اردو رپورٹ ڈیسک
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندر خیبرپختونخوا میں اختلافات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں۔ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہوں نے اپنا رویہ اور گفتگو نہ بدلی تو وہ ان کے اقتدار میں آنے سمیت مختلف معاملات سے متعلق حقائق سامنے لے آئیں گے۔
وی نیوز کے مطابق علی امین گنڈاپور سے منسوب دو آڈیو پیغامات سامنے آئے ہیں، جن میں سے ایک ایک منٹ 43 سیکنڈ دورانیے کا ہے اور اسے صوبائی کابینہ کے واٹس ایپ گروپ میں شیئر کیے جانے کی اطلاع ہے۔
آڈیو پیغامات میں گنڈاپور سہیل آفریدی کے مبینہ بیانات پر شدید برہمی کا اظہار کرتے اور انہیں اپنی حدود میں رہنے کی تنبیہ کرتے سنائی دیتے ہیں۔
گنڈاپور نے ایک آڈیو پیغام میں کہا کہ وزیراعلیٰ اپنی زبان کو لگام دیں۔ ان کے بقول وہ پارٹی میں اتفاق اور اتحاد برقرار رکھنے کے لیے خاموش ہیں، لیکن اس طرح کے بیانات برداشت نہیں کیے جائیں گے۔
علی امین گنڈاپور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر برس پڑے
’عمران خان سے ملاقات تمہاری وجہ سے نہیں ہورہی، اگر زبان بند نہ کی تو تمہارے سارے راز بیان کردوں گا‘، علی امین گنڈاپور کا سہیل آفریدی کو کیا گیا آڈیو پیغام لیک https://t.co/onModbZbBW
— WE News (@WENewsPk) October 8, 2026
سہیل آفریدی کے اقتدار میں آنے سے متعلق الزامات
علی امین گنڈاپور نے دھمکی دی کہ وہ سامنے لائیں گے کہ سہیل آفریدی کس طرح وزیراعلیٰ بنے، ان کے اقتدار میں آنے کے لیے مبینہ طور پر کیا شرائط طے ہوئیں اور انہیں اس منصب تک پہنچانے میں کن افراد کا کردار تھا۔
انہوں نے کہا، ’’خدا کی قسم، ایسا بے نقاب کروں گا کہ تم کیسے آئے ہو، کس شرط پر آئے ہو اور تمہیں کون لایا ہے؟‘‘
سابق وزیراعلیٰ نے 26 نومبر 2025 کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سہیل آفریدی کو اس روز ایک اعلان کرنا تھا، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔
گنڈاپور نے سہیل آفریدی کو ’’خودساختہ ٹیپو سلطان‘‘ اور ’’میڈ اِن چائنا‘‘ بھی قرار دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ معاملات طے ہونے کے بعد جان بوجھ کر تاخیر کی گئی اور یہ مبینہ طور پر پہلے سے طے شدہ سیاسی حکمت عملی کا حصہ تھا۔
عمران خان سے ملاقاتوں کے معاملے پر بھی تنقید
آڈیو پیغامات میں علی امین گنڈاپور نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقاتوں کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عمران خان سے ملاقاتیں نہ ہونے میں سہیل آفریدی کا کردار ہے۔
گنڈاپور نے مزید دعویٰ کیا کہ ان کے پاس بشریٰ بی بی کے ان پیغامات کا ریکارڈ موجود ہے جو مبینہ طور پر سہیل آفریدی کو اقتدار میں لانے والے شخص سے متعلق تھے، جبکہ اس معاملے پر ہونے والی گفتگو کی تفصیلات بھی ان کے پاس محفوظ ہیں۔
انہوں نے سہیل آفریدی پر بشریٰ بی بی کی بیٹی کی ملاقاتیں بند کروانے میں کردار ادا کرنے کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ ان تمام معاملات سے متعلق ریکارڈ ان کے پاس موجود ہے۔
تاہم آڈیو پیغامات میں ان الزامات کے حق میں کوئی دستاویزی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
دوسرا آڈیو پیغام اور سخت پیغام حذف کرنے کا انکشاف
دوسرے آڈیو پیغام میں علی امین گنڈاپور نے بتایا کہ انہوں نے تنازع کے حوالے سے ایک سخت پیغام تحریر کیا تھا، لیکن اس خدشے کے باعث اسے حذف کردیا کہ وہ ذرائع ابلاغ تک پہنچ جائے گا۔
انہوں نے کہا، ’’میں نے پیغام تو بڑا کرارا لکھا تھا، لیکن اس لیے حذف کردیا کہ یہ لیک ہو کر میڈیا پر چلا جائے گا۔ یہاں سے چیزیں لیک ہوتی ہیں۔‘‘
گنڈاپور نے غیرذمہ دارانہ رویے اور گفتگو پر تنقید کرتے ہوئے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ان کے پاس مختلف معاملات کا ریکارڈ موجود ہے اور وہ چاہیں تو کئی افراد کو بے نقاب کرسکتے ہیں۔
عمران خان اور پارٹی کے لیے خاموش رہنے کا دعویٰ
سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ عمران خان اور پارٹی کے موجودہ حالات کے پیش نظر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، تاہم اس خاموشی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔
ان کے مطابق، ’’ہم خان صاحب کی وجہ سے اور پارٹی کے حالات کی وجہ سے خاموش ہیں، لیکن اس طرح کی زبان اور اتنے بڑے الزامات برداشت نہیں کروں گا۔‘‘
گنڈاپور نے کہا کہ انہیں مختلف عہدوں پر فائز افراد کے کردار اور معاملات کا علم ہے اور احسان فراموشی کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پہلے تحریری پیغام میں انہوں نے تمام معاملات پر کھل کر بات کی تھی، لیکن پارٹی کے مفاد میں اسے حذف کردیا۔
سہیل آفریدی کو دوبارہ سخت تنبیہ
دوسرے آڈیو پیغام میں گنڈاپور نے سہیل آفریدی کو خبردار کیا کہ وہ اتنی ہی بات کریں جتنی برداشت کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر انہوں نے تمام معاملات سامنے لانے شروع کردیے تو متعلقہ افراد کے لیے اپنا دفاع کرنا مشکل ہوجائے گا۔
گنڈاپور نے سہیل آفریدی کو مشورہ دیا کہ وہ دوسروں کے بارے میں باتیں کرنے کے بجائے اپنی کارکردگی پر توجہ دیں اور عملی طور پر کچھ کرکے دکھائیں۔
آڈیو پیغام کے اختتام پر انہوں نے سہیل آفریدی کو احسان فراموش قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ لحاظ کرتے ہوئے خاموش ہیں، لیکن دوسری جانب ان کے خلاف باتیں کی جارہی ہیں۔


