاقاتیں، ان کے علاج اور مقدمات کی سماعت شروع کرانے کے مطالبات ہیں۔

شرکا نے پہلی رات کرک میں قیام کیا، جس کے بعد 5 اکتوبر کو لانگ مارچ کرک سے کوہاٹ کی جانب روانہ ہوا۔

کوہاٹ میں سہیل آفریدی کا خطاب

لانگ مارچ کوہاٹ کے مختلف بازاروں سے گزرتے ہوئے کالج چوک پہنچا، جہاں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے شرکا سے خطاب کیا۔

سہیل آفریدی نے خطاب میں گورنر راج یا صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی دھمکیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ایسی دھمکیوں کی کوئی فکر نہیں۔

انہوں نے کہا، ’’گورنر راج کل لگاتے ہیں، آج لگائیں، ابھی لگائیں، مجھے ان چیزوں کی کوئی فکر نہیں۔‘‘

گورنر راج کی دھمکی پر دوٹوک مؤقف

سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں اور اگر وفاقی حکومت گورنر راج نافذ کرنا چاہتی ہے تو کرلے۔

انہوں نے کہا کہ جو کچھ کرنا ہے کرلیں، وہ ان دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔

دہشت گردی سے متعلق پالیسی پر اعتراض

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے دہشت گردی سے متعلق وفاقی حکومت کی پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ ناکام پالیسیوں کے باعث دہشت گردی کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کی جان بھی لے لی جائے تو وہ ایسی پالیسی کو قبول نہیں کریں گے۔

سہیل آفریدی نے وفاق کی دہشت گردی سے متعلق پالیسی کو پختون دشمن، صوبہ دشمن اور پاکستان دشمن قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پختونوں کے سروں پر ڈالر کمانے کا کھیل مزید جاری نہیں رہنے دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ ایسی کرسی کو قبول نہیں کرتے جس کے لیے پختونوں کے سروں کا سودا کرنا پڑے۔

لانگ مارچ کی منزل صوابی سے آگے ہے

سہیل آفریدی نے کہا کہ لانگ مارچ کی منزل صوابی سے آگے ہے اور اس کا حتمی نتیجہ سب کے سامنے آ جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ان کے لانگ مارچ کا مقصد ’’حقیقی آزادی‘‘ ہے اور عمران خان نے جو خواب دیکھا ہے، اس کے لیے کرسی تو چھوٹی چیز ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر اس مقصد کے لیے جان کی بازی لگانا یا قربانی دینا پڑی تو وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

کارکنوں سے پُرامن رہنے کی اپیل

سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کارکنوں سے پُرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مخالفین انہیں انتشار کی طرف لے جانے کی کوشش کریں گے، تاہم کارکنوں کو پُرامن رہنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کے شرکا اپنے مقصد کے حصول کے لیے پُرامن طریقے سے آگے بڑھیں۔

پشاور اور صوابی کا اگلا شیڈول

قائدین کے خطاب کے بعد لانگ مارچ کے شرکا پشاور کی جانب روانہ ہوں گے اور رات گئے پشاور کے مضافاتی علاقے متنی پہنچنے کا امکان ہے۔

7 اکتوبر کو مارچ پشاور کی مختلف شاہراہوں سے گزرے گا اور رات کو چارسدہ انٹرچینج پہنچے گا۔

8 اکتوبر کو شرکا چارسدہ انٹرچینج سے صوابی کے لیے روانہ ہوں گے، جہاں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی لانگ مارچ کے اگلے مرحلے کا اعلان کریں گے۔

جنوبی اضلاع کے قافلے بھی لانگ مارچ کا حصہ

لانگ مارچ میں ڈیرہ اسماعیل خان، شمالی و جنوبی وزیرستان، بنوں، لکی مروت اور ٹانک کے قافلوں کی شرکت کا اعلان کیا گیا تھا۔

تاہم سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں آنے والا بڑا قافلہ یارک انٹرچینج کی بندش کے باعث واپس چلا گیا تھا اور تاحال لانگ مارچ میں شامل نہیں ہوسکا۔

پی ٹی آئی کے مطابق صوابی میں مارچ کے اگلے مرحلے اور آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

urdureport.com@2025. All Rights Reserved

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!