اردوEnglish
ہفتہ, 17 اکتوبر 2026
  • Home  
  • روس سے پاکستان طاعون منتقلی کا خطرہ : وزارت صحت نے تفصیل بتا دی
- صحت و تندرستی

روس سے پاکستان طاعون منتقلی کا خطرہ : وزارت صحت نے تفصیل بتا دی

وفاقی وزارت صحت نے روس کے سائبیریا میں ایک لیبارٹری ملازمہ کی ہلاکت کے بعد پاکستان میں طاعون پھیلنے کا خطرہ انتہائی کم قرار دیا ہے۔ تمام داخلی راستوں پر سرحدی صحت کے حکام کو چوکس کر دیا گیا ہے۔

اردو رپورٹ ڈیسک

اسلام آباد، 9 اکتوبر 2026: وفاقی وزارت صحت نے روس کے علاقے سائبیریا میں طاعون کے مشتبہ کیس سے متعلق خدشات کے بعد پاکستان میں اس بیماری کے پھیلنے کا خطرہ انتہائی کم قرار دیا ہے۔

وزارت صحت کے ایک عہدیدار کے مطابق، ملک کے تمام داخلی راستوں پر سرحدی صحت کی خدمات کے ادارے کو الرٹ کر دیا گیا ہے، جبکہ قومی ادارہ صحت میں طاعون کی تشخیص کی صلاحیت بھی موجود ہے۔

وزارت صحت اور قومی ادارہ صحت صورتحال سے آگاہ

محکمہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ وزارت صحت اور قومی ادارہ صحت دونوں روس میں پیش آنے والے واقعے سے آگاہ ہیں۔

عہدیدار کے مطابق، عالمی ادارۂ صحت کے پاس بھی اس مشتبہ کیس سے متعلق تاحال مکمل معلومات موجود نہیں تھیں۔

روسی لیبارٹری ملازمہ کی ہلاکت کے بعد خدشات

طاعون سے متعلق خدشات اس وقت سامنے آئے جب سائبیریا اور مشرق بعید کے انسدادِ طاعون تحقیقی ادارے میں کام کرنے والی 28 سالہ لیبارٹری ملازمہ داریا شپلووا 2 اکتوبر کو انتقال کر گئیں۔

روسی حکام نے ابتدائی طور پر ان کے رابطے میں رہنے والے تقریباً 200 افراد کو قرنطینہ میں رکھا تھا۔ بعد ازاں حکام نے بتایا کہ تقریباً 5 ہزار لیبارٹری ٹیسٹ کیے گئے، جن میں ان کے رابطے میں رہنے والے افراد میں طاعون کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔

حکام کے مطابق، ان افراد میں سے 90 فیصد کو قرنطینہ سے فارغ کر دیا گیا۔

روس میں وبا پھیلنے کا خطرہ نہیں، حکام

روس کے صحت کے نگران ادارے نے بدھ کے روز کہا کہ وبا پھیلنے کا کوئی خطرہ نہیں اور احتیاطی اقدامات میں بتدریج کمی کی جا رہی ہے۔

داریا شپلووا کی موت کی وجہ طاعون ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔ اگرچہ ایک علاقائی گورنر نے ابتدا میں امکان ظاہر کیا تھا کہ وہ اس بیماری سے متاثر ہوئی ہوں گی، تاہم روس کے صحت کے نگران ادارے کے مطابق ان کی موت نمونیا کی ایک غیر متعین قسم کے باعث ہوئی۔

طاعون کیسے پھیلتا ہے؟

طاعون ایک جرثومے یرسینیا پیسٹس (Yersinia pestis) کے باعث ہوتا ہے۔ یہ بیماری متاثرہ پسو کے کاٹنے یا سانس کے ذریعے خارج ہونے والے متعدی ذرات سے انسانوں میں منتقل ہو سکتی ہے۔

بیماری کی بروقت تشخیص اور اینٹی بایوٹک ادویات کے ذریعے علاج سے انفیکشن کا مؤثر طور پر علاج کیا جا سکتا ہے۔

urdureport.com@2025. All Rights Reserved

Your license hasn’t been activated yet. Activate it now!